میوزک کی آمیزش سے نعت کا تقدس مجروح ہو رہا ہے

سیف اللہ سپرا
 دور حاضر مےں نعت خوانی کوہر سطح پر جو قبول عام حاصل ہوا ہے اس کی مثال پہلے ادوار مےں ملنا مشکل ہے۔عام محافل ہوں ےا مےڈےاکی سکرےن۔ ہر جگہ نعت کے زمزمے گونجتے سنائی دےتے ہےں۔ ملک پاکستان مےں نعت کے فروغ مےں بہت سی قابل قدر ہستےوں نے حصہ لےا اور اپنے انداز نعت سے پورے ماحول کو متاثرکےا۔جناب محمد اعظم چشتی، محمد علی ظہوری،سےد شرےف الدےن نےر، نذےر حسےن نظامی، جناب ثناءاللہ بٹ اور دےگر لوگوں نے اپنی تمام تر صلاحےتوں کو فروغ نعت کےلئے وقف کئے رکھا اور اپنے اپنے انداز سے نعت کے حلقوں مےں بے پناہ پذےرائی حاصل کی اور لوگوں کی بے شمار محبتوں سے نوازے گئے۔موجودہ دور مےں نعت کے اندر مےوزک کی آمےزش نے اےک نےا رخ اختےار کر لےا ہے۔ اس سے نعت کا ےہ انداز ہر جگہ موضوع بحث بن گےا ہے۔”مےوزک کے ساتھ نعت“ پڑھنے کے حوالے سے ہم نے اس فن سے وابستہ نامور ثناءخوانوں سے ان کی رائے معلوم کی جو نذر قارئےن ہے۔
 حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے کہا ہے کہ موسےقی کے بارے مےں لوگوں کا کہنا کہ ےہ روح کی غذا ہے ‘ سراسر غلط مفروضہ ہے۔ موسےقی کسی بھی طرح روح کی غذا نہےں ہو سکتی بلکہ روح کی غذا اللہ کا ذکراور نبیءکرےم ﷺ کی نعت ہے جس کو سننے سے اےک قلب و روح پہ اےک کےفےت طاری ہوتی ہے۔ انسان دنےاوی پرےشانےوں کو بھول کر اےک محوےت مےں گم ہو جاتا ہے اور ذکر رسول و کی سرشاری اسے دنےا و مافےھا سے بے نےا ز کر دےتی ہے۔
نعت اسی طرح پڑھنی چاہئے جو اس کا صحےح ادب اور تقاضا ہے۔اےسا طرےقہ اختےار نہےں کرنا چاہئے جس سے کسی بھی طرح بے ادبی کا شائبہ گزرتا ہوں کےونکہ
ادب پہلا قرےنہ ہے ”عبادت “ کے قرےنوں مےں نعت رسول چونکہ عبادت ہے اس لیے مےں نے اس مصرع مےں ”محبت“ کی جگہ”عبادت کا لفظ استعمال کےا ہے۔کےونکہ ےہ بارگاہ تو اےسی ہے کہ جس کا ادب خود قرآن کرےم نے ہمےں سکھاےا ہے اور بے ادبی پراعمال کے ضائع ہونے کی وعےد سنائی ہے۔اس لئے نعت پڑھتے ہوئے مےوزک کی آمےزش سے وہ ادب برقرار نہےں رہتا جو اس کا مقصود و منتہا ہے۔
مےں ذاتی طور پہ مےوزک کے ساتھ نعت پڑھنے کو درست نہےں سمجھتا لےکن اس پہ حتمی علمی و دےنی رہنمائی علمائے اکرام ہی دے سکتے ہےں۔ انہےں اس حوالے سے اپنا متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے وہ نہ صرف اس بارے مےںاصولی اورجامع موقف اختےار کرےں بلکہ اس محافل مےں قابل عمل بنانے کےلئے بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرےں۔
 اخترحسین قریشی نے کہا کہ مےوزک کے ساتھ نعت پڑھنے سے تقدس مجروح ہوتا ہے اس مےںکوئی شک نہےں ہے اور مےں بھی اسے درست نہےں سمجھتا۔نعت کا اےک اپنا مزاج ہے اور اس مزاج سے مطابقت رکھتے ہوئے ہی نعت پےش کرنا چاہئے۔مےوزک دراصل اےک سہارے کا نام ہے جو پڑھنے والے کی خامےوں کو چھپا لےتاہے۔نئی نسل چونکہ محنت سے جی چراتی ہے اور آسانی کا راستہ ڈھونڈھتی ہے اس لئے مےوزک کاسہارا لے کر نعت کوپےش کرنے کے رجحان مےں اضافہ ہو رہا ہے۔