بھاری بھر کم امیدواروں کے ساتھ میدان لگ گیا

فرخ سعید خواجہ
الیکشن 2013ءپاکستان میں عام انتخابات کی تاریخ میں اس لحاظ سے انوکھا الیکشن ہے کہ الیکشن شیڈول کے مطابق آج 18 اپریل کو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہے لیکن، دو روز قبل تک ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اپنے حتمی امیدواروں کا اعلان نہیں کر سکیں۔ بالخصوص مسلم لیگ ن نے اپنے امیدواروں کے چناﺅ میں ضرورت سے زیادہ احتیاط سے کام لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کم از کم لاہور میں انتخابی ماحول نہیں بن سکا ہے۔
لاہور میں قومی اسمبلی کے 13 اور صوبائی اسمبلی کے 25 حلقوں کے لئے جن لوگوں نے کاغذات نامزدگی داخل کروائے تھے ان میں مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف، صدر پنجاب شہباز شریف، کنوینر لاہور ڈویژن حمزہ شہباز شریف، مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، صدر لاہور پرویز ملک، جنرل سیکرٹری لاہور خواجہ عمران نذیر الیکشن 2008ءمیں لاہور سے منتخب ہونے والے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سمیت سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے کوآرڈی نیٹروں، معاونین اور پارٹی عہدیداروں کے علاوہ جن دیگر سیاسی جماعتوں کے اہم افراد نے کاغذات نامزدگی داخل کروائے تھے، ان میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، صدر مخدوم جاوید ہاشمی، عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد، جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، جمعیت علماءپاکستان نورانی کے سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر، مسلم لیگ فنکشنل کے سیکرٹری جنرل شیخ انور سعید، استقلال پارٹی کے سربراہ سید منظور علی گیلانی نمایاں تھے۔
عجیب بات یہ ہے کہ لاہور میں مسلم لیگ ن کو چیلنج کرنے کی دعویدار پیپلز پارٹی نے اپنے کسی بڑے لیڈر کو لاہور کے کسی حلقے سے آزمائش میں نہیں ڈالا جبکہ لاہور کو مسلم لیگ ن سے چھین لینے کا دعویٰ کرنے والی تحریک انصاف بھی پیپلز پارٹی کے نقش قدم پر دکھائی دی۔ ان کی جماعت سے ماسوائے عمران خان کے کوئی قد آور لیڈر مسلم لیگ ن کے بڑے پہلوانوں کے سامنے نہیں آ سکا۔ ان حالات میں اگر یہ کہا جائے کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن کو لاہور میں واک اوور دے دیا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کا الائنس کاغذوں میں بہت اہمیت کا حامل ہے لیکن لاہور کی سطح پر اس کا بونا پن ثابت ہو گیا ہے۔ اب مسلم لیگ ن کی جیت میں رکاوٹ صرف لاہور کے 43 لاکھ 49 ہزار 812 ووٹروں کی اکثریت ہی حائل ہو سکتی ہے وگرنہ مسلم لیگ ن کی مخالف سیاسی جماعتوں نے ان کی جیت کو ذہنی طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق الائنس اور پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ دیگر جماعتوں کے جو بڑے سیاسی رہنما مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے مقابلے میں آئے ہیں ان میں سب سے نمایاں امیدوار جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ہیں۔ انہوں نے 1988ءاور 1990ءکا الیکشن آئی جے آئی کی ٹکٹ پر نواز شریف کی مسلم لیگ کی حمایت سے لڑا۔ 1988ءمیں انہوں نے 55 ہزار655 ووٹ حاصل کئے ان سے پیپلز پارٹی کے امیدوار خواجہ احمد طارق رحیم صرف 9 سو ووٹوں کی اکثریت سے جیتے جبکہ 1990ءکے الیکشن میں لیاقت بلوچ نے 68 ہزار 943 ووٹ حاصل کئے اور خواجہ طارق رحیم 51 ہزار 58 ووٹ لے کر شکست کھا گئے۔
1993ءمیں جماعت اسلامی ملک میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے مقابلے میں تیسری قوت کی حیثیت سے میدان میں اتری۔ جماعت اسلامی نے پاکستان اسلامک فرنٹ کے نام سے امیدوار کھڑے کئے تاکہ صرف مذہبی نہیں لبرل لوگوں کو بھی جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے سامنے لایا جائے۔ حیرت انگیز طور پر اس الیکشن میں جماعت اسلامی کو بہت بری طرح شکست کا سامنا کرناپڑا۔ لیاقت بلوچ جنہوں نے پچھلے دو انتخابات میں 55 ہزار اور 68 ہزار سے زیادہ ووٹ لئے تھے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے صرف 11 ہزار 10 ووٹ لے سکے۔ الیکشن 2002ءمیں ایک مرتبہ پھر جماعت اسلامی کا مسلم لیگ ن سے اتحاد ہوا تو لیاقت بلوچ نے این اے 126 سے ہی 43 ہزار 679 ووٹ حاصل کئے۔اب ان کا ایک بار پھر مسلم لیگ ن سے ٹاکرا ہے اللہ خیر کرے۔
جماعت اسلامی کے ایک اور اہم رہنما حافظ سلمان بٹ جو کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 میں نواز شریف کے مدمقابل ہیں وہ 1985ءمیں لاہور سے رکن قومی اسمبلی رہے۔ اگرچہ مسلم لیگ ن سے ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں وہ 2002ءمیں بھی این اے 118 سے رکن قومی اسمبلی بنے لیکن 1993ءکے الیکشن میں انہیں نواز شریف کے مقابلے میں صرف 2 ہزار 713 ووٹ ملے تھے۔جمعیت علماءپاکستان نورانی کے سیکرٹری جنرل قاری زوار بہادر اور استقلال پارٹی کے سربراہ سید منظور علی گیلانی اگرچہ نیک نام سیاستدان ہیں لیکن لاہور کی انتخابی سیاست میں ان کی مسلم لیگ ن کے کسی امیدوار کے مقابلے میں کامیابی سیاسی معجزہ ہی قرار پائے گا۔ مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ بظاہر مسلم لیگ ن لاہور میں سیاسی میدان مار لے گی۔