ماہ جولائی

سر پہ آیا ماہِ جولائی
آگ ہے سورج نے برسائی
تڑپ رہا ہے ہر انسان
کیا طائر اور کیا حیوان
گھر ہو جیسے کوئی تنور
لیکن رہنے پر مجبور
تپتی سڑکیں یوں ہیں ایسے
ہر سو آگ لگی ہو جیسے
دن میں سو سو بار نہائیں
پھر بھی لیکن چین نہ پائیں
دن کو ہے نہ رات سکون
ابھی تو گزرا ہے بس جون
حبس نکالے سب کی جان
ہر اک بندہ ہے ہلکان
آج ہے بچو سترہ جولائی
پھر سے سب کی شامت آئی
بارش کا بھی ہے امکان
آجائے سب کی جان میں جان
فاروق اے حارث