مضبوطی کی جانب گامزن جماعتی نظام؟

راﺅ شمیم اصغر
الیکشن 2013ء میں کون کس کے مقابلے میں ہے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد منظر واضح ہو گیا ہے۔ ابھی پندرہ سال قبل تک جنوبی پنجاب کی سیاست وڈیروں کے گرد گھوما کرتی تھی۔ یہ جاگیردار اور وڈیرے جس پارٹی میں جاتے تھے اس کا پلڑا بھاری ہو جاتا تھا۔ ڈیرہ غازیخان‘ راجن پور‘ مظفرگڑھ‘ رحیم یار خان اور بہاولپور میں سیاسی خانوادے بڑی اہمیت کے حامل تھے اور ضلع ملتان میں بھی چند بڑے خاندان جن میں قریشی‘ گیلانی سرفہرست ہیں ان کے گرد ہی سیاست گھومتی تھی لیکن اب صورتحال کافی حد تک تبدیل ہوگئی ہے۔ دھڑے بندی کی سیاست اگرچہ اب بھی موجود ہے لیکن سیاسی پارٹیوں کا انتخابات میں کردار بڑا واضح ہو گیا ہے۔ ربع صدی قبل سیاسی جماعتیں ان سیاسی خانوادوں کی سیاسی وابستگی کی مرہون منت ہوا کرتی تھیں۔ اب یہ سیاسی خانوادے پارٹی ٹکٹوں کے محتاج دکھائی دیتے ہیں۔ وہ لوگ جو سیاسی جماعتوں سے اپنی من مرضی کے فیصلے کروایا کرتے تھے اس مرتبہ بھی کوشاں رہے لیکن اب انہیں مضبوط ہوتے جماعتی نظام کے سامنے سر جھکانا ہی پڑا ہے۔ 2008ءمیں سید یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں الیکشن لڑنے والے ملک سکندر حیات بوسن آٹھ نو ماہ تک مسلم لیگ (ن) سے اپنی شرائط منوانے کے لئے کوشش کرتے رہے۔ آخرکار دو روز قبل انہوں نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ اور انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ شجاع آباد کے سابق سینیٹر سید جاوید علی شاہ بھی کسی حد تک اپنے مطالبات سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ صرف مسلم لیگ (ن) نے ہی نہیں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی کئی مقامات پر اپنی مرضی کے فیصلے کئے ہیں۔ جس کی وجہ سے تینوں جماعتوں میں ٹکٹیں نہ ملنے والوں کی جانب سے ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شجاع آباد میں پیپلز پارٹی کے سلیم الرحمن می¶ تقریباً ایک سال سے الیکشن لڑنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے بھائی سید احمد مجتبیٰ گیلانی کو کھڑا کیا تو سلیم الرحمن می¶ بغاوت پر اتر آئے لیکن سید یوسف رضا گیلانی نے بروقت انہیں منا لیا۔ مسلم لیگ (ن) نے سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام کو ٹکٹ دیا تو مسلم لیگ (ن) کے 2008ءکے ٹکٹ ہولڈر اور ان کے کزن ڈاکٹر خاور علی شاہ نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تحریک انصاف نے پی پی 197 میں سابق صوبائی وزیر الحاج سعید احمد قریشی کو ٹکٹ دیا ہے تو ان کے داماد ندیم قریشی جو عرصہ ایک سال سے الیکشن کی تیاریاں کر رہے تھے بغاوت پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کے کراچی کے جلسہ عام کے دوران مخدوم جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو ان کے ایم پی اے شاہد محمود خان بھی مستعفی ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔ تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ کو ان کی یہ قربانی متاثر نہیں کر پائی اور انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا۔