بیٹے کے لئے پارٹی ٹکٹ کا فیصلہ شریف گجر کی خدمات کا اعتراف

 احمد کمال نظامی
    مسلم لیگ ن کے مخلص سیاسی کارکن چوہدری محمد شریف گجر جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہو گیا تھا، میاںنوازشریف نے ان کی وفات کے بعد این اے79 سمندری سے پارٹی ٹکٹ کا فیصلہ ان کے بیٹے کے حق میں کر کے پارٹی کیلئے ان کی خدمات کے اعتراف کیا ہے۔پارٹی ٹکٹ کا فیصلہ مارچ کے آخری ہفتے سے مسلسل زیر التوا تھا کہ اس حلقہ میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ارادے سے مسلم لیگ ہم خیال کے جنرل سیکرٹری ہمایوں اختر خان نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروارکھے تھے ۔ہمایوں اختر خان کو لاہور سے ان کے پرانے حلقہ ءانتخاب سے ن لیگ کا امیدوار نامزد ہونے کا کوئی امکان تھا اس لئے انہوں نے این اے79سے کاغذات نامزدگی داخل کروا دیئے تھے۔ یہ وہی حلقہ ہے جہاں الیکشن 2008میں جب رانا فاروق سعید خاں نے این اے79اورذیلی نشست پی پی 59سے کامیابی کے بعد پی پی 59کی سیٹ خالی کر دی تھی اورضمنی الیکشن میںپیپلزپارٹی پنجاب کے سابق صدر قاسم ضیاء با آسانی پنجاب اسمبلی کارکن منتخب ہو گئے تھے۔اس حلقہ سے چوہدری محمد شریف کے علاوہ مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر چوہدری صفدر الرحمن اور ذیلی حلقہ پی پی 60سے مسلم لیگ کے الیکشن 2008کے رکن صوبائی اسمبلی راﺅ کاشف رحیم بھی پارٹی ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ میاں نوازشریف نے چوہدری محمد شریف کو کسی مرحلے پرپارٹی ٹکٹ دے کر قومی اسمبلی کارکن منتخب کرانے کاعندیہ دے رکھا تھا لیکن اس حلقہ میں ہمایوں اختر خان جیسے ہیوی ویٹ سیاست دانوں کی ٹکٹ کیلئے دلچسپی کے باعث ایسا ہونا مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ وہ ہر دوسرے روز اپنے حلقہ انتخاب سے ماڈل ٹاﺅن لاہور کا چکر لگاتے تھے اور اسی دوران ایک روز جب انہیں میاں نوازشریف نے این اے79سے پارٹی ٹکٹ کا گرین سگنل دے دیا تو وہ یہ خبر لے کر لاہور سے سمندری آنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ راستے میں ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا اور وہ اپنے ڈرائیور سمیت جاں بحق ہو گئے ۔چوہدری محمدشریف کی وفات کی خبر پر سب سے پہلے اپنے دلی دکھ کااظہار کرنے والوں میں میاں نوازشریف کانام سر فہرست تھا۔ انہوںنے بعد میں ہفتہ عشرہ میں این اے79سے چوہدری محمدشریف گجر کے کورنگ امیدوار ان کے بیٹے شہباز بابر گجر کو پارٹی ٹکٹ دینے کااعلان کردیا۔ اس طرح ہم خیال گروپ کی اس نشست پر انتخابی ایڈجسٹ منٹ نہ ہو سکی ۔سمندری میں مرحوم چوہدری محمدشریف گجر کے لواحقین کو ان کی ناگہانی وفات کاپرسہ دینے کے لئے اس قصبے کا دورہ کیا اورشہباز بابر گجر کے حوالے سے کہا کہ انشاءاللہ وہ سمندر ی سے مستقبل کے رکن قومی اسمبلی ہوں گے۔ چوہدری شہباز بابر گجر کا مقابلہ پیپلزپارٹی کے سابق وفاقی وزیر رانا فاروق سعید سے ہے اور چونکہ سمندری میں میاں نوازشریف کی آمد پر بہت بڑی تعداد میں لوگ وہاں جمع ہوگئے تھے ، اس دوران آصف علی زرداری‘ راجہ پرویز اشرف اور رانا فاروق سعید خان کو سابقہ حکومت کی کارکردگی پر صلواتیں سنائی جارہی تھیں۔