مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب

لیفٹیننٹ کرنل(ر) عبدالقادر
16 دسمبر کی تاریخ ہمیں کف افسوس ملنے کے لئے نہیں بلکہ اس چیز کی یاددہانی کراتی ہے کہ ہمیں ان عوامل کا کھوج لگانا ہے جس کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوا تاکہ ہم آئندہ ایسے کسی سانحے سے بچ سکیں۔ یہ سوچ کر دماغ ماﺅف ہوجاتا ہے کہ ہم حیران اور پریشان اب تک تاریخ کے اسی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں اس نے ہمیں چالیس سال پہلے جھنجوڑ کر چھوڑا تھا۔ انداز سیاست اور طرز حکومت تو اب بھی ویسی کی ویسی ہے۔ ہم اب نہ صرف ایک کمزور قوم کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پرموجود ہیں بلکہ اپنی بقاءکے لئے کسی نہ کسی عالمی قوت کی حاشیہ نشینی پر بھی اپنے آپ کو مجبور سمجھتے ہیں اور کسی حد تک اسلام کے خلاف عالمی سازشوں میں شریک ہونے پر مجبور ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو دہشت گردی جیسی مزید مشکلات میں پھنسا لیا ہے۔ کیا ہم سے اور ہماری آئندہ نسلوں سے ایک غیور قوم کی حیثیت سے رہنے کا حق چھین لیا گیا ہے؟ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اس مختصر مضمون میں یہ تو ممکن نہیں کہ ان وجوہات کی تفصیل میں جایا جاسکے اس لئے ایک نہایت ہی سرسری جائزے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔
پاکستان کسی جغرافیائی یا قومیتوں کی بنیاد پر برصغیر پاک و ہند سے جدا نہیں ہوا تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو الگ الگ قومیتوں کے حامل برصغیر کے مغرب میں واقع چار صوبوں کا اس میں شامل ہونے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ مشرقی پاکستان کی نہ صرف زبان اور ثقافت الگ تھی بلکہ وہ برصغیر پاک و ہند کے انتہائی مشرق میں ہونے کی وجہ سے ان صوبوں سے جغرافیائی لحاظ سے بہت دور تھا۔ دونوں حصوں کے درمیان زمینی رابطے کے لئے ہمارا انحصار ہندوستان پر تھا۔ جنگ کی صورت میں ہوائی اور سمندری راستہ آسانی کے ساتھ منقطع کیا جاسکتا تھا۔ مذہب کے سوا ہمیں کوئی اور چیز متحد نہیں رکھ سکتی تھی اور اسی کی بنیاد پر تقسیم ہند معرض وجود میں آئی تھی۔ جس نظریے کے تحت پاکستان بنا تھا وہ نظریہ ہم سے اوجھل کردیا یا ہوگیا تھا اور اب اور بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اسلامی ریاست کے خدوخال سے واقفیت رکھنے والی جماعتیں اور شخصیات کو ابتدا ہی سے اس طور پر سیاسی عمل سے الگ کردیا گیا تھا کہ وہ نہ صرف پاکستان کی اساس کو کوئی ٹھوس بنیاد پر استوار نہ کرسکیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح فروعی اختلافات میں الجھ گئیں کہ وہ کسی بھی قسم کی تبدیلی لانے کی صلاحیتیں کھوبیٹھیں اور بہت جلد اقتدار کی بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھونے میں مصروف ہوگئیں۔
رقبے کے لحاظ سے ایک تہائی ہونے کے باوجود مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان کی آبادی کے برابر تھی۔ زراعت کے سوا آمدن کے دوسرے ذرائع تقریباً ناپید تھے۔ برآمد کرنے والی اشیاءمیں صرف پٹ سن ہی قابل ذکر ہے اور جو ابتدا ہی سالوں میں ہمارے زرمبادلہ کمانے کا واحد ذریعہ تھی۔ تقسیم سے قبل بھی مغربی پاکستان کے مقابلے میں وہاں غربت بہت زیادہ تھی۔ گھریلو صنعتوں کے علاوہ وہاں کسی بڑی صنعت کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ تقریباً یہی حال مغربی پاکستان کا بھی تھا لیکن بہت جلد یہاں سرمایہ کاری کا عمل شروع کردیا گیا لیکن وہاں اس شعبے میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی جس کا الزام مغربی پاکستان پر لگایا گیا حالانکہ مرکز میں بنگال سے تعلق رکھنے والے ناظم الدین کے علاوہ دو طاقتور وزرائے اعظم حسین شہید سہروردی اور محمد علی بوگرا رہ چکے تھے جنہوں نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ بہرحال بنگالیوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی تھی کہ ان کی بدحالی کا ذمہ دار مغربی پاکستان ہے۔
