خیبر پی کے میں چار دیواری کے اندر انتخابی مہم پر اتفاق‘ امیدواروں کو ایف سی اہلکار ملیں گے

پشاور (نوائے وقت نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) خیبر پی کے میں امن و امان کی صورتحال پر نگران وزیراعلیٰ طارق پرویز کی زیر صدارت آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں افراسیاب خٹک‘ میاں افتخار حسین‘ اقبال ظفر جھگڑا‘ اعظم آفریدی‘ ایوب شاہ‘ شبیر احمد خان سمیت دیگر رہنما¶ں نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ طارق پرویز نے کہاکہ الیکشن کیلئے امن و امان سے متعلق لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ خیبر پی کے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی دشمن نے حملہ کر دیا ہے اور ہم حالت جنگ میں ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ خیبر پی کے نے مزید کہا کہ بازاروں مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ انتخابی امیدواروں کو بھی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اطلاعات خیبر پی کے نے بتایا کہ اے پی سی میں چار دیواری کے اندر انتخابی مہم پر اتفاق کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا پشاور کی سکیورٹی فاٹا سے لنک ہے۔ اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتوں نے امن و امان سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ سکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے گا۔ نگران وزیراعلیٰ نے جلسے کا وقت محدود کرنے کی سفارش کی اور صدر سے ایف سی کو دوبارہ لینے کی بھی سفارش کی۔ فیصلہ کیا گیا کہ امیدوار کو ایف سی اہلکار فراہم کئے جائیں گے۔ کوئیک ریسپانس فورس تعینات کی جائے گی اور سکیورٹی اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ غلام احمد بلور نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ حملوں کے باوجود انتخابات سے دستبردار نہیں ہونگے۔ علماءکرام فتویٰ دیں مسلمان کو مارنے والا مسلمان نہیں۔ اے پی اے کے مطابق غلام احمد بلورنے کہا ہے کہ اگر اب ان کے خاندان یا پارٹی کارکنوں کو کچھ ہوا تو ایف آئی آر صدر پاکستان، آرمی چیف، چیف جسٹس، الیکشن کمیشن اور ان لوگوں کے خلاف کٹوائیں گے جو صورتحال پر خاموش ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے ہر دور میں قربانیاں دیں ہیں اور آئندہ بھی کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، ہم پاکستان کی سالمیت، بقا اور امن کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم مسلمان اور پختون ہیں، میدان چھوڑ کر بھاگنے والے نہیں۔ دہشت گردوں سے نہیں ڈرتے اگر ان کا اسلام انہیں قتل کرنے سے نافذ ہوتا ہے تو وہ تیار ہیں لیکن دہشت گرد بشیر بلور کے بیٹے اور ان کے بھتیجے ہارون بلور کی جانب نہ آئیں۔ دہشت گرد مجھے قتل کر دیں لیکن میرے بچوں اور جوانوں کو معاف کریں۔ بی بی سی کے مطابق غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ پاکستان میں کچھ طاقتیں ایسی ہیں جو اقتدار میں آنا چاہتی ہیں اور وہ طالبان کے ساتھ مل کر انہیں راستے سے ہٹانا چاہتی ہیں۔ ہم 1973ءکے آئین کی بات کرتے ہیں اور ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کی بات کرتے ہیں۔ لیکن ہم م±لا نہیں ہیں اور ان کو تکلیف یہ ہے کہ ہم م±لا کیوں نہیں ہیں۔