طالبان سے کہہ دیا، حملے روکیں ورنہ حکومت پر آپریشن کیلئے دبائو بڑھے گا: حکومتی کمیٹی

پشاور+ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + این این آئی) طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قائم کردہ حکومتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسفزئی نے کہاہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے مذاکرات کا ماحول بری طرح متاثرہو رہاہے، حکومتی کمیٹی طالبان کے غیرآئینی مطالبے کونہیں مانے گی،طالبان پرواضح کردیا ہے کہ حملے روک دیں ورنہ حکومت پر آپریشن کے لیے دبائو بڑھے گا، فوجی کارروائی روکنے کے لیے مذاکرات کو کامیاب بنانا پڑے گا۔ نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے رحیم اللہ یوسف زئی نے کہاکہ فوج بھی چاہتی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے، فوج مکمل تیار ہے، کارروائی تب کریگی جب حکومت کہے گی، سیز فائر یا معاہدہ تحریک طالبان سے کیا جائیگا۔ دہشت گردی کی کارروائیاں فوری طورپربندکی جائیں۔ تحریک طالبان پاکستان کو ایسے بیانات سے گریزکرناچاہیے جس سے مذاکراتی ماحول خراب ہو۔ معاہدہ اس توقع کے ساتھ ہوگا کہ تحریک طالبان دیگر تنظیموں کو عملدرآمد کا پابند بنائیگی۔ مذاکرات اورشدت پسندی ساتھ ساتھ نہیںچل سکتے۔ یہ نہیںہو سکتاکہ ایک طرف مذاکرات اوردوسری طرف دہشتگردی کی کارروائیاںچلتی رہیں سب کو قانون کے دائرے میںرہ کرکام کرناہوگا۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے کوارڈی نیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ طالبان کی جانب سے کارروائیاں بند کرنے کے اعلان کا انتظار ہے۔ جنگ بندی کے اعلان پر موثر عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کرانا ہوگی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے کارروائیاں بند کرنے کے اعلان کے بعد حکومت سے بھی درخواست کریں گے طالبان کے اعلان کے بعد دیگر معاملات پر بات چیت کیلئے حکومتی کمیٹی کہیں بھی جانے کو تیار ہے۔