بلاشبہ مسلم لیگ نے پاکستان کے بنانے میں اس وقت ایک مرکزی کردار ادا کیا جب دوسری سیاسی اور مذہبی قوتیں یا تو پاکستان مخالف تھیں یا ابھی تک تذبذب کا شکار تھیں۔ مغربی پاکستان کے چاروں صوبے ماضی قریب میں کبھی بھی ایک اکائی کی صورت میں کسی مرکزی اتھارٹی کے تحت نہیں رہے تھے۔ سندھ صوبہ بمبئی کا حصہ تھا۔ پنجاب کو آبادی کی بنیاد پر دو حصوںمیں تقسیم کیا گیا تھا اور مشرقی اور مغربی بنگال کو بھی کچھ عرصہ قبل ہی الگ الگ حیثیت دی گئی تھی جو بلاشبہ مذہب کی بنیاد پر ہی تھی گو اس کا اس وقت برملا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ خضر حیات نے جو تقسیم سے قبل پنجاب کا وزیراعلیٰ اور یونیسٹ پارٹی کا سربراہ تھا پاکستان مخالف قوتوں کا سرخیل تھا۔ صوبہ سرحد میں سرخ پوشوں کی شدید مخالفت کی وجہ سے وہاں پاکستان کے حق میں ریفرنڈم کروانا پڑا۔ بلوچستان خان آف قلات کی آخری وقت کی آمادگی کی وجہ سے پاکستان میں شامل ہوا تھا۔ ہندوستان سے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو ہجرت کرکے فوراً پاکستان آنا پڑا جبکہ اس وقت یہاں ان کے بسانے کا کوئی بندوبست نہ ہوسکا تھا۔ بلاشبہ ان میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو نظریاتی طور پر تحریک پاکستان سے عملی طور پر وابستہ رہے تھے۔ لیکن کچھ علاقوں خاص کر مشرقی پنجاب سے قتل و غارت کے ذریعے مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ یہ لوگ سر چھپانے اور تلاش معاش کی فکر میں لگ کر آہستہ آہستہ اپنی ملکی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈالنے پر مجبور ہوگئے۔ بانی پاکستان قائداعظمؒ جو اتحاد کی علامت تھے ایک سال کے قلیل عرصے میں ہم سے جدا ہوگئے اور بہت جلد ان کے مخلص ساتھی جو تعداد میں بہت کم تھے بدلتے حالات پر اپنی گرفت قائم نہ رکھ سکے جس کی وجہ سے اقتدار ایک مفاد پرست طبقے کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ کیا وہ وقت آپس میں الجھنے اور کشمکش کا تھا یا باہمی اتحاد اور یگانگت کا؟
چہ جائیکہ کسی نظریاتی ملک میں متحد وسیاسی جماعتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی یہاں تو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کے مصادق بے شمار پارٹیوں نے اقتدار کے ایوانوں پر یلغار کردی اور اس دوڑ میں قسمت نے ان لوگوں اور جماعتوں کی یاوری کی جو سیکولر سوچ رکھتی تھیں اور جن کا اسلام سے صرف منہ زبانی تعلق تھا۔ اس پر طرہ یہ کہ ان جماعتوں کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں تھی جن کے خانوادے ہمیشہ سے انگریزوں کے کاسہ لیس رہے تھے اور اپنی دولت اور اثر کی وجہ سے ان جماعتوں میں اہم عہدوں پر فائز تھے۔ مغربی پاکستان کے برعکس مشرقی پاکستان میں ایسے لوگ بہت کم تھے جو انگریزوں کے مراعات یافتہ یا بہت بڑے زمیندار اور سرمایہ دار تھے۔ وہاں سیاست میں زیادہ تر لوگ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ سیاسی جماعتیں یہ بات بھلا بیٹھیں تھیں کہ اس نوزائیدہ نظریاتی مملکت نے ابھی تو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونا ہے۔ جس کے لئے سب نے مل بیٹھ کر ایک طویل جدوجہد کرکے اس کی ٹھوس بنیادوں پر تعمیر کرنی ہے۔ لیکن جن کے ہاتھوں میں اقتدار آگیا تھا اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں تھی اس لئے وہ ابتدا ہی سے چھینا جھپٹی میں مشغول ہوگئے۔ سن پچاس کی دہائی میں ایک وقت وہ بھی آیا کہ ایک سال کے اندر مرکز میں تین تین حکومتیں بدلیں۔
