اسلام آباد ریڈ زون سیکورٹی… مسائل ہی مسائل

  عزیز علوی
 وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی سیاست کا دور دورہ ہے لاپتہ افرادکے لوحقین ، سکھ برادری ، پی ٹی آئی ، آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن ، اساتذہ تنظیمیں گویا کون نہیں جو اپنے اپنے مسائل اور مطالبات ہائی لائٹ کرنے کیلئے ریڈ زون میں واقع ڈی چوک یا شاہراہ دستور آکر اپنے احتجاج کو ریکارڈ کرانے کیلئے پاپڑ نہیں بیل رہا ریڈ زون کی سیکیورٹی کیلئے انتظامیہ اور پولیس کے چند سینئر افسران مل بیٹھتے ہیں لیکن اس میں طے ہونے والے امور نچلی سطح پر اس سپرٹ سے نہیں پہنچائے جاتے جو دراصل سیکیورٹی پلان کی اصل روح ہوتی ہے اسلام آباد جہاں تقریباً13 سال سے مسلسل سیکیورٹی ہائی الرٹ چلی آرہی ہے وفاقی پولیس کا سائز بھی اس عرصہ میں کئی گنا بڑھ چکا ہے اس کا بجٹ بھی کئی گنا اوپر ہوگیا ہے سیکیورٹی ہائی الرٹ اسلام آباد میں ہرجگہ مختلف نوعیت کا ہے کہیں پاس کر یا برداشت کر ، کہیں پرنس کو جانے دو کہیں تسی لنگ جائو ساڈی خیر اے اور کہیں چڑیا پر نہ مارے والی سیکیورٹی ہے اسلحاظ سے جو سیکیورٹی ریڈ زون میں ہے اسے تو بہت ہی تہہ در تہہ رکھا گیا ہے تاکہ پارلیمنٹ ہائوس ، ایوان صدر ، پرائم منسٹرز سیکرٹریٹ ، سپریم کورٹ ، الیکشن کمیشن ، وفاقی سیکرٹریٹ ، وزارت داخلہ ، پارلیمنٹ لاجز جیسی عمارتوں کو حساس ترین قرار دیا جا چکا ہے اور ان عمارتوں کی چھتیں تک سیکیورٹی ہائی الرٹ کا حصہ بنائی گئی ہیں اسی لئے سیکیورٹی ہائی الرٹ ریڈ زون میں مختلف نوعیت کا ہے جبکہ دیگر علاقوں میں اس کی سختی اور نرمی کے بھی مختلف اور ضرورت کے مطابق معیار لاگو چلے آرہے ہیں ایف ایٹ مرکز ضلع کچہر ی میں فائرنگ اور خود کش حملے کے بعد آئی جی اسلام آباد سکندر حیات اور ایس ایس پی آپریشن ڈاکٹر محمد رضوان کو وکلاء کے بڑہتے ہوئے احتجاج پر تبدیل ہوکر جانا پڑا اور پھر آئی جی آفتاب چیمہ اور ایس ایس پی آپریشن محمد علی نیکو کارا ان عہدوں پر اگٓئے آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ نے ڈی چوک میں لاپتہ افراد کے مظاہرہ کرنے والے لواحقین کو پارلیمنٹ ہائوس تک جانے کی اجازت نہ دی اور وفاقی پولیس نے ان مظاہرین پر وہ تشدد کیا کہ اس پرخاتون اے ایس پی سیکٹریٹ ارم عباسی اور اے ایس پی سٹی یاسر آفریدی دونوں معطلی کی بھینٹ چڑھ گئے ڈی چوک میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے جلسہ کیا تو خدشات ہی خدشات تھے کہ وفاقی پولیس ان کے کارکنوں کو بھی پہلی بار ناکوں چنے چبوائے گی لیکن بعد میں وفاقی پولیس نے نہ صرف ہاتھ ہولا کر دیا بلکہ عمران خان کے11 مئی کے جلسے کو فول پروف سیکیورٹی بھی دے ڈالی لیکن اس جلسے میں عمران خان وفاقی پولیس کی سیکیورٹی کیلئے گردے کی پتھری چھوڑ گئے کہ چار حلقوں میں دھاندلی کے خلاف ان کے مطالبات پر عملدرآمد تک ہر جمعہ کو الیکشن کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا پی ٹی آئی نے پہلا مظاہرہ کیا تو اسے پولیس نے الیکشن کمیشن تک جانے سے روک دیا اور مظاہرین کو شاہراہ جمہوریت پر ہی پولیس نے روک کر منتشر کردیا لیکن اس سے اگلے جمعہ کے احتجاجی مظاہرے کو ایڈیشنل سیکرٹری جنرل سیف اللہ نیازی نے اپنی قیادت میں کرانے کا اعلان کیا تو ان مظاہرین کو بھی پولیس نے نادرا چوک میں روکا اور شہارہ دستور پر الیکشن کمیشن آفس جانے سے روک لیا اس وقت پولیس نے سخت ترین سیکیورٹی حصار