درگاہ حضرت شیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم عباس اکبر مونی شاہ دو تین ماہ قبل مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے تو ٹکٹ کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی مقامی پوری قیادت اور ملک سکندر حیات بوسن کی ہر ممکن کوشش کے باوجود انہیں ٹکٹ نہیں دیا گیا بلکہ اس حلقہ سے الیکشن 2008ءکے اپنے ٹکٹ ہولڈر ملک محمد علی کھوکھر کو ٹکٹ جاری کر دیا ہے ۔اس صورتحال میں مخدوم عباس اکبر مونی شاہ سخت پریشان ہیں ۔ پی پی 196 میں حاجی الطاف بلوچ طویل عرصے تک مسلم لیگ (ن) کے رانا نورالحسن مرحوم اور پھر ان کے صاحبزادے سابق ایم این اے رانا محمود الحسن کے ساتھ رہے۔ انہوں نے پی پی 196 کے لئے ٹکٹ مانگا تھا لیکن پارٹی نے 2008ءمیں اس حلقہ سے جیتنے والے وحید ارائیں کو دوبارہ ٹکٹ دے دیا ہے۔ حاجی الطاف چونکہ طویل عرصہ تک رانا خاندان کی جانب سے کرتا دھرتا رہے ہیں اب وہ بغاوت کر چکے ہیں اور آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی ملتان شہر کے سابق صدر عبدالقادر قادری کے صاحبزادے منظور قادر قادری پی پی 195 سے 2008ءمیں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے ہیں۔ اس مرتبہ بھی وہ امیدوار تھے لیکن پارٹی نے ٹکٹ حاجی یعقوب انصاری کو دے دیا ہے لہٰذا منظور قادر قادری بھی مستقبل کیلئے راہیں متعین کرنے کے بارے میں سوچ بچار میں مصروف ہیں۔ پی پی 195 میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما شیخ عمران لیاقت پارٹی میں ہمیشہ متحرک رہے۔ اب انہیں پارٹی کی جانب سے ٹکٹ نہیں ملا حالانکہ ٹکٹ کیلئے ان کے حامیوں نے درجنوں مظاہرے کئے‘ اجتماعات منعقد کئے۔ وہ اب کس ردعمل کا اظہار کرتے ہیں اس کا فیصلہ ایک دو روز میں ہو جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک سابق ایم این اے حاجی محمد بوٹا کے صاحبزادے محمد عارف بوٹا بھی پی پی 195 سے امیدوار تھے۔ انہوں نے بھی ٹکٹ کے حصول کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دی اور پارٹی کے سابق اراکین پارلیمنٹ کا کچا چٹھہ بھی قیادت کے سامنے کھول کر رکھ دیا تھا لیکن پھر بھی ٹکٹ حاصل نہ کر پائے وہ بھی شدید مایوسی کے عالم میں ہیں۔ پی پی 198 میں ٹکٹ ہولڈر شہزاد مقبول بھٹہ کے علاوہ یہاں سے شاہد مختار لودھی بھی ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ پارٹی کی ساری مقامی قیادت مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ کے مرکزی قائدین تک نے ان کے لئے زور لگایا۔ انہوں نے گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ میں درجنوں انتخابی جلسے بھی منعقد کئے۔ ان کے حامیوں نے مظاہرے بھی کئے بلکہ ریلوے لائن پر بھی جا کر لیٹ گئے لیکن پارٹی قیادت متاثر نہ ہو سکی۔ ان کی جانب سے کیا فیصلہ سامنے آتا ہے اور وہ کس ردعمل کا اظہار کرتے ہیں اس کا فیصلہ ایک دو روز میں ہو جائے گا۔ ضلع ملتان میں ایک اور بھی انوکھا کام ہوا ہے۔ پارٹی نے پی پی 200 کیلئے سابق ایم پی اے جو سید یوسف رضا گیلانی کے قریبی ساتھی تھے اور ان کے نیچے ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔ چند ماہ قبل اختلافات کے باعث مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے تھے۔ پارٹی نے انہیں پی پی 200 کیلئے ٹکٹ کا اعلان بھی کر دیا تھا اور ملک سکندر حیات بوسن کے مسلم لیگ (ن) میں شامل نہ ہونے کی صورت میں انہیں ایم این اے کا ٹکٹ بھی دئیے جانے کے امکانات تھے۔ اب اطلاعات کے مطابق پی پی 200 کو خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