..........سقوط ڈاکہ...........

چوہدری عبدالخالق
قائد تمہاری روح آج بے قرار ہے
اس سانحے پہ قوم تیری شرمسار ہے
ہم وہ ہیں جو وطن کی حفاظت نہ کر سکے
دشمن کی سازشوں سے موثر نہ لڑ سکے
جس کا وطن عزیز ہے وہ اشکبار ہے
ہم جانتے ہیں روح تیری بے قرار ہے
وہ دیس کہ جس دیس کا اک بازو کٹ گیا
ہم دیکھتے ہی رہ گئے ٹکڑوں میں بٹ گیا
دامن ہماری آبرو کا تار تار ہے
ہم جانتے ہیں روح تیری بے قرار ہے
جتنے شریک جرم تھے بے موت مر گئے
بے نام ہو کے رہ گئے جڑ سے اُکھڑ گئے
جو جیت سمجھتے تھے وہی اُن کی ہار ہے
ہم جانتے ہیں روح تیری بے قرار ہے
افسوس تیرے جیسا نہ رہبر کوئی ملا
جو بھی یہاں پہ آیا ہمیں لوٹ کر گیا
کب آئے گا ثانی تیرا یہ انتظار ہے
ہم جانتے ہیں روح تیری بے قرار ہے
تنظیم و اتحاد کو ہم نے بھلا دیا
محکم یقین کو بھی ہوا میں اڑا دیا
کسمپرسی ہے، بے چینی اور انتشار ہے