دہشت گردوں کے حق میں علماء کنونشن کرنیوالے قوم کو گمراہ نہیں کرسکتے: سنی اتحاد کونسل

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ طالبان امریکہ نہیں پاکستان کے خلاف لڑ رہے ہیں طالبان غیرشرعی اور غیرانسانی دہشت گردی بند کر دیں سکیورٹی فورسز پر حملے کرنا امریکہ اور بھارت کو فائدہ پہنچانا ہے۔ امریکی مظالم کی سزا پاکستانی عوام کو دینے کا کوئی شرعی و اخلاقی جواز نہیں ڈرون حملے تو رک گئے لیکن خودکش حملے جاری ہیں امریکہ نے دہشت گردی کے ذریعے زمینی ڈرون حملے شروع کر دیئے ہیں۔ پاکستان سامراجی پراکسی جنگوں کی آگ میں جل رہا ہے۔ دہشت گردوں کے حق میں علماء کنونشن کرنے والے قوم کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ شرپسندوں کو سزائیں نہ ملنے کی وجہ سے دہشت گردی بڑھی ہے۔ دھماکوں کی گونج میں امن مذاکرات کی بانسری بجائی جا رہی ہے طالبان حکومت کو مذاکرات میں الجھا کر خود دہشت گردی میں مصروف ہیں۔ دہشت گردی کی یلغار کو عوامی للکار سے روکا جائے مذاکرات کے اعلان کے بعد ہونے والے دھماکوں کی ایف آئی آر عمران خان، سمیع الحق، منور حسن اور نوازشریف کے خلاف درج ہونی چاہئے۔ وہ سنی اتحاد کونسل کے مرکزی و صوبائی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ پچاس ہزار شہداء کے خون کا کفارہ اور قصاص کون ادا کرے گا۔ مذاکرات کی پیشکشوں سے طالبان کو طاقت ملی ہے اور ریاست کی کمزوری ظاہر ہوئی ہے۔ امن قائم کرنے کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے دہشت گردی کا خاتمہ مذاکرات سے نہیں آپریشن سے ہو گا۔ ریاست مخالف طالبان سے حکومت کا خفیہ گٹھ جوڑ تباہ کن ہو گا۔ کراچی اور پشاور میں دہشت گردی کی تازہ لہر سے ثابت ہو گیا ہے کہ طالبان مذاکرات نہیں چاہتے۔ طالبان کے حامی مذہبی راہنما پاکستان کی سلامتی سے کھیل رہے ہیں اجلاس میں مفتی محمد سعید رضوی، پیر سیّد محمد اقبال شاہ، صاحبزادہ عمار سعید سلیمانی، مفتی محمد حسیب قادری، میاں فہیم اختر، ملک بخش الٰہی، الحاج سرفراز احمد تارڑ، مولانا محمد اکبر نقشبندی، پیر طارق ولی چشتی، علامہ نوازبشیر جلالی، ارشد مصطفائی، سیّد جوادالحسن کاظمی، صاحبزادہ مطلوب رضا، شیخ محمد ذوالفقار رضوی اور دیگر نے شرکت کی۔