اسلام کے نام پر درندگی پھیلانے والوں نے پاکستان میں رہنا ہے تو ہماری شریعت ماننا ہو گی: بلاول

اسلام کے نام پر درندگی پھیلانے والوں نے پاکستان میں رہنا ہے تو ہماری شریعت ماننا ہو گی: بلاول

ٹھٹھہ (ایجنسیاں) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسلام کے نام پر وحشت اور درندگی پھیلانے والوں  نے پاکستان میں رہنا ہے تو  ہماری شریعت کو تسلیم کرکے قوانین کی پابندی کرنا ہوگی ورنہ ڈرو اس وقت سے جب پوری قوم تمہارے خلاف اکٹھی ہوکر دمادم مست قلندر کا نعرہ بلند کردیگی اور تمہیں بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا‘ تم لاشوں کے ڈھیر لگاکر جنت کے دروازے کھولنا چاہتے ہو‘ ایسا ممکن نہیں‘ اگر تم سمجھتے ہو کہ دہشت گردی کرکے مجھے بھی دوسروں کی طرح خاموش کرا لو گے تو یہ تمہاری بھول ہے‘ تمہیں ہر قدم پر میری للکار کا سامنا کرنا پڑے گا‘ میں تمہیں عبرت کا ایسا نشان بنا دوں گا کہ تمہارے جنازے کیلئے ایک کندھا بھی نہیں ملے گا‘ بدقسمتی سے آج شریعت کا نعرہ لگانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قائداعظم کو کافراعظم قرار دیا‘ جنہیں شریعت کا مطلب تک نہیں پتہ‘ جن کا مقصد عوام کے خون پر اپنے جنگلی قوانین نافذ کرنا ہے‘ مذاکرات کی حمایت کرنے والے مذاکرات ضرور کریں لیکن یاد رکھیں کہ دہشت گردوں کا جواب پاکستانی قوم کے لہو میں لکھا جائے گا‘ ملکی مسائل مذاکرات سے حل ہونے والے نہیں ہیں‘ ملکی مسائل کا حل دنیا کے سامنے پاکستان کا مہذب چہرہ پیش کرنے میں ہی ہے۔ سندھ فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمیں غلط تاریخ پڑھائی گئی۔ اسلام کے نام پر ہمارے مذہب کا چہرہ بگاڑ دیا گیا۔ ہمارے معتدل مذہب کو انتہا پسندی کے روپ میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گرد چاہتے ہیں کہ ہم اپنی روایات کو بھول جائیں لیکن ایسا ممکن نہیں۔ ہم پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کے مالک ہیں۔ ہمارا ورثہ انتہائی محترم ہے۔ ہم ان چند انتہا پسندوں کی خاطر اپنی پیاری تہذیب کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم نے سندھ فیسٹیول میں دنیا کو دکھا دیا کہ ہم دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ہمارا ملک‘ ہماری تہذیب‘ ہماری ثقافت اور ہماری میراث انتہائی خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں‘ تعلیمی اداروں‘ ہمارے علماء اور کچھ مدارس نے ہم سے جھوٹ بولا۔ ہمیں امپورٹڈ فری اسلامک عرب کلچر تھمایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب سن لیں کہ ہم اسلام اور ان کے خود ساختہ اسلام میں فرق کرنا جانتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ سب ہمیں جھکانا‘ توڑنا اور دبانا چاہتے تھے لیکن ناکام ہونے پر ہم پر حملہ کردیا۔ لفظوں کی گولیاں برسانے والوں نے ہم پر بموں کی برسات کردی۔ یہ دہشت گرد زمانے بھر کی وحشت کو  ہماری تہذیب بناکر ہمیں اپنے جیسا جنگلی نہیں بناسکتے۔  ہمیں شریعت سمجھانے والوں کو جان لینا چاہئے کہ ہم شریعت کا مطلب جانتے ہیں‘ ہم اسلام کا مطلب بھی جانتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اسلام کا مقصد انسانیت ہے۔ جب بے نظیر بھٹو کی شہادت پر پاکستان لہو میں ڈوبنے والا تھا تو آصف زرداری نے انسانیت کی خاطر اس لگی آگ کو بجھایا۔ ہمیں جھوٹی تاریخ پڑھانے والو! یہ مت بھولو کہ قرآن پاک کا سب سے پہلا ترجمہ سندھی زبان میں کیا گیا تھا۔ ہم دہشت گردوں کی شریعت اور جنگلی قانون کو نہیں مانتے۔ اگر شریعت کی بات کرنی ہے‘ میثاق مدینہ کی پابندی کرو۔ ہم پر اپنا کالا قانون نافذ کرنے کے خواب دیکھنا چھوڑ دو۔ ہم اسلام کے سپہ سالار ہیں۔ ہم سندھ فیسٹیول میں تمہارے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کا نوجوان میدان میں آکر مقابلہ کرتا ہے۔ اسے جوش سے جینا اور عزت سے ہارنا آتا ہے۔ دہشت گرد چاہتے ہیں کہ ان کے قوانین نافذ ہوجائیں تو وہ ہمارے میلے‘ عرس‘ فیسٹیول سمیت ہمارے تہذیبی ورثے کو اپنی جہالت کی نذر کردیں۔ اگر دہشت گردوں کا قانون نافذ ہوگیا تو  ہماری بیٹیوں اور بہنوں کیساتھ بھی ملالہ جیسا سلوک ہوگا جبکہ ہمارے بیٹے بھی اعتزاز کی طرح موت کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کراچی میں مزار قائد‘ لاہور میں مینار پاکستان اور لاڑکانہ میں گڑھی خدا بخش کیساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو زیارت میں قائداعظم کے گھر کیساتھ کیا گیا۔ اگر ہمیں دنیا میں جینا ہے تو یہ انداز ہمیں برباد کردیں گے۔ دہشت گردوں کیخلاف آخری جنگ سندھ کے میدان میں لڑی جائے گی جس کے بعد سندھ‘ پنجاب‘ خیبر پی کے‘ بلوچستان‘ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پاکستان بھر میں امن کے پھول کھلیں گے اور ہر طرف روشنیوں کی کرنیں پھوٹیں گی۔