ہم نے جن بزرگوں کی صحبت مےں بےٹھ کر ےہ فن سےکھا ہے اور جس طرح اس کےلئے محنت کرتے دےکھا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔وہ نعت کو عقےد ت و محبت سے اس طرح پےش کرتے تھے کہ سننے والے آج تک ان کے انداز اور آواز کے سحر سے نکل نہےں پائے۔جناب محمد اعظم چشتی، جناب محمد علی ظہوری ، جناب نذےر حسےن نظامی اور ان جےسے دےگر بزرگوں کی محافل مےں پڑھی ہوئی نعتےںآج بھی ہمارے کانوں مےں رس گھولتی ہےں اور ان کی خوشبو آج تک محسوس کی جاسکتی ہے۔مےری نظر مےں مےوزک کے سہارے کے ساتھ نعت پڑھنا بھی درست نہےں اور رمضان المبارک و ربےع الاول کے بابرکت مہےنوں مےں جب چےنلز پر نعتےں رےکارڈ کروانے کا موقع آتاہے تو انہی لوگوں سے نعتےں پڑھوائی جاتی ہےں جن کو لوگ سارا سال مےوزک کے پروگراموں مےں دےکھتے رہتے ہےں۔ےہ لوگ مےوزک کے سہارے کے بغےر نعت نہےں پڑھ سکتے اور دوسرا ےہ کہ لوگوں کے ذہنوں مےں ان کا اےک تاثر قائم ہوتا ہے۔ اس انداز سے اس فن کےلئے اپنے شب و روز وقف کرنے والوں کے ساتھ بھی زےادتی ہوتی ہے۔ ان مذہبی مہےنوں مےں صرف انہی لوگوں سے نعت پڑھوانا چاہئے جو اس فن سے نہ صرف منسلک ہےں بلکہ اس کی تروےج و اشاعت کےلئے بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہےں۔
 سرور حسےن نقشبندی مےوزک کے ساتھ نعت عہد موجود کا قابل ذکر موضوع ہے۔ہماری نوجوان نسل کا بڑا حصہ اس کا دلدادہ ہے۔ہمےں اس مثبت اور منفی دونوں پہلوو¿ں کو سامنے رکھنا چاہئے۔نعت کی اس جدےد شکل نے نعت سننے والوں کی تعداد مےں خاطر خواہ اضافہ کےا ہے۔نعت کا حلقہ بہت وسعت اختےار کر گےا ہے۔نوجوان نسل کی اےک بڑی تعداد اس دائرے مےں داخل ہوئی ہے۔لےکن اس کے ساتھ ساتھ نعت کے آداب اور اس کے تقاضے بھی متاثر ہوئے ہےں جو کسی بھی طرح سے قابل تحسےن نہےں ہےں۔ہمارے ہاں بدقسمتی سے مذہبی سٹےج پر آنے والوں کا کوئی crieteria نہےں بناےا گےا حالانکہ ےہ اےک بہت ہی ذمہ داری کا معاملہ ہے جس پہ بڑی خصوصی توجہ دےنے کی ضرورت ہے۔دےن کی بنےادی سمجھ بوجھ سے عاری افراد کا دےنی سٹےجوں پر براجمان ہوناقابل تشوےش ہے۔نعت اےک انتہائی پاکےزہ صنف ہے جس مےں احترام و ادب کے تقاضوں کو بنےادی اہمےت حاصل ہے ۔ ان تقاضوں کا کما حقہ ادراک حاصل کئے بغےر اسے عملی طور پہ اختےار کرنا انتہائی قابل گرفت ہے۔ےہی وجہ ہے کہ آج نعت کا ےہ انداز ہر جگہ موضوع بحث ہے۔مےں ذاتی طور پہ نعت پڑھنے والوں سے زےادہ ان کو نماےاں کرنے والوں کی اصلاح کا زےادہ حامی ہوں۔ےہ لوگ چاہے محافل کے منتظمےں ہوں ےا مےڈےا پر براجمان متعلقہ افراد۔ اگر ےہ دو طبقے صاحب علم ہوں اور دےن متےن کی صحےح سمجھ بوجھ رکھنے والے ہوں تو صورتحال ےکسر تبدےل ہوسکتی ہے۔مختلف علاقوں مےں بنی محافل نعت منعقد کرانے والی تنظےموں کو علمائے اکرام اور سنجےدہ فکر طبقے کی رہنمائی کی ضرورت ہے جو صحےح خطوط پر ان کی رہنمائی کرےں اور نعت جےسا مقدس کام ہماری دنےاوی اغراض اور کج فہمی کی نذر ہونے سے محفوظ رہے۔مےوزک کےلئے ہمارے ہاں صوفےاءکی رائج کردہ معروف صنف قوالی موجود ہے۔ نعت کو باانداز نعت ہی پڑھا جائے تو مناسب ہے اور زےادہ وضاحت کہ ساتھ ےوں سمجھ لےا جائے کہ نعت جس طرح ثناءخوان بارگاہ رسالت ﷺ نے پےش کی اور خودصاحب نعتﷺ نے سماعت فرمائی اور اس کا جو قرےنہ ہمےں عطا فرماےاوہی درست اور قابل عمل ہے۔اس سے ہٹ کر جو طرےقہ بھی اختےارکےا جائے گااس کی کوئی توجےح پےش نہےں کی جاسکتی۔
