خواتین میں ”لمبی قمیضوں کا فیشن“ یورپ میں بھی مقبول عام رہا!

کالم نگار  |  عنبر ین فاطمہ

سال 2010ءمیں لمبی قمیضوں کا فیشن شروع ہوا 2011ءمیں بھی یہی فیشن چلتا رہا حتیٰ کہ 2012ءمیں اس فیشن نے مقبولیت کا گراف برقرار رکھا۔لمبی قمیضوں کی لمبائی 40انچ سے شروع ہو کر 56انچ تک گئی۔رواں برس کھلے گھیرے کے فراک،اے لائن قمیضیں،کالر اوربین گلوں کے مختلف ڈیزائن خواتین کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔اس کے علاوہ ہر قسم کی لیسز،قمیضوں پر پاکٹس اور ان پر کرسٹل کے موتی اور بروچز لگائے جاتے رہے۔ یہ فیشن نہ صرف ایشیا بلکہ یورپ میں بھی خواتین میں مقبول عام رہا۔لیکن اب فیشن ایک مرتبہ پھر کروٹ لے رہا ہے اور قمیضوں کی لمبائی میں خاصی حد تک کمی لائی جارہی ہے۔ملبوسات کی ڈیزائننگ 2012ء کے حوالے سے ہم نے معرو ف ڈریس ڈیزائنر” سارا شاہد“ سے بات چیت کی۔سارا نے کہا کہ رواں برس لان کے کپڑوں کی ڈیزائننگ میں شفون ،سلک اور جامہ وار کا استعمال بخوبی کیا گیا۔دوپٹوں اور قمیضوں کے گھیرے سلک،شفون،جارجٹ اور جامہ وار سے مزین رہے۔سلک،شفون اور جارجٹ ایسے کپڑے ہیں جو پاکستان میں کپڑوں کی ڈیزائننگ کے پیش نظر اب تقریباً سارا سال ہی استعمال ہو رہے ہیں اور ڈیزائنرز بھی اس قسم کے کپڑے کو سٹاک کرکے رکھ لیتے ہیں۔باقی سردی یا گرمی کے ملبوسات کی اہمیت صرف اسی موسم کی حد تک محدود ہوتی ہے ۔قمیضوں کی ڈیزائننگ میں ایمبرائیڈری کو خاصی اہمیت حاصل رہی ہے ڈریسز کے گلے،بازو اور پاکٹس پر خصوصی طور پر خوبصورت ایمبرائیڈری کروائی جاتی رہی۔ہمارے ملک میں انٹرنیشنل فیشن کو اپنے انداز میں اپنایا گیا اب تو باقاعدہ پاکستانی ڈیزائنرز باہر کے ڈیزائنرز اور فیشن سے خاصی انسپریشن لے رہے ہیں اور ان کے کام کو باریک بینی سے دیکھتے ہیںاور وہی فیشن اپنے ماحول کے مطابق ڈھال کر لوگوں کو متعارف کروا رہے ہیں جو کہ بہت ہی اچھی بات ہے۔اس برس باہر کے ممالک میں جمپ سوٹس کا رواج خاصا عام رہا ہے جمپ سوٹ ایک ہی سلائی میں سلا ہوتا ہے یہ ایک قسم کا اکٹھا سوٹ ہوتا ہے چونکہ پاکستان میںا س قسم کے سوٹ نہیں پہنے جا سکتے اس لئے یہ فیشن یہاں متعارف نہیں کروایا گیا۔پوری دنیا میں جیسے لمبی قمیضیں خواتین کی توجہ کا مرکز بنی رہیں اسی طرح رنگ بھی تقریباً ایک جیسے استعمال ہوتے رہے گہرے اور ہلکے رنگوں کے امتزاج سے خوبصورت ملبوسات تیار کئے جاتے رہے۔