لطائف

وکیل اپنے بیٹے سے ۔بیٹامیری دلی خواہش ہے کہ تم وکیل بنو۔
بیٹا۔اباجان وہ کیوں؟
تاکہ میرا کالا کوٹ تمہار ے کام آجائے، باپ نے جواب دیا۔
         ٭٭٭
باپ اپنے سست اور کاہل بیٹے سے:اب میں تمہارے لئے ایسا انتظام کروں گا کہ بٹن دباتے ہی تمہارے سامنے ہر چیز خاضر ہو جائے گی، جیسے بٹن دباو¿ گے کھانا آجائے گابٹن دباو گے پہننے کے لئے کپڑے آجائیں گے،بٹن دباتے ہی۔۔۔۔بیٹے نے بات کاٹتے ہوئے کہا کہ ڈیڈی یہ بٹن دبائے گا کون؟
         ٭٭٭
اکبربھائی تم سارا دن اِدھراُدھر پھرتے رہتے ہوآوارہ گردی کرتے رہتے ہوگھر میں ٹک کر کیوں نہیں بیٹھتے ۔اکبر کے دوست حیدر نے پوچھا۔دراصل میرے گھر کا کرایہ بہت زیادہ ہے۔ اکبر نے جواب دیا۔
          ٭٭٭