جرمن دوسری جنگ عظیم میں مچھر کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے تھے: ماہر حیاتیات کا دعویٰ

لندن (بی بی سی اردو) ایک جرمن ماہر حیاتیات نے دعویٰ کیا ہے جرمن سائنسدانوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ملیریا پھیلانے والے مچھروں کے بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تحقیق کی تھی۔ ٹوبگین یونیورسٹی کے ڈاکٹر کلاز رائن ہارٹ نے 1944ء میں ڈگاؤ حراستی مرکز میں قائم ایک تحقیقاتی مرکز کی دستاویزات کا مطالعہ کیا ہے۔ یہ مرکز نازیوں کی نیم فوجی تنظیم شٹز سٹافیل کے سربراہ ہینرک ہیملر کے حکم پر قائم کیا گیا تھا۔ سائنسدان ایسے مچھروں کی تلاش میں تھے جن میں ملیریا کے جراثیم داخل کر کے انھیں دشمن کے علاقے میں پھیلایا جا سکے۔