بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، نان سٹیٹ ایکٹرز اسلام کا چہرہ مسخ کر رہے ہیں: چیف جسٹس آف پاکستان

کوئٹہ (ثناء نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ ملک میں غیر ریاستی عناصر دہشت گردی کرکے اسلام کی بنیادی تعلیمات کو مسخ اور اپنی سوچ نافذ کررہے ہیں۔ مسلمانوں کا زوال اس وقت آیا جب بغداد میں لائبریریاں تباہ کردی گئیں،جس رواداری کا درس قرآن نے دیا ہے، آج اس کی نفی کی جارہی ہے، ہمارے ملک میں بدقسمتی سے غیر ریاستی عناصر نے دہشتگردی کے واقعات کئے ہیں کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومت کرتے تھے، جب کوئی قوم علم کا حصول چھوڑ دے تو پھر اس پر زوال آتا ہے مسلمانوں کازوال اس وقت آیا  انہوں نے کہا کہ دہشتگردی ہر دور اور ہر مذہب میں رہی ہے۔مذہب کے نام پر شمالی اور جنوبی آئرلینڈ میں سالہاسال تک جنگ ہوتی رہی ، برداشت کے فقدان کی وجہ سے دہشتگردی جنم لیتی ہے، جسے روکنے کے لئے ہمیں برداشت کے کلچر کو فروغ دینا چاہئے۔جسٹس تصدق حسین جیلانی کا کہنا تھا کہ کسی بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے،جس رواداری کا درس قران نے دیا ہے، آج اس کی نفی کی جارہی ہے،  انہوں نے کہا کہ ہمیں سکیورٹی اور انسانی آزادی میں توازن لانا ہوگا اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم قانون کے اطلاق کو موثر بنائیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم نے آئین کو موثر طریقہ  سے نافذ کرنا ہے دنیا میں ہر دور میں دہشت گردی رہی ہیں پاکستان میں نان ٹیسٹ ایکٹرز دہشت گرد ی پھیلا رہے ہیں کسی بھی انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے چاہے وہ ہندو ہو یا عیسائی ہم نے عدم برداشت کے کلچر کو خاتمہ کرنا ہے  عدم برداشت کی وجہ سے دہشت گردی  فروغ پاتی ہے دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے قانون کو موثر انداز میں نافذ کرنا ہو گا اسلام کے مطابق برداشت کے کلچر کو  فروغ دینا ہو گا چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نان سٹیٹ ایکٹرز اسلام کا چہرہ مسخ کر رہے ہیں ہر دور میں شدت پسند پیدا ہوئے حتیٰ کہ  ہمارے اپنے خلفائے راشدین  شہید ہوئے۔