مذہبی جماعتوں کا اپنا کوئی علیحدہ لائحہ عمل نہیں تھا اس لئے وہ بھی اقتدار کے شوق میں آپس میں الجھ گئیں اور ایک دوسرے کے عقائد پر حملے شروع کردئیے۔ فروعی اختلافات کو اتنی ہوا دے دی گئی کہ ایک دوسرے کو کافر تک قرار دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کی گئی۔ عوام جو ابھی تک سیاسی شعور سے نابلد تھے سوائے تماشائی بننے کے کوئی مثبت کردار ادا کرنے کے قابل نہیں تھے۔ ان حالات میں سیاسی عمل میں فوج کی مداخلت کا ایک قوی جواز بن گیا۔ قومی افق پر صرف فوج ہی ایک ایسی قوت تھی (اور اب بھی ہے) جو مکمل اسلامی تو نہیں لیکن ملک کو کسی متعین راہ پر آگے بڑھانے اور بگڑتے حالات کو سدھارنے کی متمنی تھی۔ ایوب خان نے مارشل لاءلگا کر ایبڈو E.B.D.O قوانین کے تحت سیاست سے کچھ گند صاف کرنے کی کوشش کی اور معیشت میں استحکام تو پیدا کیا لیکن اس نے بھی اپنے اقتدارکو طول دینے کے لئے اپنے آپ کو اسی سیاسی گند میں الجھالیا۔ گو کہ اس نے مسلم لیگ کی تنظیم نو کرکے ملک کے دونوں حصوں میں اسے ایک مضبوط جماعت بنا دیا تھا لیکن بنیادی جمہوریت کے فورم پر اپنے آپ کو محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں دوبارہ صدر منتخب کرنے کی کوشش میں اسے عوام کی نظروںمیں بے وقعت کردیا تھا۔مسلم لیگ کی دو حصوں میں تقسیم نے ملکی سیاست میں ایک ایسی جماعت کو نقصان پہنچایا جو ملک کی دونوں شاخوں میں یکساں مقبولیت رکھتی تھی۔ اس طرح اب تک دبی ہوئی پاکستان مخالف قوتوں کو ابھرنے کا موقع ہاتھ آگیا۔ مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کی قیادت سیاسی سوجھ بوجھ سے عاری اور اخلاقی طور پر دیوالیہ منعم خان جیسے لوگوں کو سونپ دی گئی۔ اس طرح بنیادی طور پر ایک علاقائی پارٹی عوامی لیگ کو ایکا ایکی پذیرائی حاصل ہوگئی۔ کنونشن لیگ جو اس صوبے میں محترمہ فاطمہ جناحؒ کی حمایت میں الگ ہوئی تھی اور جس میں تحریک پاکستان کے اکثر لیڈر شامل تھے جلد ہی اپنی مقبولیت کھو بیٹھی اور اس طرح اس نے اس صوبے کی سیاست پر اپنا اثرو رسوخ گنوادیا۔ سیاسی پس منظر پر ایک بہت بڑی تبدیلی پیپلزپارٹی کے قیام کی صورت میں واقع ہوئی جس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو دو لخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بھٹو ایوب کی کابینہ اور اس کی سرپرستی سے کیوں الگ ہو ئے اس کو بیان کرنے کی اس وقت گنجائش نہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر وہ چاہتا تو صوبوں کو زیادہ حقوق (جواب چالیس برس بعد اٹھارویں ترمیم کی صورت میں دئیے گئے ہیں) دے کر پاکستان کو یکجا رکھا جاسکتا تھا۔
بھٹو نے معاہدہ تاشقند کی مخالفت کی آڑ میں ایوب خان کے خلاف ایک بھرپور تحریک اس وقت چلائی جب مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی کوششیں اپنے عروج پر تھیں۔ وہ وقت سب قوتوں کا سر جوڑ کر کسی سیاسی حل کی تلاش کا تھا۔ نہ کہ باہمی کشمکش کا۔ ایوب خان کو اقتدار سے افہام و تفہیم کے ساتھ الگ کرنے کی سعی بھی مناسب وقت میں کی جاسکتی تھی۔ اس نے دوبارہ صدارتی الیکشن میں حصہ نہ لینے کا اعلان بھی کردیا تھا لیکن بھٹو کو ہر حالت میں اقتدار حاصل کرنے کی خواہش اور جلدی تھی۔ اس مقصد کے لئے اس نے اخلاق سے عاری اور شراب کے رسیا یحییٰ خان کو اپنے ساتھ ملالیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ عوامی لیگ اور مولانا بھاشانی کی پارٹی کی پاکستان مخالف تحریک اپنے عروج پر ہے ۔ یحییٰ خان نے منصب صدارت سنبھالتے ہی ان ناسازگار حالات میں الیکشن کا اعلان کردیا جس کے نتیجے میں عوامی لیگ کو اسمبلی میں اکثریت حاصل ہوگئی۔ مغربی پاکستان کی نشستوں سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی اکثریت منتخب تو ہوئی لیکن مشرقی پاکستان میں وہ ایک سیٹ بھی نہ لے سکے۔ بنگالوں کو بجا طور پر توقع تھی کہ عوامی لیگ کو حکومت سازی کی دعوت دی جائے گی۔ علیحدگی کے الزامات باوجود کے شیخ مجیب الرحمان نے الیکشن میں 6 نکات کی بنیاد پر حصہ لیا تھا اور یہ امید کی جاسکتی تھی کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان مطالبات میں کچھ لچک دکھائی جائے گی۔ ویسے بھی آئین کو بدلنے کے لئے اس کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں تھی۔
