چاول پالیسی : باسمتی کے معدوم ہونے کا خطرہ

امان اللہ چٹھہ
چاول کی فصل ملکی معیشت میں زبردست اہمیت کی حامل ہے جو ملک میں غذائی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ 5 ارب ڈالر سے زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ کا ذریعہ ہے جبکہ باسمتی کو خوشبودار اور ذائقہ کے لحاظ سے دنیا بھر میں منفرد مقام حاصل ہے۔ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ چاول کی اس نادر قسم کے معدوم ہونے کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔ خدانخواستہ بھارت سے فائدہ اٹھا کر عالمی مارکیٹ میں کم تر کوالٹی کی باسمتی کو آگے لانے کے لیے ہاتھ پاﺅں مار رہا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ہمارے ذمہ دار اداروں یعنی زرعی تحقیق کے مراکز، تجارت اور خزانہ کی وزارتوں کو مسئلہ کی سنگینی کا احساس نہیں۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی یافتہ بیجوں کی دریافت، ضروریات کاشت کی باآسانی فراہمی اور مارکیٹنگ کا بہتر نظام وضع کیا جائے۔ جدید تحقیق کی روشنی میں ایسا بیج دریافت کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے جو کوالٹی کو برقرار رکھتے ہوئے زیادہ پیداوار دینے کے ساتھ بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت بھی رکھتا ہو لیکن اس ضمن میں کام کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ ایک عرصہ سے سامنے نہیں آرہا۔ موجودہ باسمتی جسے سپر یا کرنل باسمتی کا نام دیا جاتا ہے ارتقا کے مراحل سے گزر کر اس مقام پر پہنچی ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے اور کافی عرصہ بعد تک باسمتی 370 کاشت ہوتی رہی جس کی کوالٹی تو اچھی تھی لیکن لمبے اور کمزور تنے کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار 25 من سے نہیں بڑھ پائی تھی۔ چنانچہ چاول کے تحقیقاتی مراکز نے دوگنی پیداوار والا بیج سپرباسمتی کے نام سے دریافت کیا۔ اٹھارہ بیس سال کے بعد اس کی پیداواری صلاحیت بہت بری طرح متاثر ہو چکی ہے اس دوران میں زرعی سائنس دانوں پر لازم تھا کہ متبادل اور ضروری انتظامات کیے جاتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا چنانچہ بھارت سے آیا ہوا بیج انڈیا باسمتی کے نام سے وسیع پیمانہ پر متعارف ہو رہا ہے۔ ملکی سطح پر لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن کے بعض علاقوں میں پیدا ہونے والا اعلیٰ چاول دنیا بھر میںاپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زرعی سائنس دانوں کو مناسب سہولتیں فراہم کرکے یہ ٹاسک دیا جائے کہ سپر باسمتی کو ارتقائی مراحل سے گزار کر ایسا بیج دریافت کریں جو کوالٹی برقرار رکھتے ہوئے کمتر محنت و اخراجات کے ساتھ بھرپور پیداوار دے سکے۔
زرعی ضروریات کی فراہمی:
پیداوار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کی خاطر ضروریات کاشت کی بآسانی فراہمی ناگزیر ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دھان کی کاشت کیلئے پانی، کھاد، ادویات انتہائی گراں قیمت پر دستیاب ہو رہی ہےں نہری پانی کی شدید قلت کے باعث بجلی، ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویلوں پر اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ ڈیزل کے نرخ 115/- روپے لٹر ہو چکے ہیں۔ کھاد اور ادویہ کے نرخ مقرر کرنے کی پہلی ہی فیکٹری مالکان اور بڑے ڈیلروں کو کھلی چھٹی حاصل ہے۔ حد سے بڑھتے ہوئے ان اخراجات کو کنٹرول کرنے کیلئے ارباب حل و عقد کی سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔
مارکیٹنگ نظام کی اصلاح:
دور حاضر میں پیداوار کی مارکیٹنگ ایک سائنس کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جس میں نت نئی تحقیق اور ٹیکنیک کا استعمال ناگزیر ہے۔ اس سلسلہ میں وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈویلمپنٹ اتھارٹی (TDA) کی شان بے نیازی اپنی جگہ ہے جبکہ ہمارے سفارت خانے جن میں کمرشل اتاشی محض برآمدات کے فروغ کی غرض سے مقرر کیے جاتے ہیں، مو¿ثر ثابت نہیں ہوسکے۔ اس میں بھارت ہم سے زیادہ چابکدستی کے ساتھ سرگرم عمل ہے حد یہ ہے کہ ہمارا اعلیٰ کوالٹی کا باسمتی چاول پاکستانی لیبل کے ساتھ اتنا مقبول اور قابل اعتماد نہیں سمجھا جاتا جتنا وہی چاول بھارتی برانڈ سے سمجھا جاتا ہے۔
ملکیتی حقوق دانش: (Intellectual Property Rights)
عالمی تجارت تنظیم (WTO) کے ضابطوں کے مطابق کسی فصل کی تجارت پر اس کے پیدا کرنے والے ملک کو جو خصوصی حقوق حاصل ہوتے ہیں تجارتی اجارہ داری کے مترادف ہیں۔ باسمتی چاول اگرچہ پاکستان الاصل ہے لیکن اس کے عالمی تجارتی حقوق پر بھارت اور کسی حد تک امریکہ ملکیتی حقوق دانش حاصل کرکے پاکستان کواس میدان میں غیرموثر کرنے کے خطرناک منصوبہ پر عمل پیرا ہیں۔ ملک کی اس انتہائی قیمتی برآمدی جنس کیلئے عالمی منڈی میں جائز تجارتی حقوق حاصل کرنے کی خاطر سفارتی سطح پر قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمارے محکمہ زراعت تجارت امور خارجہ اور مالیات کی وزارتوں کو اس ضمن میں ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