پولیس بجٹ میں خطیر اضافہ اور نئے آئی جی!

احسان شوکتazee_ahsan@hotmail.com
 پنجاب حکومت نے مالی سال 2014/15کے بجٹ میں محکمہ پولیس کے لیے 81ارب 68کروڑ 39لاکھ 7ہزار روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے جو کہ گزشتہ سال کی نسبت دس ارب روپے زیادہ ہیں۔ مالی سال 2014/15کے بجٹ میں پولیس کی تنخواہوں کی مد میں 68ارب 81کروڑ 34لاکھ 64ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔یوں پولیس کے بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں کی نظر ہو گا ۔اس کے علاوہ 12ارب 87کروڑ 4لاکھ 43ہزارروپے پٹرول ، انوسٹی گیشن ، یوٹیلیٹی بلز، نئے تھانوں کے قیام ، پولیس یونفارم اور دیگر مراعات کے لیے رکھے گئے ہیں ۔جن میں  پولیس جوانوں کی ٹریننگ کی مد میں 1ارب 99کروڑ 62لاکھ 70ہزار روپے، لاہور پولیس کے لئے 40کروڑ 54لاکھ 31ہزار روپے رکھے گئے ہیں جبکہ سول مسلح فورسز کے لیے 4ارب 22کروڑ 91لاکھ 22ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔ دیگر مراعات کے لیے 82کروڑ 19لاکھ 39ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں۔ گزشتہ مالی سال 2013/14میں پولیس کے لئے 70ارب 51کروڑ 53لاکھ 33ہزار روپے کا بجٹ رکھا گیا تھا۔ جس میں 69ارب 54کروڑ 27لاکھ ایک ہزار روپے پولیس نے خرچ کئے تھے جبکہ آئی جی پنجاب خان بیگ نے 6کروڑ روپے حکومت کو واپس کر دئیے تھے ۔ حکومت نے مالی سال 2014/15کے بجٹ گزشتہ مالی سال 2013/14میں کی نسبت 16فیصد اضافہ کیا ہے ۔اگر ہم لاء اینڈ آرڈرر کے حوالے سے موجودہ صورتحال دیکھیں تو پولیس بجٹ میں اضافہ ناگزیر تھا،کیونکہ ملک ایک طرف دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے تو دوسری طرف امن و امان کی خراب صورتحال، اغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری ،ڈکیتیوں اور چوریوں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں و دیگر سنگین جرائم کے علاوہ پنجاب میںخواتین و بچوں کے ساتھ زیادتی،فرقہ وارانہ دہشت گردی اور بھتہ خور ی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافے نے شہریوں کو پریشانی اور کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔اس صورتحال پر قابو پانا حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے ۔حکومت کی جانب سے پولیس بجٹ میں اضافے کے علاوہ تین روز قبل آئی جی پنجاب خان بیگ کو ان کے عہدے سے ہٹا کرآئی جی بلوچستان  مشتاق احمد سکھیراکو نیا آئی جی پنجاب تعینات کر دیا گیا ہے۔ نئے آئی جی مشتاق احمد سکھیراکوصوبہ پنجاب میں  امن و امان کی خراب صورتحال اور دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے سمیت بہت سارے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ امن و امان کی خراب صورتحال، اغوا برائے تاوان، قتل و غارت گری ،ڈکیتیوں اور چوریوں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں،خواتین و بچوں کے ساتھ زیادتی،فرقہ وارانہ دہشت گردی اور بھتہ خور ی کے واقعات کی روک تھام آئی جی پنجاب پولیس کے لئے بڑے چیلنج ہیں ۔اس کے علاوہ حکومتکی طرف سے شروع کئے گئے مختلف منصوبوں جن میں جن دہشت گردی، بھتہ خو ری اورٹارگٹ کلنگ پر قابو پانے کے لئے نئی انسداد دہشت گردی فورس(اے ٹی ایف) کی تشکیل ، پولیس قوانین میں تبدیلی اور نئی اصلاحات لا کر پرویز مشرف کے نافذ کردہ پولیس آرڈر 2002ء کی جگہ نئے پولیس قوانین لانا،صوبے میں کانسٹیبل کی بھرتی کاعمل مکمل کرنا،صوبہ  بھر میں ماڈل پولیس سٹیشنزکو حقیقی معنوں میںفعال کرنا  ،میں کرائمز کو کنٹرول کرنے کیلئے لندن اور استنبول کی طرز پرجدید انٹی گریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کا آغاز اور تھانہ کلچر میں تبدیلی ان کے لئے بڑے  چیلنجز ہیں ہے ۔کیونکہ پنجاب حکومت گزشتہ کئی سالوں سے بلندوبانگ دعوؤں کے باوجود پولیس قوانین میں تبدیلی اور نئی اصلاحات لا کر پرویز مشرف کے نافذ کردہ پولیس آرڈر 2002ء کی جگہ نئے پولیس قوانین لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور نہ ہی تھانہ کلچر میں تبدیلی کا خواب بھی شرمندہ تعبیرنہیں ہو سکا ہے۔اسی طرح حکومت کا ایک منصوبہ لندن ،ٹوکیو اور استنبول کی طرز پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جرائم پر قابو پانے کے لئے پولیس کے لئے جدید انٹی گریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم(ICCS) لانا ہے ۔جس کے تحت مانیڑنگ کے لئے پہلے مرحلے میں پو لیس قربان لائن میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر قائم کیا جارہا ہے۔