اس برس تو برائیڈل ڈریسز میں کافی تجربات کئے گئے برائیڈل ڈریس کا تصور ذہن میں کچھ اس طرح سے ابھرتا ہے کہ سر سے لیکر پاﺅں تک جوڑے پر کام ہی کام ہو لیکن اس برس اس ٹرینڈ نے بھی کافی دم توڑا۔”ریڈی ٹو وئیر“ کا رجحان بھی خاصا رہا اس کی بڑی وجہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ رہی درزیوں کو جنریٹرز کا بندوبست کرنا پڑا نتیجتاً لوگوں کو کپڑوں کی سلائی مہنگی پڑی۔جو درزی جنریٹرز افورڈ نہیں کر سکتے تھے ان کلائنٹس کے لئے خاصے مسائل رہے کلائنٹس کو وقت پر کپڑے ملنا کسی امتحان سے کم نہ تھا۔یہ ہی وجہ ہے کہ ریڈی ٹو وئیر کا رجحان پروان چڑھاگزشتہ چند برسوں سے ورکنگ لیڈیز کی تعداد میں اضافے نے بھی ریڈی ٹو وئیر کے ٹرینڈ کو جلا بخشی ہے۔جن ڈیزائنرز کے ملبوسات ہزاروں روپے کی رینج میں تھے انہوں نے بھی قیمتیں مناسب رکھ کر ان ملبوسات تک عام خواتین کی رسائی بھی آسان بنائی۔یہ بات بھی ساتھ ہے کہ جو فیشن بہت عام ہوجائے اور ہر دوسری خاتون کو ایک ہی طرح کے ڈریسز میں دیکھیں تو وہ فیشن ختم ہونے کو ہوتا ہے۔اب موجودہ فیشن بھی ختم ہونے کو ہے اور نئے سال میں آپ قمیضوں کی لمبائی اور ان کی ڈیزائننگ میں خاصا فرق دیکھیں گے کیونکہ قیمیضوں کی لمبائی کو کم اور فٹنگ کا رواج فیشن میں عام ہونے والا ہے ڈیزائنرز نے ان چیزوں پر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔کھلے گھیروں میں بھی کمی لائی جا رہی ہے۔شلوار قمیض ہمارا روایتی لباس ہے اور ہمیں اپنے اس روایتی لباس پر فخر بھی ہے بہت چھوٹی قیمضیں اچھی نہیں لگتیں لیکن نارمل لمبائی کے ساتھ قمیضیں نہ صرف اچھی لگتی ہیں بلکہ شخصیت بھی پر کشش لگتی ہے باقی ہر فیشن کچھ دیر رہنے کے بعد اولڈ ہوجاتا ہے اور کچھ سال کے بعد خود کو دہراتا ہے۔لہذا لمبی قمیضوں کا فیشن الوداع ہونے کو ہے۔ بی جی نے کہا کہ لمبی قمیضوں کا فیشن بلا شبہ بہت ہی خوبصورت ہے یہ فیشن تین سال تک مسلسل رہا ہے اب آکر اس میں تبدیلی آرہی ہے۔اگر ہم سال 2012ءمیں ملبوسات کی ڈیزائننگ کی بات کریںتو اس میں خاصے تجربات کئے گئے۔آج کل پاکستانی فیشن کے مطابق جو ٹرینڈ بہت زیادہ مقبول ہیں وہ ہماری ثقافت میں صدیوں پہلے سے موجود تھے۔جنہیں خواتین آج بھی بہت شوق سے پہنا کرتی ہیں لیکن اب اس سٹائل کے کپڑوں نے جدید فیشن کا روپ اختیار کر لیا ہے۔میڈیا کی ترقی کی بدولت خواتین کو بدلتے موسموں کے ساتھ تبدیل ہوتے فیشن کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اب کپڑوں کی بناوٹ سٹائل اور کڑھائی میں بھی تنوع کا رنگ نمایاں ہے۔
فائنل ،،،