میاں نوازشریف نے کہا کہ انہیں شدت سے احساس ہے کہ ماضی قریب کے حکمرانوں نے اس ملک کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے کرب سے دو چار کرنے کے ساتھ ساتھ غربت ‘ افلاس‘ بیروزگاری اور محرومیوں کی دلدل میں دھکیل دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ 11مئی کو ملک میں مسلم لیگ نواز کے اقتدار کا ہی نہیں عوام کی خوشحالی اور ملکی ترقی کا سورج طلوع ہوگا۔ پیپلزپارٹی نے ملک کے عوام کے ساتھ جو ناانصافیوں کی ہیں‘ عوام 11مئی کو اس کاحساب چکادیں گے۔ میاں نوازشریف نے کہا کہ ان کی پارٹی اقتدار میں آکر ملک کی تقدیر بدل دے گی۔ ملک کو بجلی کی خوفناک لوڈ شیڈنگ سے نجات مل جائے گی۔
جس روز میاں نوازشریف سمندری میں اس حلقے سے 11مئی کے نئے سورج کے طلوع ہونے کی خبر دے رہے تھے ‘ دن کے گیارہ بجے ملک بھر کے ٹی وی چینلز سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین اورسابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم کی وفات کی خبر بھی نشر کررہے تھے۔صاحبزادہ فضل کریم نے اپنے عنفوان شباب میں الیکشن 1977ءمیں اس وقت کی حکمران پیپلزپارٹی کی قومی اسمبلی کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں شامل ہو کر اپنی پرجوش تقریروں اور ولولہ انگیز قیادت سے اس احتجاجی تحریک کو تحریک نفاذ اسلام مصطفی میں تبدیل کردیاتھا۔انہوں نے جمعیت علمائے پاکستان کے پلیٹ فارم سے سیاسی زندگی کاآغاز کیا لیکن الیکشن میں ہمیشہ مسلم لیگ کی حمایت سے اور اس کے انتخابی نشان پرکامیاب ہوتے رہے۔ وہ دو مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن بنے۔ صوبائی وزیر ا وقاف بھی رہے۔ الیکشن 2002ءاور الیکشن 2008میں ن لیگ کے ٹکٹ پر فیصل آباد شہر کے حلقہ اےن اے82سے رکن قومی اسمبلی ہوئے۔ میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کی جلاوطنی کے دوران وہ ان کی پارٹی میں ایک باصلاحیت رکن اسمبلی کاکردار اداکرتے رہے۔ گزشتہ چند برسوں سے انہیں صوبائی حکومت کی بعض پالیسیوں پرتحفظات پیدا ہوگئے تو انہوں نے خود کو بہت حد تک ن لیگ کی سیاست سے الگ کرلیاتھا۔ ابھی الیکشن 2013کاطبل بجا ہی تھا کہ انہوں نے پہلی مرتبہ مسلم لیگ ن کے انتخابی نشان کے بغیر سنی اتحاد کونسل کے امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کافیصلہ کرلیا۔ ان کے بڑے بیٹے حامد رضا نے این اے82میں ان کے کورنگ امیدوار کے طورپر کاغذات نامزدگی داخل کرائے۔ وہ مسلم لیگ ن کے امیدوار سمیت اپنے انتخابی حریفوں کوشکست دینے کے لئے پرعزم تھے لیکن اس دوران ق لیگ کے چوہدری برادران انتخابی دورے پر فیصل آباد آئے تو انہوں نے بھی صاحبزادہ کے ساتھ ملاقات میں انہیں اپنی پارٹی کی سیاسی حمایت کا یقین دلایا۔گویا وہ سنی اتحاد کونسل ‘ ق لیگ اور پیپلزپارٹی کے مشترکہ امیدوار تھے۔ صاحبزادہ فضل کریم میاں نوازشریف کا دل سے احترام کرتے تھے لیکن انہیں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے ایک سابق صوبائی وزیر سے بہت زیادہ شکایت تھی۔ انہیں جگر کا عارضہ لاحق تھا‘ ان کی شدید بیماری کے باعث سنی اتحاد کونسل نے ان کے بیٹے صاحبزادہ حامد رضا کو ان کی جگہ این اے82سے امیدوار بنادیا تھا اور اب وہ سنی اتحا د کونسل کے قائمقام چیئرمین بھی بنادیئے گئے ہیں۔مرحوم کی عقیدت اور نیازمندی کے پیش نظر این اے82سے مسلم لیگ اپنے امیدوار رانا محمدافضل کو سابقہ نشست پی پی 66سے الیکشن لڑنے کاکہہ کر این اے82سے کاغذات نامزدگی واپس لے لے تو یہ صاحبزادہ فضل کریم مرحوم کی خدمات کا حقیقی اعتراف ہو گا۔