بچوں کی سحری و افطاری........بعض بچے سحری کیلئے تمام رات جاگتے رہتے ہیں

 مظہر حسین شیخ
رمضان المبارک اپنی بھرپور رحمتوں اور برکتوں کی برسات کے ساتھ جاری ہے۔آج ساتواں روزہ ہے بچے اور بڑے ہرسال اس ماہ مقدس کا بڑی بے چینی سے انتظار کر تے ہیں۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو رحمتوں کے اس مہینے میں برکات کو سمیٹنے کے لئے بڑے اہتمام کے ساتھ نہ صرف خود سحری وافطاری کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں۔سردیوں میں روزے کا دورانیہ کم جبکہ موسم گرما میں راتیں مختصر اور دن لمبے ہونے کی وجہ سے یہ دورانیہ زیادہ ہوتا ہے اور اس موسم میں بھوک کم اور پیاس زیادہ محسوس ہوتی ہے اور اگر پیاس کی شدت کے دوران نہا لیاجائے تو نہ صرف سکون ملتا ہے بلکہ پیاس کی شدت میں بھی کافی حد تک کمی واقع ہوجاتی ہے۔اسلامی کیلنڈر کے مطابق روزے ایک ہی مہینے میں آتے ہیں،جبکہ انگریزی مہینے کی مناسبت سے اس اسلامی ماہ میں موسم بدلتا رہتا ہے جس طرح ہر اسلامی مہینے کا ایک پس منظر ہے اسلامی و انگریزی مہینوں کے نام بھی کسی نہ کسی مناسبت سے رکھے گئے ہیں
 آپ سب بچے جانتے ہیں کہ اسلامی اور انگریزی مہینوں کے نام کیا ہیں انگریزی مہینوں کے نام جنوری سے لیکردسمبر تک تو سب جانتے ہیں مگر اکثر ایسے طالب علم بھی ہیںجو اسلامی مہینوں کے نام اور ان کے مطلب سے ناواقف ہیں وجہ یہ ہے کہ زیادہ تربچے انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھتے ہیں۔آج ہم آپ کو ان مہینوں کے ناموں کی وجہ بتائیں گے لہٰذا ہم آپ کے علم میں اضافہ کے لئے نہ صرف اپنے ننھے منے قارئین بلکہ بعض بڑوں کی معلومات میں اضافہ کر دیتے ہیں۔اسلامی مہینوں کے نام اور ان کے رکھنے کی وجہ بیان کرتے ہیں۔
٭محرم الحرام :۔ دور جاہلیت میں اس ماہ میں دجال وقتال (یعنی قتل و غارت گری) منع تھا اس لئے اس ماہ کا نام محرم پڑ گیا۔
٭صفر المظفر :۔ اس سے مراد موسم خزاں ہے یعنی اس ماہ میں درختوں کے پتوں کا رنگ زرد ہو جاتا ہے۔
٭ربیع الاول :۔عرب میں اس ماہ میں بہارآتی ہے اس سے مراد موسم بہار ہے۔
٭ربیع الثانی :۔اس سے مراد موسم بہار کا آخری حصہ ہے۔
٭جمادی الاول :۔اس ماہ میں یخ پانی بستہ ہو جایا کرتا تھا اس لئے اسے جمادی الاول یعنی موسم سرما کے آغاز کا مہینہ کا نام دیا گیا۔
٭جمادی الثانی:موسم سرما کا آخری مہینہ‘ اسے جمادی الآخر بھی کہتے ہیں۔
٭رجب:یہ عربی لفظ ”ترجیب“ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے‘ تعظیم کرنا۔ اس ماہ میں عرب جنگ و جدل سے پرہیز کرتے تھے۔ اسے شہر اللہ یعنی اللہ کا مہینہ بھی کہتے ہیں۔
٭شعبان:(قسمت) قدیم عربوں کے نزدیک اس مہینہ میں قسمت کا فیصلہ ہوتا تھا اس لئے اس کا نام شعبان دیا گیا۔
٭رمضان:رمضان عربی لفظ ”رمض“ سے مشتق(نکلا) ہے جس کا مطلب ہے۔ جلا دینا۔ چونکہ رمضان شریف میں سب گناہ روزہ کی وجہ سے جل جاتے ہیں یعنی مٹ جاتے ہیں اس لئے اس ماہ کا نام رمضان رکھا گیا۔
٭شوال:(چلے جانا) یہ ”شول“ کی مناسبت سے رکھا گیا ہے جس کا مطلب برداشتہ شدن کے ہیں‘ اس ماہ میں عرب شکار کی غرض سے اپنے گھروں سے باہر چلے جاتے تھے اس لئے اسے شوال کا نام دیا گیا۔
٭ذی قعد:عرب اس ماہ میں جنگ کو ترک کرکے گھروں میں بیٹھ جاتے تھے۔
٭ذالحج :۔ (سال کا آخری مہینہ) چونکہ یہ سال کا آخری مہینہ ہوتا تھا اس لئے اسے ذی الحج کا نام دیا گیا۔
٭جنوری :۔ یہ نام روایتی دیوتا ”جینس“ سے منسوب ہے جو بہشت کے دروازے کا محافظ ہے۔
