عام انتخابات اور 30لاکھ کشمیری ووٹر

 سلطان سکندر
بہت آگے گئے ،باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں“ کے مصداق11مئی کو ہونے والے پاکستان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے سیاسی اکھاڑے میں آزاد کشمیر کے سیاسی پہلوان بھی اتر چکے ہیں اور جو ابھی تک نہیں اترے انہوں نے بھی لنگر لنگوٹ کس لیے ہیں،پاکستان میں تقریباً 30لاکھ ووٹروں کو ووٹ کا دوہرا حق حاصل ہے اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی بارہ کشمیری نشستوںکے علاوہ پاکستانی اور بلدیاتی انتخابات میں بھی حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں ایک اندازے کے مطابق مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان20لاکھ اور باشندگان آزاد کشمیرمقیم پاکستان10ملاکھ کی تعدادمیں پاکستان کے چاروں صوبوں میں مقیم ہیں اس طرح کشمیری سیاسی اور مذہبی جماعتیں پاکستان میں بھی سرگرم عمل ہیں جبکہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن،ایم کیو ایم اور تحریک انصاف نے بھی خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے کے مصداق آزاد کشمیرمیں اپنی شاخیں قائم رکھی ہیں جمعیت علماءجموں وکشمیر آل جموں وکشمیر جے یو آئی اور جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کی تنظیمیں تکنیکی اعتبار سے جے یو پی ،جے یو آئی (ف) اورجماعت اسلامی پاکستان کا تنظیمی حصہ نہ ہونے کے باوجود عملاً یک جان دو قالب کی طرح ہیں اور ان کے ووٹ بینک میں تفریق نہیں ہے جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی ملی یکجہتی کونسل کے مرحوم صدر قاضی حسین احمد ؒ کی زندگی میں ہی آزاد کشمیر میں بھی ملی یکجہتی کونسل کی شاخ کے قیام اور بعدازاں حکومتی چھتری تلے کل جماعتی کشمیر رابطہ کمیٹی کی تشکیل کے ذریعے آل جموں وکشمیر جے یو آئی کے امیر مولانا سعید یوسف کواپنے بہت قریب لا چکے ہیں لیکن پاکستان کی انتخابی سیاست میں وہ سید منور حسن اور مولانا فضل الرحمن کی حمایت کرتے ہوئے اک ندی کے دو ساحلوں کی طرح دور رہ کر نبھا کریں گے دوسری طرف جمعیت علماءجموں وکشمیر کے صدر مولانا پیرمحمد عتیق الرحمن مرکزی جماعت اہل سنت پاکستان کی سپریم کونسل کے چیئرمین ہیں اور آزادکشمیر میں پیپلز پارٹی کے حلیف ہونے کے با وصف پاکستان کے انتخابات میں محب وطن اور نظریہ پاکستان کی حامی قوتوں کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے سرد و گرم چشیدہ کشمیری راہنما اور اس وقت کے صدر آزاد جموں وکشمیر سردارمحمد عبدالقیوم خان کے حرف انکار کے بعدپیپلز مسلم کانفرنس کی بجائے پیپلز پارٹی کی شاخ قائم کی تھی جو اب تیسری بار اقتد ارمیں ہے اور یوں دوسری نسل میں منتقل ہو چکی ہے پیپلز پارٹی کی طرح میاں نواز شریف نے بھی بانی حضرت قائد اعظم کی کشمیر پالیسی کے منافی آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کی شاخ قائم کی جس نے گذشتہ عام انتخابات میں طوفانی انتخابی مہم کے باوجود اسمبلی میں دوسری پوزیشن حاصل کی اس سے پہلے مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے اتحادی حامد ناصڑ چٹھہ بھی میجر جنرل (ر) محمد حیات خان مرحوم کے ذریعے مسلم لیگ ج کے قیام کی سعی لا حاصل کر چکے تھے اندریں حالات پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر کے صدر سابق وزیر اعظم اور قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ فاروق حیدر خان اور ان کے اتحادی جموں وکشمیر پیپلز پارٹی کے صدر سردار خالد ابراہیم خان نے راولپنڈی سے مسلم لیگ ن کے انتخابی مہم میں شریک ہو کر اپنے جماعتی اور کارکن کو متحرک کر دیا ہے وہ پنجاب کے علاوہ کراچی کا انتخابی دورہ کریں گے راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ مجھے سابق وزیر امور کشمیر میاں منظوراحمد وٹو کے آبائی ضلع اوکاڑہ کے انتخابی دورے کی دعوت ملی ہے میں وہاں جا کر لوگوں کو آزادکشمیر کو فتح کرنے کے سلسلے میں ان کے کارناموں سے آگاہ کروں گا۔سابق وزیر اعظم اور صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کی صدارت میں منعقدہ مسلم کانفرنس کے اجلاس میں پاکستان کے انتخابات کے بارے میں لائحہ عمل طے کرنے کے لیے صدر جماعت کو اختیارات تفویض کیے جانے کے باوجودانہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی اور کہا کہ پاکستان کی بڑی جماعتوں نے مسئلہ کشمیر پر واضح موقف اختیار نہیں کیا ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر اور وزیر ٹرانسپورٹ محمدطاہر کھوکھر پاکستان میں ایم کیو ایم کی حمایت میں ہمیشہ سر بکف رہتے ہیں و ہ اپنے ساتھی وزیر محمد سلیم بٹ کے ساتھ ایم کیو ایم کی انتخابی مہم میں نکل پڑے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے آتش بجان رابطہ کارزاہد حسین عباسی عمران خان کی حمایت کے لیے پر عزم ہیں رہامسئلہ آزادکشمیر کی حکومت اور پیپلز پارٹی کا تو وہ حکومتی وسائل اورکیل کانٹے سے لیس ہو کر پاکستان کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بے تاب ہے وزیر اعظم آزادکشمیر چوہدری عبدالمجید و زراءکی ٹیم کے ہمراہ گذشتہ ماہ گوجرانوالہ کا دورہ کر چکے ہیں سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا کہنا ہے کہ مجھے پاکستان میں کشمیر ی حلقوں کے لیے انتخابی مہم کا انچارج بنایا گیا ہے میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے لیے کردار ادا کروں گا ،´صدر ریاست سردار محمد یعقوب خان ، سینئر وزیر چوہدری محمد یاسین اور سپیکر سردار غلام صادق بھی وزیروں مشیروں رابطہ کاروںکی فوج ظفر موج کے ہمراہ پاکستان کی انتخابی مہم میںشرکت کے لیے پر عزم ہیں سپیکر سردار غلام صادق خان کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر کے عام انتخابات کی مہم میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور نواز شریف نے سرکاری وسائل کے ساتھ شرکت کی تھی اس لیے آزادکشمیر کے حکمرانوں کی پاکستان کی انتخابی مہم میں حصہ لینے پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا آذادکشمیر کی اپوزیشن پہلے ہی آزادکشمیر حکومت کی گاڑیاں زرداری ہاﺅس کے زیر استعمال ہونے پرمعترض ہے اب آزادکشمیر کے حکمرانوں کی ہوٹر والی گاڑیاں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی جلسوں میں جائیں گی تو پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں اس پر کیا ردعمل ظاہر کر یں گی اور آزاد و خود مختار الیکشن کمیشن آف پاکستان کیا نوٹس لے گا؟