بنایا لیکن اسی دوران سکھ برادی بھی احتجاج کرتی ہوئی اچانک شاہراہ دستور پر نمودار ہوگئی سکھ برادری نے پولیس سے کہا بس اب آگے سے ہٹ جائو پولیس بھی سکھوں کو دیکھتی اور سوچتی رہ گئی کہ ان کے ساتھ کیا کریں لیکن کسی جانب سے ڈنڈا چلانے کا پولیس کو سگنل نہ ملا لیکن سکھ برادری پارلیمنٹ ہائوس کے گیٹ پر پہنچ کر اسے روندتے ہوئے پارلیمنٹ ہوئوس کے احاطے تک جا پہنچے اس وقت پولیس کی جتنی نفری کاغذوں میں دکھائی گئی تھی اس کا عشر عشیر بھی ڈیوٹی پر نہ تھا خود آئی جی اسلام آباد نے اس سیکیورٹی ناکامی کا اعتراف بھی کیااس معاملے میں بھی ایک ایس پی ، چار ڈی ایس پی اوردوایس ایچ اوز معطل کردئے گئے لیکن لاپتہ افراد کے مظاہرین پر تشدد کے برعکس سکھ برادری کے کیس میں سارے رینکر افسران ہی معطلی کی بھینٹ چڑھے جبکہ اس سے قبل والے کیس میں ایک خاتون اور ایک مرد اے ایس پی معطل کئے گئے تھے پارلیمنٹ ہائوس کی سیکیورٹی ناکامی میں ایس پی حبیب اللہ نیازی ، ڈی ایس پی خالد ورک ، ڈی ایس پی محمد حسین لاسی ، ڈی ایس پی فدا حسین ستی ، ڈی ایس پی سفیر بھٹی ، ایس ایچ او تھانہ بھارہ کہو ستار شاہ ،ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ عبدالرحمٰن معطلی کی بھینٹ چڑہائے گئے لیکن اس میں ایک بھی پی ایس پی افسر شامل نہ تھا سارا ملبہ ہی بیچارے رینکروں پر پھینک دیا گیا اور ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے واضح ہدایات کے باوجود سکھ برادری کے آنے والے افراد کو دور دراز ہی روکا کیوں نہیں تھالیکن بجٹ کے بعد کلرکوں اور ٹیچروں نے ڈی چوک جانے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنی تنخواہوں میں امعقول اضافے کیلئے احتجاج ریکارڈ کراسکیں تو وفاقی پولیس نے انہیں بلیو ایریا میں چائنہ چوک پر ہی آلیا اور ان پر آنسو گیس کے گولے پھینکنے کی انتہا کردی جو بھی کلرک اور ٹیچر ہاتھ لگا اسے دل کھول کر پولیس نے ڈنڈے مارے ان ڈنڈوں میں پولیس نے وہ ڈنڈے بھی شامل کرلئے جس کے بارے میں پولیس پر الزام تھا کہ اس نے سکھوں کو پارلیمنٹ ہائوس کا گیٹ توڑتے وقت سختی سے کیوں نہیں روکا تھا اسلام آباد کا ریڈ زون عرصہ سے عام شہریوں کیلئے نوگو ایریا بنا ہوا ہے لیکن وزارت داخلہ اور وفاقی پولیس ابھی تک ایسی کسی جگہ کا تعین نہیں کرسکیں جہاں مظاہرین پرامن احتجاج ریکارڈ کراسکیں نہ ہی احتجاجی افراد کی فریاد سننے کیلئے حکومت تاحال کوئی میکینزم مرتب کر سکی۔ لے دے کے سارا بوجھ صرف پولیس کی معطلی کی صورت میں ہی سامنے آتا ہے اسلام آباد پولیس میں جس رینکر ، پروبیشنر سے بات کریں وہ یہی کہتا ہے کہ فورس میں اس وقت شدیدترین اضطرابی کیفیت موجود ہے اور ہر ایک کو اپنی نوکری اور پیشہ ورانہ ساکھ کے لالے پڑے ہوئے ہیں وقت آگیا ہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جو وفاقی پولیس کے کنٹرول کرنے والے ہیں وہ اپنے زیرسایہ فورس کا مورال بلند کرنے کیلئے ازخود کوئی بڑا اقدام کریں اور پولیس دربار منعقد کرکے اس فورس کے گلے شکوے بھی سنیں اور تجزیہ کریں کہ اصل مسئلہ ہے کیا اس کے علاوہ وزیر داخلہ ہی ریڈ زون ، ڈی چوک یا اسلام آباد کے کسی بھی علاقے میں مظاہرین کے ساتھ ہینڈلنگ کا بھی کوئی مستقل SOP دیا جانا ضروری ہے وہی ایس اوپی موثر ہوگا جس کے پیچھے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی فراہم کررہ طاقت نمایاں ہوگی ورنہ نیم دلانہ سیکیورٹی انتظامات نت نئے مسائل ہی پیدا کریں گے ۔