خصوصی بچے آپ کی توجہ چاہتے ہیں

اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے جس نے نہ صرف ہمیں نارمل انسان پیدا کیا بلکہ کھانے پینے کی بے شمار نعمتیں بھی عطاکی ہیں۔اگر ہم ایک نظرخصوصی بچوں کی طرف دیکھیں اوران کی ہر ممکن مدد کریں تواللہ تعالیٰ بہت خوش ہوگااور انسانیت کا بھی یہی تقاضہ ہے کہ ایسے بچوں پر خصو صی توجہ دی جائے۔آفرین ہے ان لوگوں پر جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ایسے ادارے قائم کر رکھے ہیں جہاں ان کی اچھے طریقے سے دیکھ بال کی جاتی ہے۔طیبہ وحید کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے۔انہوں نے شب و روز جدوجہد سے ادارہ مدر اینڈ چائلڈ بحالی معذوراںتشکیل دیا۔جسکے کارکنوں اور انتظامیہ نے انسانی خدمت کے جذ بے میں سرشار ہو کر اپنا پہلا پراجیکٹ ”سپیشل کڈز ان“ معذور بچوں اور خاص کر ذہنی معذور لڑکیوں جن کی عمر 3 سے 25 سال ہے مکمل کیا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ فرد واحد کا کام نہیں اور نہ ہی ایک فرد کے کام سے اس ادارے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے اس میں مخیر حضرات کی مدد کی ضرورت ہے کیونکہ زیادہ ترخصوصی بچوں کے والدین بہت غریب ہوتے ہیں وہ ان کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اورنہ ہی ان کا علاج جاری رکھ سکتے ہیں۔جو بچہ بول نہیں سکتا اس ادارہ میں وہ مسلسل سپیچ تھراپی کے ذریعے بولناشروع کر دیتا ہے اور جو چل پھر نہیں سکتے ان کو فزیو تھراپی کے ذریعے بیٹھنا، چلنا اورپھرنا سکھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پچھلے سال سے ان بچوں کے لئے ہائیڈرو تھراپی یعنی پانی کے ذریعے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان کا ادارہ 35 بچوں پر مشتمل ہے اورماہر نفسیات ، جدید ترین طبی،سپیچ تھراپی اورفزیوتھراپی کی سہولیات سے لیس ہے۔ غریب و بے سہارا اور ذہنی و جسمانی طور پر کمزور بچوں اور بچیوں کی بحالی کو مفت طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے مخیر افراد بھی تعاون کرتے ہےں اور کرتے رہیں گے اس مبارک ومقدس مہینے میں ان کی مدد کی اشد ضرورت ہے۔
پچھلے سال ان کی زکوٰة سے ان بچوں کا فری علاج کیا جن کے والدین اپنے بچوں کا خرچہ نہیں اُٹھا سکتے ہیں۔اس سال بھی ہمیں ان کے تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی توجہ ان بچوں کی بحالی کے لئے صرف کر سکیں۔ادارے میں تقریباً 250 کے قریب بچے رجسٹرڈ ہیں لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اس پراجیکٹ کو شروع نہیں کر سکتے ۔آپ کی امداد معاشرے میں موجود نا امید والدین اور خصوصی بچوں کے لئے امید کی کرن ثابت ہو گی۔ان بچوں میں کچھ بچے ہمارے پاس ایسے رجسٹرڈ ہیں جو کہ کافی حد تک صحیح ہیں لیکن نارمل سکول والے ان کو داخل کرتے ہیں اور نہ ہی والدین ان بچوں کو سپیشل سکول میں داخل کروانا پسند کرتے ہیں۔
ادارے کی ڈائریکٹرسائیکالوجسٹ طیبہ وحید نے کہا کہ ہم نے یہ ادارہ بالخصوص لڑکیوں کے لئے بنایا ہے۔ کیونکہ ذہنی و جسمانی طور پر معذور لڑکیوں کے لئے صوبہ بھر میں کوئی الگ سے سکول نہیں۔ جس وجہ سے والدین بچیوں کو اداروں میں بھیجنے سے جھجکتے ہیں اور جیسے جیسے ان بچیوں کی عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے وہ احساس کمتری کا شکار ہوتی جاتی ہیں۔ چھوٹی عمر کے بچوں کو تعلیم و تربیت فراہم کی جاتی ہے جبکہ بڑی عمر کی بچیوںکو ووکیشنل ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔طیبہ وحید نے کہاکہ میں حکومت کی توجہ بھی اس طرف دلانا چاہتی ہوں کہ خصوصی بچوں کے سکولوں کی یہ تعداد ناکافی ہے۔اگرچہ حکومت ان بچوں کے لئے نئے ادارے قائم نہیں کر سکتی تووہ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے سکولوں کی حوصلہ افزائی کرے اور حکومتی سطح پر فنڈز اور سہولیات فراہم کریں تاکہ پرائیویٹ سیکٹر بہتر انداز سے کام کر سکے۔