نعت خواں حنا نصراللہ نے کہا کہ مےوزک کے ساتھ نعت پڑھنے کی رواےت عرب ملکوں سے لے کر تقرےباً ہر جگہ پائی جاتی ہے لےکن ہمارے ہاں اس نے اےک بالکل نےا انداز اختےار کر لےا ہے۔ےہاں مےوزک کے بغےر ہی منہ کے ساتھ ساز کا اےساطرےقہ رائج ہو گےا ہے جس کو علمائے اکرام نے بھی درست قرار نہےں دےا۔نعت مےوزک کے ساتھ ہو ےا اس کے بغےر اس کی پےشکش مےں ادب و احترام کا تقاضا ملحوظ خاطر رہنا چاہئے۔مےوزک کے ساتھ نعت پڑھنے سے کہےں زےادہ بری بات ہے کہ آپ بغےر مےوزک کے معروف گانوں کی طرز پہ نعت پڑھےں۔جس سے دھےان نعت کی طرف جانے کی بجائے گانوں کی طرف چلا جاتا ہے۔اگر نعت کےلئے خاص طور پہ نئی بحر بنائی جائے اور اسے احترام کے تقاضوں کے ساتھ پڑھا جائے تو اس مےں کوئی حرج نہےں ہے۔اس انداز کی نعت ہمےں پوری دنےا مےںنظر آتی ہے۔
سارہ رضا نے کہا کہ مےری خوش بختی ہے کہ مےں نے اپنے کےرےر کا آغاز نعت خوانی سے ہی کےا اور اس کی برکتےں آج تک مےرے ساتھ ساتھ ہےں۔نعت پڑھنے سے جو سکون حاصل ہوتاہے اس کا اظہار لفظوں مےں بےان نہےں ہو سکتا۔مےڈےا کی ےہ مجبوری ہے کہ وہ نعت کو بھی مےوزک کے ساتھ رےکارڈ کرتے ہےں ورنہ نعت کا صحےح لطف اور کےف تو اس کے بغےر ہی آتاہے۔آج بھی ہماری ہونے والی نجی محافل مےں نعت اپنے اصل انداز کے ساتھ ہی پےش کی جاتی ہے اور سرور و کےف کا حصول اسی انداز سے ممکن ہے۔
بےنش ملک نے کہا کہ نبیءکرےم جب مدےنہ منورہ تشرےف لائے تو بچےوں نے دف بجا کر آپ کا استقبال کےا اور آپ کی نعت پےش کی اور آپ کی آمد پر اپنے انداز سے خوشی کا اظہار کےا۔ مگر آج ہمارے ہاں باقاعدہ مےوزک کے ساتھ نعت خوانی کی جا رہی ہے جس کی اسلام اور شرےعت مےں کوئی گنجائش نہےں ہے۔ مےوزک کے ساتھ نعت پڑھ کے آواز کو صرف سہارا ملتا ہے اور نعت کا اصل مقصد بالکل ختم ہو جاتا ہے۔کےفےت قائم نہےں ہوتی، تڑپ ختم ہو جاتی ہے اور روحانےت کا تو نام و نشان تک باقی نہےں رہتا۔ اللہ تعالیٰ اور فرشتے ہر وقت درود پاک کی صورت نبی کرےم کی نعت کا عمل جاری و ساری رکھے ہوئے ہےں۔ موجودہ دور مےں مےوزک کا سہارا لے کر نعت کو غلط رنگ دےنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نعت سننے والے سےدھے سادھے لوگوں کے جذبات سے کھےلا جاتا ہے۔ ےہ صرف ہمارے اےمان کی کمزوری ہے کےونکہ حضور کی نعت کو اس سہارے کی نہےں بلکہ پڑھنے والے کو دنےاوی مقاصد کے حصول کےلئے اس کی ضرورت ہے۔ پختہ اےمان اور ےقےن کامل کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالی ہمےںحضور کی سچی اتباع ، دےن کی لگن اوراس کا صحےح فہم عطا فرمائے۔ آمےن
مزا تب ہے سرکار محشر مےں کہہ دےں   
وہ دےکھو ہمارا غلام آگےا ہے