پھر افسر معطل : کیا سارا نظام بیوروکریسی چلا رہی ہے؟

لاہور (محمد دلاور چودھری) مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پٹرول بحران پر سیکرٹری آئل اینڈ گیس سمیت 4 افسروں کو معطل کرکے کسی حد تک اور پھر وزیر داخلہ نے کھلم کھلا یہ اعتراف کرلیا ہے کہ وزیر پٹرولیم کے دعو¶ں کے برعکس یہ حکومت کی غلطی سے ہوا۔ (وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کہتے رہے ہیں کہ پٹرول سستا ہونے کی وجہ سے اسکی ڈیمانڈ میں 25 فیصد اضافہ ہوا اور زیادہ پٹرول منگوا کر اسے سٹور کرنا ممکن نہیں تھا۔ یعنی پٹرول کی قلت کسی کی فوری غلطی نہیں تھی) حکومتی اعتراف اور محض افسروں کی معطلی کے فیصلے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ کیا یہ سب اس مرتبہ بھی سول انتظامیہ کا ہی کیا دھرا ہے اور اس میں وزیر پٹرولیم سمیت کسی سیاستدان کا کوئی قصور نہیں؟ مسلم لیگ (ن) کے دور میں اکثر کسی غلطی، کمی یا کوتاہی کا نزلہ افسروں پر ہی گرتا ہے تو کیا حکومت کا سارا نظام (جس میں وزارتوں کی پالیسی میکنگ بھی شامل ہے) کیا صرف بیوروکریسی ہی چلا رہی ہے اور اگر ایسا ہے تو ایسا کیوں ہے اور وزیراعظم وزراءسے کارکردگی رپورٹ کیوں مانگتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر مسلم لیگ (ن) کے تھنک ٹینک اور وزرا کی کارکردگی کیا ہے؟ وزیراعظم کے بار بار کہنے کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عام آدمی تک منتقل کیوں نہیں ہو پا رہے؟ دو برس ہونے کو آئے ابھی تک چند میگاواٹ بجلی بھی نیشنل گرڈ میں شامل کیوں نہیں ہوسکی؟ سانحہ ماڈل ٹا¶ن کی ذمہ دار بھی بیوروکریسی ہے؟ عمران کے دھرنے اور احتجاج کو سیاسی طور پر مِس ہینڈل کس نے کیا؟ آرمی پبلک سکول کے سانحہ کو ایک ماہ سے زائد ہوگیا، 20 نکاتی ایکشن پلان بھی اتفاق رائے سے بن چکا ہے لیکن یہ ابھی تک فوجی عدالتوں کے قیام کے سوا آگے کیوں نہیں بڑھ سکا؟ اور سب سے بڑھ کر عوام میں حکومت کے حوالے سے بے چینی کی فضا کیوں بڑھ رہی ہے؟ اور کیا اوگرا کا کام محض قیمتیں بڑھانا ہی رہ گیا ہے اور کیا متعلقہ سیاسی لوگ بھی کوئی اِن پٹ نہیں دے پا رہے؟ اگر ریگولیٹری ادارے وزیراعظم کو 4 ہفتے قبل بحران سے آگاہ کر دیتے تو وہ اس کا پہلے کچھ انتظام کرتے انہیں ہنگامی طور پر سعودی عرب نہ جانا پڑتا۔ یاد رہے کہ پٹرول کا بحران ایک بار پہلے بھی آ چکا ہے۔ یہاں یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ ریگولیٹری اداروں، متعلقہ وزیر اور حکومت نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا۔ کیا کبھی اس ملک میں کسی بحران کی ذمہ داری سیاسی طور پر لینے کا رواج پڑے گا یا ”بلیم گیم“ اسی طرح جاری رہے گی اور آخر میں چند افسروں کو ہٹا کر معاملہ دبا دیا جائے گا۔ افسروں کو معطل کرنے کی بجائے حکومت کو ہر ایشو پر ماہرین کا تھنک ٹینک تشکیل دیکر پائیدار پالیسی بنانا ہوگی کیونکہ دہشت گردی سے لیکر توانائی بحران تک ملکی ایشوز اتنے گھمبیر ہیں کہ وہ ”کچن کیبنٹ“ کے چار پانچ لوگوں کہ جن کا کوئی خاص تجربہ بھی نہیں ہے، کے مشوروں سے حل نہیں ہونگے۔ ایسا نہ ہوا تو حکومت کے ”غائب“ مسائل ”حاضر“رہیں گے اور افسر معطل ہوتے رہیں گے۔
کون ذمہ دار؟