اسحاق ڈار کی ملاقات: پاکستان کی معاشی ترقی‘ جمہوریت کے استحکام اور سکیورٹی کیلئے بھرپور تعاون کرینگے: جاپانی وزیر مملکت

اسحاق ڈار کی ملاقات: پاکستان کی معاشی ترقی‘ جمہوریت کے استحکام اور سکیورٹی کیلئے بھرپور تعاون کرینگے: جاپانی وزیر مملکت

ٹوکیو (صباح نیوز +  نوائے وقت رپورٹ) جاپان نے معیشت، سیکورٹی، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے اور اسکی حمایت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس عزم کا اظہار ٹوکیو میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور جاپان کے وزیر مملکت کیسنبو کیٹو کے درمیان ملاقات میں کیا گیا۔ جاپانی وزیر نے پاکستان میں معیشت کی ترقی اور سکیورٹی کیلئے وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جاپان دوطرفہ تعلقات اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کے پروگرام میں مثبت جائزے جاپان کیلئے حوصلہ افزا ہیں تاکہ ین کے قرضے دوبارہ شروع کئے جا سکیں۔ جاپانی وزیر نے یقین دلایا کہ ان کا ملک پاکستان میں بے گھر افراد کی دوبارہ آبادکاری، پولیو کے مرض کے خاتمے، سیلاب کے اثرات میں کمی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امداد کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ وزیر خزانہ نے خطے میں امن اور دوستی کے فروغ کیلئے وزیراعظم نواز شریف کی کوششوں کے بارے میں بتایا انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ وزیراعظم کی بھارت کے ساتھ پرامن اور تعاون پر مبنی تعلقات کیلئے سنجیدہ کوششوں کا مثبت جواب نہیں ملا۔ اس سے پہلے ٹوکیو میں جاپان پاکستان پارلیمنٹیرین فرینڈشپ لیگ کے صدر  سیشیرو ایٹوکی طرف سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سندھ میں قائم کئے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز سے مکمل مستفید ہونے کے لئے جاپانی کمپنیوں کو مدعو کیا۔ مزید برآں  نوائے وقت رپورٹ کے مطابق  وزیر خزانہ  اسحاق ڈار نے جاپان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ  تاروآسو سے ملاقات کی۔  اس موقع پر  اسحاق ڈار  نے کہا کہ پاکستان جاپان کے ساتھ تجارتی تعلقات اور پاکستان  میں  جاپانی  سرمایہ کاری  میں فروغ کا خواہشمند ہے۔ پاکستان میں کوئلے  سے بجلی پیدا کرنے سمیت توانائی کے شعبے  میں سرمایہ کاری کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں،  پاکستان کو دہشت گردی  کے خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں  ملی ہیں۔ معاشی ی شعبے میں جاپان  کے تعاون کو قابل  تحسین سمجھتے ہیں۔  مستقبل میں توقع ہے کہ دونوں  ممالک کے معاشی و سیاسی  تعلقات میں اضافہ  ہو گا۔