ساہی وال ، سرگودھا: ڈاکوئوں کا مین بازار پر دھاوا‘ چوکیدار پر تشدد‘ 2 جیولرز شاپ سے ڈیڑھ کروڑ کے زیورات لوٹ لئے‘ تاجروں کا مظاہرہ

ساہیوال/ سرگودھا (نامہ نگار) ہوٹر بجاتی گاڑیوں پر سوار 14 ڈاکوئوں کا رات گئے ساہیوال کے مین بازار پر دھاوا، چوکیداروں پر تشدد، 2 جیولرز شاپس  کے تالے توڑ کر لاکروں سے کروڑوں روپے کے طلائی زیورات اور لاکھوں روپے لوٹ کر فرار ہوگئے۔ ڈاکو چاروں چوکیداروں کے ہاتھ پائوں اور منہ باندھ کر پھینک گئے۔ واقعہ پرد کانداروں کی شٹر ڈائون ہڑتال، انجمن تاجران کا احتجاجی مظاہرہ سڑک بلاک کرکے مقامی پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ تفصیلات کے مطابق چودہ اور 15 جنوری کی درمیانی شب تین بجے کے قریب نامعلوم ڈاکو جن کی تعد اد 14بتائی جاتی ہے ہوٹر بجاتی دوگاڑیوں پر سوار ہوکر ساہی وال مین بازار آئے۔ پہرے پر موجود چوکیداروں صابر، ایوب، قیوم اور رحیم بخش سے یہ کہہ کر اسلحہ لے لیا کہ وہ ایف آئی یو سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور چوکیداروں کو یہ کہہ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ بازار میں دہشت گرد گھس آئے ہیں اور وہ بے خبر ہیں۔ تشدد سے صابر اور ایوب شدید زخمی ہو گئے۔ ڈاکوئوں نے چوکیداروں کے منہ پر ٹیپ لگا دی اور ہاتھ پائوں باندھ کر ایک دکان میں بند کر دیا۔ خواجہ فیصل کی دکان فیصل جیولرز اور تصور عباس کی دکان زین جیولرز کے تالے کٹر سے کاٹ کر لاکھوں روپے اور ڈیڑھ کروڑ روپے کی جیولری لوٹ لی۔ اس دوران سبزمنڈی سرگودھا جانے والے دکاندارجو بازار سے گزر رہے تھے کو  روک کر  ان سے بھی نقدی اور موبائل فون چھین لئے گئے۔ تھوڑے فاصلہ پر تھانہ ساہیوال کی پولیس ورادات سے بے خبر رہی اور واردات کے ایک گھنٹہ بعد جائے وقوعہ پر پہنچی۔ ایس پی عطا الرحمن اور ڈی ایس پی غلام جیلانی نفری لے کر موقع پر پہنچے تو مقامی انجمن تاجران کے صدر ملک غلام حسین اور جنرل سیکرٹری رانا نثار احمد نے شدید احتجاج کیا۔ دکانداروں نے شٹر ڈائون کرکے جبکہ سول سوسائٹی کے ارکان اور صحافتی حلقوں نے بھی شدید الفاظ میں احتجاج کرتے ہوئے کہا ساہیوال پولیس جرائم روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مظاہرین نے ٹائر جلا  کر سڑک بلاک کردی اور ڈی ایس پی کے خلاف ’’گو جیلانی گو‘‘ کے نعرے لگائے۔ ساہیوال پولیس نے نامعلوم ڈاکوئوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