کراچی میں مسیحا موت کے نشانے پر‘....... 157 ٹارگٹ کلنگ کا شکار

ا۔ م
کراچی میں زندگی کے تمام طبقات سے وابستہ اہم شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہر تعلیم‘ وکلائ‘ علمائ‘ سماجی کارکن اور درگاہیں‘ خانقاہیں سب دہشت گردوں کا ہد ہیں‘ لیکن سب سے زیادہ اگر کوئی شعبہ حیات نشانہ بنا ہے تو وہ ڈاکٹر ہیں۔ یعنی دوسروں کو زندگی بخشنے والے مسیحاﺅں کی خود اپنی زندگی موت کے دہانے پر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال ہزاروں ڈاکٹر ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اس کا نقصان یہ پہنچا ہے کہ اب شعبہ طب میں ماہرین کا کال ہے۔ سندھ میں شعبہ صحت کے حالات دگرگوں ہیں۔ شہر میں بچوں کی اموات ہوئیں تو محکمہ صحت نے وہاں تعیناتی کیلئے آسامیوں پر بھرتی کا اعلان کیا تو سینئر ڈاکٹر دستیاب نہ تھے۔ ایک تو پہلے ہی ڈاکٹر کم ہیں اوپر سے سپیشلسٹس کی کمی نے معاملات کو بگاڑ دیا ہے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق گریڈ 1 کی165 آسامیاں گزشتہ کئی برس سے خالی ہیں۔ ان میں بے ہوشی کے ڈاکٹروں کی بیس‘ کارڈیالوجسٹس کی 4‘ ماہر امراض سینہ کی 15‘ اسکن سپیشلسٹس کی 10‘ امراض چشم کے ماہرین کی 15‘ گائناکالوجی کے سینئرز کی 15‘ آرتھو پیڈکس کی 4‘ پیڈیاٹرکٹس کی 12‘ پتھالوجسٹس کی 12‘ فریشنزی 10‘ ماہرین نفسیات کی 3‘ ریڈیالوجٹس کی 8‘ سرجنز کی 12 اور یورو لوجسٹس کی 6 خالی آسامیاں بیان کی جاتی ہیں‘ ان میں سے کچھ تو ریٹائرمنٹ کے باعث خالی ہوئی تھیں‘ لیکن بیشتر متعلقہ ڈاکٹروں کی بیرون ملک منتقلی کے باعث تقرریوں کی منتظر ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق 2001ءسے 2014ءتک کے عرصے کم و بیش 137 ڈاکٹر ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے۔ ماضی میں تاجر‘ صنعتکار اور معروف شخصیات کو نشانہ بنایا جاتا تھا‘ لیکن اب صورتحال قدرے مختلف ہے۔ اب ڈاکٹر بھی اسی فہرست کا حصہ ہیں جن سے بھتہ مانگا جاتا ہے اور عدم ادائیگی پر اغوا یا موت کے خدشات سامنے ہوتے ہیں۔ بھتہ خور جنوبی افریقہ ‘ ملائشیا‘ سنگاپور اور دبئی سے فون کرکے دھمکیاں دیتے ہیں اور موبائل فون اور دیگر ذرائع سے رقم منتقل کرنے کیلئے دباﺅ ڈالا جاتا ہے اور مطالبہ تسلیم نہ کئے جانے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کا اشارہ ملتا ہے۔
کراچی تاجر اتحاد کی لاءاینڈ آرڈر کمیٹی کے چیئرمین احمد شمس نے بتایا کہ مجرموں نے اپنے مخبر مارکیٹوں‘ صنعتی علاقوں میں پھیلا دیئے ہیں جو تاجروں‘ صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے دفاتر‘ گھروں اور راستے سے اغوا کرکے تاجروں کو اغوا کرکے 5 ہزار سے 20 لاکھ تک تاوان وصول کیا اور تاجروں کی رہائی تاوان کی ادائیگی کے 2 سے 3 گھنٹے بعد عمل میں آتی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنوری سے مارچ 2014ءکی سہ ماہی میں کراچی سے 32 افراد اغوا ہوئے جن میں سے 22 ادائیگی تاوان کے بعد آزاد ہوئے جبکہ کئی ڈاکٹر‘ صنعتکار اور بچے رہا نہیں ہو سکے تھے۔
ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا مو¿قف ہے کہ صحت کارکنوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جائے۔ حال ہی میں جناح ہسپتال کراچی کے میڈیکولیگل افسر ڈاکٹر منظور میمن کو قتل کیا گیا۔ وہ اپنی زندگی میں پولیس کو نشاندہی کر چکے تھے کہ انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔ مشتبہ افراد تعاقب کرتے ہیں اور یہ بھی کہ ان کی جان جانے کا خطرہ ہے‘ لیکن پولیس نے کوئی انتظامات نہ کئے۔ ڈاکٹر ٹیپو سلطان کی زیرصدارت اجلاس کے شرکاءنے بہت سے ڈاکٹروں کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حفاظتی انتظامات نہ ہوئے تو ملک گیر احتجاج کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر منظور کی ہلاکت سندھ میں پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل ڈاکٹر جاوید قاضی کو جو کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے پروفیسر آف پتھالوجی تھے‘ کالج سے باہر نکلتے ہوئے مسلح افراد نے شہید کر دیا تھا۔ ہنوز قاتل نہیں پکڑے جا سکے ہیں۔
ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں کو اسلحہ لائسنس دینے پر اغوا کیا جا رہا ہے۔ ہم انہیں اسلحہ چلانے کی تربیت بھی دیں گے۔ پی ایم اے کے وفد سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا ٹارگٹ کلنگ کے باعث ڈاکٹروں کو بغیر کسی قانونی رکاوٹ کے اسلحہ لیکر چلنے کی اجازت دینے سمیت تمام اقدامات پر اغوا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹروں کو اپنے کلینکوں‘ ہسپتالوں اور کام کی جگہوں پر کیمرے نصب کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ رینجرز نے پی ایم اے ہاﺅس میں کرائم رپورٹنگ سیل کے قیام پر بھی اتفاق ظاہر کیا جو 24 گھنٹے کام کرے گا۔ پولیس سے رابطے کے وقت واک کی تشکیل اور کشیدہ صورتحال والے علاقوں میں ذیلی نیٹ ورکس کی بھی منظوری دی گئی جو پی ایم اے ہاﺅس سیل سے رابطے پر رہیں گے۔
اغوا برائے تاوان صرف کراچی کے ڈاکٹروں ہی کا مسئلہ نہیں‘ پڑوسی صوبے بلوچستان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ وہاں بھی جنوری سے 31 مارچ تک 28 ماہر صحت قتل کئے جا چکے تھے۔ اس عرصے میں اغوا ہونے والے ڈاکٹروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان میں پی ایم اے کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اور دیگر صحت کارکن شامل ہیں۔ متعدد ابھی تک ڈاکوﺅں کے چنگل میں ہیں تو 80ءکے لگ بھگ ڈاکٹر اور ٹیچنگ سٹاف صوبہ چھوڑ کر دیگر مقامات کی سمت جا چکے ہیں۔کراچی میں ایک اندزے کے مطابق تاجروں‘ صنعتکاروں اور ڈاکٹروں سے بھتہ اینٹھنے والے کم و بیش 9 ٹولے سرگرم عمل ہیں۔ رقم نہ ادا کرنے پر کلینکوں‘ دفاتر اور گھروں پر حملے کئے جاتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ کراچی آپریشن کے باوجود بھتہ وصولی کے واقعات بڑھے ہیں۔ البتہ سپیشل انویسٹی گیشن سیل کے ذرائع کہتے ہیں کہ اب دھمکیاں کم ہوئی ہیں۔ پہلے روزانہ کی بنیاد پر بھتہ وصولی کے فون آتے تھے جو اب بہت کم رہ گئے ہیں کیونکہ بھتہ خور شہر چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں‘ لیکن متاثرہ افراد کاکہنا ہے کہ سرکاری مو¿قف درست نہیں‘ اب اسکائپ‘ وائبر اور انٹرنیٹ سب جدید ذرائع استعمال ہوتے ہیں۔
کمشنر کراچی شعیب صدیقی کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں کی حفاظت کیلئے بھرپور اقدامات کریں گے۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہیں بتایا گیا کہ 2001ءسے 2013ءتک کے دورانیے میں 83 ڈاکٹر موت کا نشانہ بنے جبکہ 2013ءمیں 19 کیس رجسٹر ہوئے۔ پی ایم ے کا دعویٰ ہے کہ حکومت ڈاکٹروں کے تحفظ میں سنجیدہ نہیں ہے۔ سرجن ڈاکٹر حیدر رضا‘ ہومیو ڈاکٹر قاسم عباس سمیت درجنوں ایسے ڈاکٹر جن کے مجرموں کو سزا ایک طرف ابھی گرفتاری کا عمل بھی شروع نہیں ہوا ہے۔ حادثات‘ واقعات‘ اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار زخمی و ہلاک شدگان کو ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور نیم طبی عملہ علاج معالجے کی سہولت دیتا ہے‘ لیکن جب وہ خود نشانہ بنیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلاامتیاز خدمت کرنے والوں کا آخر کیا قصور ہے۔
سکیورٹی کی ناقص صورتحال ہی کا نتیجہ ہے کہ مجرموں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ وہ ہر لحاظ سے خطرات کی زد میں ہیں۔ اب تو لوگ تحفظ کیلئے پولیس سے رابطے کے بجائے بھتہ خوروں کا مطالبہ پورا کر دیتے ہیں۔ کراچی میں چُن چُن کر مسیحا نشانہ بن رہے ہیں‘ لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