حکومتی اور طالبان مذاکراتی کمیٹی کے ارکان جلد میرانشاہ جائیں گے

ڈی آئی جی خان (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں)  ذرائع کے مطابق حکومتی اور طالبان کمیٹی کے 4 ارکان آئندہ 2 روز میں میرانشاہ جائیں گے۔ طالبان مذاکراتی کمیٹی کے ارکان میں  پروفیسر ابراہیم، یوسف شاہ شامل ہیں جبکہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان میں میجر (ر) عامر، رحیم اللہ یوسف زئی شامل ہیں۔ حکومتی اور ثالثی کمیٹیوں نے مشترکہ طور پر طالبان سے براہ راست مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔  ان مذاکرات میں بڑی پیشرفت کا امکان ہے۔  ثنا نیوز کے مطابق حکومت اور طالبان جنگ بندی کے قریب پہنچ گئے ہیں، معاملات تیزی سے آگے بڑھنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ دونوں اطراف سے فائر بندی کی مکمل پاسداری کی یقین دہانیوں پر بات چیت کو  ہو رہی ہے۔ جلد قوم کو خوشخبری سنانے کا یقین ظاہر کیا گیا  ہے۔ مذاکراتی عمل ہر جلد وزیر اعظم کے طرف سے بھی اہم اعلان کی توقع کی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق  قاصدوں کو   بھجوایا دوطرفہ سیز فائر کا سازگار ماحول بن رہا ہے ۔ ثالثی کمیٹی نے بیانات کے حوالے سے احتیاط کی اپیل بھی کی ہے  یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ  تحریک طالبان پاکستان طالبان نے وزیر اعظم اور ڈی جی آئی سے ملاقات کا مطالبہ نہیں کیا یہ مطالبہ ثالثی کمیٹی کے اراکان نے کیا ہے۔ ثالثی  کمیٹی کے سرکردہ رکن  پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کو دونوں اطراف سے سیز فائر  کا سازگار ماحول قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے  یقیناً مشکلات ہیں  کمیٹیوں کی جانب سے  بھرپور کوششیں  کی جارہی ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا طالبان نہیں بلکہ ثالثی کمیٹی نے وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی  آئی ایس آئی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی  اسی طرح حکومتی کمیٹی نے   طالبان سے براہ راست باتی چیت کی خواہش ظاہر کی  ہم کوشش کررہے  ہیں، مذاکراتی عمل کیلئے کم سے کم وقت لگے۔ قوم دعا کرے  اللہ کے فضل سے ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔ تحریک طالبان پاکستان کی شوری مکل طور پر  بااختیار  ہے اور یہی  شوری  بات چیت کے لئے کا فی ہے  مشکلات جلد عبور کر لیں گے میںیا میں یہ بات نہ اٹھائی جائے کہ کون قابل اعتماد ہے اور کون نہیں۔آئی این پی کے مطابق حکومت کی امن مذاکراتی کمیٹی نے طالبان کمیٹی سے سیکیورٹی فورسز کی زیر حراست بوڑھوں‘ بچوں اور خواتین قیدیوں کی فہرست طلب کر لی ہے‘ حکومتی کمیٹی نے بدلے میں تمام بے گناہ مغویوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے مختصر مدت کی بجائے فائربندی کم از کم ایک ماہ کیلئے ہونی چاہئے‘ حکومتی کمیٹی کا طالبان کی مختصر فائر بندی کی تجویز کا جواب۔ ذرائع کے مطابق حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کی طرف سے تیسرے مذاکراتی دور کے دوران دونوں جانب سے بے گناہ قیدیوں کی رہائی کے مطالبات کئے گئے۔ طالبان کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران حراست میں لئے گئے تمام بوڑھے‘ خواتین اور بچوں کو رہا کریں جس کے جواب میں حکومتی کمیٹی نے کہا کہ طالبان کو بھی ان تمام بے گناہ اور معصوم لوگوں کو رہا کرنا ہوگا جن کو انہوں نے بلاوجہ اغواء کرکے اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔ کمیٹیوں میں جلد فہرستوں کا تبادلہ متوقع ہے۔