گندم کی سرکاری قیمت میں اضافے کا فیصلہ اور بیچارہ کسان

محمد آصف جاہ گجر
وفاقی حکومت نے گندم کی نئی فصل 2013ءکی قیمت میں 150روپے فی من اضافہ کرکے 1050 کی بجائے 1200 روپے فی من مقرر کی ہے تاکہ کسانوں کو ان کی محنت کا ثمر مل سکے۔ بظاہر تو یہ فیصلہ بروقت اور کسانوں کے مفاد میں نظر آتا ہے کیونکہ گندم کی سرکاری قیمت خریدمیں اضافہ فصل کی کاشت کے دنوں میں کیا گیا ہے۔ قیمت میں اس اضافہ کی وجہ سے کاشتکار زیادہ سے زیادہ رقبے پر گندم کاشت کرنے کی کوشش کریں گے لیکن وفاقی حکومت کے اس فیصلے سے چند سوال پیدا ہوتے ہیں۔
1۔ کیا امدادی قیمت میں اضافہ سے 85فیصد چھوٹے کسان خوشحال ہوجائیں گے؟
2۔ کیا ملک میں کروڑوں لوگوں کو آٹا وافر اور سستا ملنے لگے گا اور نصف آبادی کی غذائی کمی دور ہوجائے گی؟
3۔ کیا ملک گندم میں خودکفیل ہوکر فالتو گندم دوسرے ملکوں کو برآمد کرنے لگے گا؟
4۔ کیا آئندہ کبھی بھی ملک میں گندم اور آٹے کا بحران پیدا نہیں ہوگا؟
تو ان تمام سوالات کا جواب ملنا ابھی باقی ہے۔ 63 سال سے پاکستان کے نااہل اور کرپٹ حکمران افسر شاہی نے ملک کیلئے فوڈ سکیورٹی کی کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بنائی۔ حکومت کا گندم کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ بھی نمائشی ہے کیونکہ گندم اور آٹا تو کروڑوں عوام نے ہی لے کر کھانا ہے۔ حکمرانوں کو خزانے سے کچھ بھی خرچ نہیںکرنا پڑے گا۔
گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کا مالی فائدہ کسانوں کو کم ہی پہنچے گا۔ کیونکہ سابقہ تین چار سال سے کھاد، ڈیزل، بجلی اور دوسرے زرعی لوازمات کی قیمتوں میں 100 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوچکا ہے ۔ اگر ہمارے حکمران گندم کی امدادی قیمت بڑھانے کی بجائے کھاد، ڈیزل، بجلی، بیج، اسپرے اور زرعی مشینری کی قیمتیں نصف کردیتے تو یہ ایک انقلابی فیصلہ ہوتا ہے اور اس کے دوررس نتائج برآمد ہوتے۔
سابقہ کئی سال سے سرکاری خریداری محکموں کی ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی اورکرپشن کی وجہ سے دس بیس بوری گندم فروخت کرنے والے 85فیصد چھوٹے کسانوں کو تو باردانہ ہی نہیں ملتا ۔ لہٰذا ان کو اپنی گندم سرکاری قیمت سے بہت کم قیمت پر فروخت کرنا پڑتی ہے۔ گندم میں اضافے کا فائدہ بھی بڑے جاگیردار، ایم این اے، ایم پی اے کو ہی ملے گا۔ کیونکہ محکمہ مال کی ملی بھگت سے باردانہ بھی یہ ظالم اشرافیہ ہی لے جاتی ہے۔ چھوٹے کسان کو تحصیلدار، پٹواری باردانہ ہی نہیں دیتے۔
ملک کے عوام جن کی پہنچ سے روٹی بھی دور ہورہی ہے۔ گندم کی امدادی قیمت میں اضافے سے عوام کیلئے آٹا بھی مہنگا ہوجائے گا۔ اسلام آباد کے شاہی ماحول میں بیٹھے حکمران عوام کو آف سیزن چیزیں نہ کھانے کا تو مشورہ دیتے ہیں۔ کیا وہ بتا سکتے ہیںکہ گندم اور آٹا بھی آف سیزن جنس ہے۔ اس کے مہنگا ہونے کے بعد لوگ کیا کھائیں گے۔
پاکستان کئی سالوں سے گندم میں خودکفیل ہے اور سرکاری گوداموںمیں کئی سال پرانی گندم گل سڑ رہی ہے۔ ہمارے حکمران اور افسر شاہی گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ کرتے وقت ایک اہم پہلو نظرانداز کردیتے ہیں کہ عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت کم ہوتی ہے اور ہمارے ہاںاخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے گندم مہنگی ہوتی ہے۔ چنانچہ پاکستانی برآمدکنندگان کو گندم برآمد کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ حکومت نے امدادی قیمت تو بڑھا دی ہے لیکن گندم کی سرکاری خریداری اور سٹوریج کے لئے کوئی ٹھوس انتظامات نہیں ۔
اگر ہمارے حکمران اور افسر شاہی ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی کی بجائے درج ذیل پہلوﺅں کو مدنظر رکھ کر فوڈپالیسی بنائیں تو لاکھوں کسانوں اور کروڑوں عوام کا فائدہ ہوگا۔
1۔ زرعی اجناس کی قیمتیں بڑھانے کی بجائے پیداواری اخراجات مثلاً کھاد، ڈیزل، بجلی اسپرے اور زرعی مشینری کی قیمتیں فوراً نصف کی جائیں۔2: عام گندم اور ایکسپورٹ کوالٹی گندم کا علیحدہ علیحدہ ریٹ مقرر کیا جائے۔3: محکمہ خوراک ملکی ضرورت کے لئے FAQ کوالٹی گندم خریدے اور محکمہ پاسکو، برآمد کے لئے ایکسپورٹ کوالٹی خریدے۔ جس کیلئے سنٹر بنائے جائیں۔ 4: گندم کے زرعی زونوں میں زیادہ سے زیادہ جدید سٹور بنائے جائیں ۔5: سرکاری محکموں کا خریداری ٹارگٹ کم ازکم 80 لاکھ ٹن مقرر کیا جائے ۔ کسانوںکو ذلیل وخوار کرنے والی سابقہ تین سالوں کی پالیسی ختم کی جائے۔ محکمہ مال تحصیلدار، پٹواری کا باردانہ کی تقسیم میں کردار ختم کیا جائے۔
وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل ہے کہ وہ وزیروں اور افسر شاہی کے چنگل سے نکل کر اپنے ذرائع سے فیلڈ کے حقائق کے مطابق ہنگامی اقدامات کریں۔ زراعت و خوراک کے متعلقہ محکموں کے وزیروں مشیروں اور افسر شاہی کو اسلام آباد اور لاہور سے باہر لاکر زرعی فیلڈ میں کسانوں کے درمیان رہنے کا پابند کیا جائے۔