مارچ 1970ءکو ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا تاکہ اکثریتی پارٹی اپنا وزیراعظم چُن کر حکومت کی تشکیل کر سکے۔ ڈھاکہ کو ایوب خان نے پاکستان کے دوسرے دارالخلافے اور بنگالی کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا تھا۔ تیاریاں مکمل ہونے کے باوجودبھٹو نے اسمبلی سیشن میں جانے سے نہ صرف خود انکار کر دیا بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ اگر مغربی پاکستان کی کسی دوسری پارٹی کے افراد اس میں شامل ہوئے تو واپس آنے پر ان کی ٹانگیں توڑ دی جائینگی۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک طرف کا ٹکٹ لے کر جائیں اور یہ نعرہ بھٹو ہی نے تو لگایا تھا کہ ادھر ہم ادھر تم۔ اس کا واضح مطلب تھا بھٹو کے ذہن میں متحدہ پاکستان کی کوئی صورت باقی نہیں رہی تھی۔ یحییٰ خان نے اپنے آپ کو بے بس پاتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا۔ اس کے نتیجے میں عوامی لیگ نے جو بجا طور پر اقتدار میں آنے کی منتظر تھی مشرقی پاکستان میں ہنگامے شروع کر کے وہاں موجود مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کا قتل عام جاری کر دیا۔ شیخ مجیب الرحمن کو حراست میں لے کر مغربی پاکستان منتقل کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ فوج جو زیادہ تر مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فوجیوں پر مشتمل تھی بیرکوں میں پابند کر دی گئی اور اس طرح عوامی لیگ کے غنڈوں کو قتل و غارت کی کھلی چھٹی مل گئی۔ اس کے علاوہ ایسٹ بنگال کی انفنٹری یونٹوں نے بغاوت کر کے اپنے افسروں کو جو زیادہ تر مغربی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے اذیتیں دے کر قتل کر دیا۔ اس کے علاوہ کچھ فوجی یونٹوں پر باقاعدہ حملہ کر کے ان کے جوانوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ کشتیا میں تو ایک پوری فوجی کمپنی کو قتل کر کے ان کی لاشوں کی تکہ بوٹی کر کے دریا برد کر دی گئیں۔ زندہ انسانوں کا سارا خون نچوڑ کر بلڈ بنک بھرے گئے اچھے بھلے اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے انسانوں میں جنونی اور وحشیانہ جذبہ کس نے پیدا کیا؟ کیا حالات کو اس نہج پر پہنچانے کا صرف مجیب الرحمن ہی ذمہ دار ہے یا وہ لوگ بھی جو ان کی قومی اسمبلی میں اکثریت قبول کرنے پر تیار نہیں تھی کیونکہ ان کو متحدہ پاکستان میں اپنا دور اقتدار دور دور تک نظر نہیں آتا تھا۔
گو فوج کو بہت دیر بعد مکتی باہنی کے خلاف اپریشن کی ا جا زت دی گئی لیکن اس نے بہت تھوڑے عرصے میں حالات پر قابو پا کر حکومت کی رٹ بحال کر دی۔ اس اپریشن میں بوجوہ فوج سے کچھ زیادتیاں بھی ہوئیں لیکن مجموعی طور پر اس نے مشکل حالات اور غیر اعلانیہ بھارتی مداخلت کے باوجود اپنی ذمہ داری اچھی طرح نبھائی۔ اندرا گاندھی نے یہ بھانپتے ہوئے کہ مشرقی پاکستان میں حالات معمول پر آ رہے ہیں اور مکتی باہنی کمزور پڑ رہی ہے اور اپنے طور مزاحمت جاری نہیں رکھ سکتی موافق عالمی رائے کے پس منظر میں وہاں اعلان جنگ کئے بغیر باقاعدہ فوج کشی شروع کر دی۔ ہم بھارتی پراپیگنڈے کے مقابلے میں عالمی سطح پر کوئی حکمت عملی نہ اپنا سکے۔ یہاں اس وقت صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ وہاں موجود فوج زیادہ دیر تک مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ تعداد اور وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ مکتیوں کے خلاف جاری آپریشن کی وجہ سے اس کی اکثریت زیادہ تر ٹکڑیوں میں بٹ کر دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ جب شکست کے آثار واضح ہو گئے اور اقوام متحدہ میں پولینڈ کی طرف سے جنگ بندی کی قرارداد پیش کی گئی تو بھٹو جو یحییٰ خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے اس قرارداد میں بجائے پاکستان دوست ممالک کی مدد سے موافق ترامیم کی کوشش کرنے کے اس کی اس حد تک مخالفت کی کہ اسمبلی کے اندر اس کا مسودہ پھاڑ کر اپنے وفد کو لے کر پاکستان آ گئے اور یوں شکست کے علاوہ تقریباً 90 ہزار فوجیوں اور مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں کو دو سال کے لئے ہندوو¿ں کی قید میں رہ کر ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔
چاہیے تو یہ تھا کہ مشرقی پاکستان کے الگ ہونے ے بعد دوبارہ الیکشن ہوتے لیکن حکومت بھٹو کے حوالے کر دی گئی جس نے مارشل لاءلگا کر جمہوری نظام میں ایک عجیب روایت کی ابتدا کی۔ جمہوریت کے دعوے کے باوجود اس کی سوچ آمرانہ تھی اس نے اپنے دور حکومت میں اپنے مخالفین کو ہر طبقے سے دبانے کی کوشش کی۔ F.S.F کا قیام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر میاں طفیل کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ ناقابل بیان ہے۔ آزاد کشمیر میں واقع دلائی کیمپ میں افتخار تاری سمیت سیاسی مخالفین کو قید کر کے اذیتیں دینے کے واقعات بھی ابھی تک ذہنوں سے محو نہیں ہوئے۔ بلوچستان میں فوج کشی کی ابتدا بھٹو نے ہی تو کی تھی اور جس کے نتائج اب خوفناک حد تک پہنچ چکے ہیں اور برملا کہا جا سکتا ہے کہ اگر حالات کو قابو میں نہ لایا گیا تو یہاں بھی علیحدگی کی تحریک زور پکڑ سکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی وابستگی سے قطع نظر ان افراد کے چہروں کو بے نقاب کیا جائے جنہوں نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ہم ابھی تک مختلف قومیتوں میں بٹ کر آپس میں اپنے اپنے مفاد کی خاطر دست و گریبان ہیں۔ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ ہم نے پاکستان بنتے وقت اللہ سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کریں اور اسلامی اقدار کی جو دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ان کو روکنے کا کوئی سدباب کریں اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم تمام سیاسی بتوں کو توڑ کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں آ جائیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کو ایک مضبوط اور متحد رکھنے کا کوئی اور راستہ نہیںکوئی اور راستہ نہیں۔ ایک نظریاتی ملک میں علماءکی ایک لمبی قطار کو ٹیلی ویژن سکرین کے سامنے مو¿دب ہو کر الطاف حسین جیسے سیکولر لیڈر کی تقریریں سنتے دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ حضور کے ادنیٰ غلام ہونے کے دعویدار نظریہ پاکستان کی ترویج کریں گے۔ اسلامی قوانین کو ظالمانہ اور وحشیانہ کہنے والی بے نظیر بھٹو کو شہادت کا رتبہ دینے کے علاوہ اس کے خاندان کی بشمول اس کے شوہر کی آئندہ نسلوں کو ہم پر حکومت کرنے کا حق تفویض کر دیا گیا ہے۔ اقتدار کے حصول کی خاطر ساری سیاسی جماعتیں اپنے الگ الگ منشور کے باوجود حکومت میں شامل ہونے کے لئے اکٹھی ہو جاتی ہیں۔ موجودہ حکومت میں شامل پیپلز پارٹی، اے این پی، مسلم لیگ (ق) متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام (جو اب بوجوہ الگ ہو چکی ہے) میں کوئی قدر مشترک ہے تو صرف حصول اقتدار عوام کب تک ان جماعتوں کے فریب میں آکر اپنی اور قوم کی قسمت ان کے حوالے کرتے رہیں گے۔