گرم کپڑوں کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ‘ لنڈا بازار غریبوں کی پہنچ سے دور

لاہور (سروے احسن صدیق) سردیوں میں غریبوں کو سستے کپڑے فراہم کرنے والا لنڈا بازار اب انتہائی مہنگا ہونے کے باعث غزیبوں کی دسترس سے باہر ہو گیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال سردیوں میں لنڈے کے کپڑے 20 فیصد سے زائد مہنگے ہو گئے ہیں۔ لنڈا بازار میں خریداری کے لئے آنے والے گاہکوں جمشید اقبال، ندیم، رضوان انصاری نے نوائے وقت کو بتایا کہ لنڈا بازار مہنگائی کے باعث غریب کی پہنچ سے باہر ہو گیا ہے گزشتہ سال جو کوٹ 350روپے کا تھا اب 550روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جو سویٹر 150روپے کا تھا اب 250 روپے سے زائد میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ ایک جیکٹ کی قیمت 150روپے سے 200روپے تھی اب 350روپے سے 400روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ بچوں کے گرم کپڑے گزشتہ سال کے مقابلے میں 100روپے سے 200روپے تک مہنگے ہو گئے ہیں۔ پہلے لنڈا بازار میں صرف غریب خریداری کے لئے آتے تھے اب امیر لوگ بڑی تعداد میں آتے ہیں اس کے علاوہ لنڈا بازار میں تجاوزات کی بھرمار ہے اور ٹریفک کا بے پناہ رش ہے۔ اس موقع پر انجمن تاجران لنڈا بازار کے صدر حاجی شیخ صلاح الدین، جنرل سیکرٹری نعیم بادشاہ، نائب صدر حاجی اعجاز بٹ، نائب صدر ملک عظمت، فنانس سیکرٹری حاجی غازی نواز احمد اور سیکرٹری فنانس حافظ محمد فیاض، حاجی شیخ امین نے کہا کہ تاجروں نے جان بوجھ کر مہنگائی نہیں کی بلکہ ڈالر مہنگا ہونے، شپنگ کمپنیوں کی جانب سے فریٹ چارجز میں اضافے اور حکومتی ٹیکسوں کے باعث لنڈے میں سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مال 10سے 15 سینٹ فی کلو کا ہے جبکہ حکومت ہم سے 45 سینٹ فی کلو کے حساب سے ڈیوٹی لیتی ہے۔