٭فروری:۔ یہ لاطینی لفظ ”فیر وآلہ“ سے مشتق(منسلک) ہے۔
٭مارچ:۔ یہ روم کے روایتی جنگی دیوتا ”مارس“ کی مناسبت سے مارچ کہلاتا ہے۔
٭اپریل :۔ یہ ایک لاطینی لفظ ”ایپی رائر“ کی مناسبت سے ہے جس کا مطلب ہے‘ لکھنا۔
٭مئی :۔ یہ ”مایا دیوی“ سے منسوب ہے جو پودوں کی نشوونما کی دیوی ہے۔
٭جون:۔ یہ لاطینی لفظ ”جونیس“ سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے‘ جوانی۔
٭جولائی :۔ یہ روم کے بادشاہ ”جولیس سیزر“کی مناسبت سے جولائی کہلانے لگا۔
٭اگست:۔یہ روم کے پہلے بادشاہ ”آگسٹس“ کی نسبت سے اگست کہلایا۔
٭ستمبر:۔یہ لاطینی لفظ”سیپٹم“ سے منسلک ہے۔ جس کا مطلب ہے‘ سات۔
٭اکتوبر :۔ یہ لاطینی لفظ ”آکٹو“ سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے‘ آٹھ۔
٭نومبر :۔ یہ لاطینی لفظ ”نووم“ سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے‘ نو۔
٭دسمبر :۔ یہ بھی لاطینی لفظ ”دسیم“ سے مشتق(منسلک) ہے جس کا مطلب ہے‘ دس۔
یاد رہے کہ رومی سال مارچ سے شروع ہوتا ہے اسی لئے ستمبر رومی سال کا ساتواں‘ اکتوبر آٹھواں‘ نومبر نواں اور دسمبر دسواں مہینہ ہے۔
ہر ایک نام کے معنی یا پھر اس کے رکھنے کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ اسلام میں بالخصوص ایسے نام رکھنے کی تلقین فرمائی گئی جو اپنے معنی کے اعتبار سے اچھے ہوں۔ دور جاہلیت میں ایسے ایسے نام رکھے جاتے تھے جوکہ بے معنی ہوتے تھے یا پھر اس کے معنی برے ہوتے۔ اس لئے آپ ایسے ناموں کو رکھنے سے منع فرماتے اور ان ناموں کو تبدیل کرکے ان کی جگہ اچھے اور بامعنی نام رکھنے کا حکم فرماتے تھے۔ اسی طرح جگہوں‘ مسجدوں‘ علاقوں‘ پہاڑوں‘ درختوں وغیرہ کے نام بھی اچھے اور ان کی مناسبت کے اعتبار سے رکھے گئے۔
بات ہورہی تھی سحر و افطار کی۔آجکل چونکہ موسم برسات ہے اس موسم میں بچے ساری رات نہیں سوتے صبح سحری کرکے سوجاتے ہیں بعض بچے تو افطاری کے وقت اٹھتے ہیں جو کہ درست نہیں یہ روزہ نہیں فاقہ ہے جبکہ روزہ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے سے ہی مکمل روزہ ہوتا ہے۔
تقریباً ہر گھر میںافطاری بڑے اہتمام کے ساتھ کی جاتی ہے، چٹ پٹے دہی بڑے ،سموسے،فروٹ چاٹ،آلو چنے اور طرح طرح کے پکوان بھی شامل ہوتے ہیں ان چٹ پٹی اشیاءکو دیکھ کر ہاتھ نہیں رکتا۔پیٹ بھرجاتا ہے مگر نیت نہیں بھرتی۔ چٹ پٹی اشیا کھانے کے بعد پیاس بھی شدت کی لگتی ہے ایسے میں تین چار گلاس ٹھنڈے مشروبات کے پی جانا کوئی بڑی بات نہیں اور اس کے بعد نیند کا غلبہ طاری ہوجاتا ہے۔ماہرین کے مطابق افطاری کے دوران پیٹ نہیں بھرناچاہئے ۔سنت نبوی کے مطابق افطاری کھجور یا پانی سے کرنی چاہئے اورٹھنڈے مشروب کے ایک یادوگلاس پینے کے بعدفروٹ چاٹ لینی چاہیئے،اس سے طبیعت بوجھل نہیں رہتی ہاں البتہ سحری کے دوران پراٹھہ اور دہی کھا لینے میں کوئی حرج نہیں۔ نماز مغرب سے قبل جب روزہ افطار ہوتا ہے نماز اور روزہ بیماروں میں شفا کا پیغام بھی لاتا ہے وہ اس طرح کہ عام دنوں میں کھانے پینے سے پرہیز نہیں کیاجاتا جبکہ ماہ رمضان میں روزہ کے اوقات میں کھانے پینے سے مکمل پرہیز کیاجاتا ہے۔سنت نبوی ہے کہ کم کھانا اور کم سونا صحت کیلئے مفید ہے۔ آئیے! اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ خدائے بزرگ و برتر ہمیں رمضان المبارک میں نیک اعمال کرنے اور ہر برے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)