منصوبے کے مطابق پو لیس قربان لائن میں قائم کیا جانے والے جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹررواں سال2014میں ماہ ستمبرمیں کام کا آغاز کردے گا جبکہ صوبے کی 9  ڈویژنوں کو مرحلہ وار سیٹلائٹ کے ذریعے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر سے منسلک کیا جائے گا۔جہاں کیمروں کے ذریعے امن و امان کی صورتحال کو مانیٹر کیا جاسکے گا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ رواں سال یہ منصوبہ مکمل ہو ،تاکہ اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں پولیس بروقت موقع پر پہنچے اور شرپسندوں اور جرائم پیشہ افراد کو انون کی گرفت میں لایا جائے گا۔اس سسٹم کو ٹریفک مینجمنٹ میں بھی بہتری کے لئے بھی استعمال کیا جائے گا۔ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور جرائم کو کنٹرول کرنے کیلئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کا قیام بہت بڑا منصوبہ ہے۔اسے بروقت مکمل ہونا چاہئے۔حکومت نے دہشت گردی، بھتہ خوری اورٹارگٹ کلنگ پر قابو پانے کے لئے گزشتہ سال نئی انسداد دہشت گردی فورس(اے ٹی ایف) کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ نئی فورس دہشت گردوں، بھتہ خوروںاورٹارگٹ کلرز کے ساتھ آہنی ہاتھوں نمٹنے کے لئے تیار کی جا رہی ہے۔اس فورس کے لئے خصوصی بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے ۔فورس میں منتخب ہونے والے اہلکاروں کی تربیت رواںسال فروری2014 تک مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ مگر محکمہ پولیس کے کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی )کو انسداد دہشت گردی فورس میں ضم کرنے کے بعد بیوروکریسی اور محکمہ پو لیس کے درمیان یہ معاملہ کہ فورس کس کے ماتحت ہو گی ،شدت اختیار کر گیا اور پنجاب کی ڈسپلن پولیس فورس کے افسران کی ایسوسی ایشن نے احتجاجی تحریک شرع کر دی اور کا م چھوڑنے کی دھمکیاں دیں۔ جس پروزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو اعلان کرنا پڑا کہ یہ فورس محکمہ پولیس کے ہی ماتحت ہو گی۔ مگرمحکمہ داخلہ اور پولیس کے مابین جاری اختیارت کی جنگ کی وجہ یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہو رہا ہے  ۔پنجاب میں انسداد دہشت گردی فورس کے لئے ڈھانچے کو جتنی جلد فعال کیا جائے یہ بہتر ہوگا۔حکومت نے تھانہ کلچر تبدیل کرنے کے لئیپنجاب بھر میں 150ماڈل پولیس سٹیشنزقائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔اس سلسلہ میں محکمہ پولیس کو فنڈز بھی مہیا کر دئیے گئے اور متعدد ایس ایچ اوز کو تربیتی کورسز بھی کرا دئیے گئے ہیں ۔مگرپولیس حکام کی عدم دلچسپی اور تاخیری حربوں کے باعث ماڈل تھانوںکوفعال کرنے کا منصوبہ بھی التواء کا شکار ہے ۔صوبہ میں چند ایک جو ماڈل تھانے قرار دئیے گئے ہیں ۔ان تھانوں پر صرف ماڈل تھانوں کا بورڈ آویزاں کرنے کی بجائے حقیقی معنوں میںماڈل تھانوں کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔اس کے علاوہ صوبے بھر میں کانسٹیبل کی بھرتی کا عمل بھی مکمل نہیں ہو سکا ہے ۔آئی جی پولیس اس مسئلہ کا نوٹس لیں اور بھرتیوں کا عمل مکمل کر کے پولیس نفری کی کمی کے مسئلہ پر قابو پایا جائے ۔ پنجاب میںفرقہ وارانہ دہشت گردی کا سلسلہ تھما تو کبھی بھی نہیں تھا مگر اب فرقہ وارانہ قتل وغارت اور دہشت گردی کی لہر میں یکدم تیزی آگئی ہے اس صورتحال سے نپٹنے کے لئے سنجیدگی سے پالیسی بنائی جائے اور ان عناصر سے آہنی ہاتھوں نپٹا جائے۔اس کے علاوہ محکمہ پولیس اور بیوروکریسی میں اختیارت کی جنگ وچپقلش کے علاوہ سیاسی بنیادوں پر محکمہ پولیس میں تعیناتیوں سے افسران میں پھیلی بدلی کو دور کرنا بھی ضروری ہے ۔محکمہ داخلہ اور پولیس کے مابین جاری اختیارت کی جنگ کی وجہ سے بہت سے حکومتی منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ شہر میں امن و امن کی خراب صورتحال سب کے سامنے ہے ۔دہشت گردوں کی کارروائیوں کے علاوہ ڈاکوؤں اور بھتہ خوروں کے نرغے میں پھنسے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت شہر میں دہشت گردی کے خاتمے اورامن و امان کو قائم رکھنے کے لئے آئی جی سیاسی تقرریوں کی بجائے میرٹ پر اچھی ساکھ کے حامل پولیس افسران کی ٹیم تیار کریں اور جونیئر افسران کو اہم عہدوں پر براجمان کرنے سے ایماندار افسران میں جو بددلی پھیلی ہے اس ختم کیا جائے تاکہ سیاسی تقریوں سے بد دل ہوجانے والے افسران بھی حق ملنے پرخوشدلی کے ساتھ حقیقی معنوں میں کرائم فائٹرز کا کردار اداد کر سکیں اوردہشت گردوں،تخریب کاروں اور ملک دشمن عناصر کا گھیرا تنگ ہوسکے۔اب یہ آنے ولا وقت ہی بتائے گا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے مالی سال 2014/15کے بجٹ میں محکمہ پولیس کے لیے خطیر رقم کے اضافے اور نئے آئی جی کی تعیناتی سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہے یا نہیں۔