مجلس بحالی محصورین پاکستان کی کاوشیں

 نظریہ پاکستان کے خلاف ایک بڑے عرصے سے وطن عزیز پاکستان میں موجود بھارتی تنخواہ دار بھی آوازیںلگا تے رہے ہیں۔ سامراجی اور بھارتی توسیع پسندون کے ایجنٹوں کو تو یہ بھی علم نہیںکہ گزشتہ 32 سال سے پاکستان سے محبت رکھنے والے ڈھائی سے تین لاکھ پاکستانی آ ج تک بنگلہ دیش کے کیمپوں میں نہائت کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں انکا ‘ جرم ‘ یہ ہے وہ آج بھی پاکستان کی بات کرتے ہیں انہوںنے دل سے اس علیحدگی کو قبول نہیں کیا ، مجلس محصورین پاکستانی انکی بحالی کیلئے سفارتی سطح پر سعودی عرب میں انجینئر احسان الحق کی سربراہی میں کام کررہی ہے ، انکے قافلے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ان کی انتھک محنت اور لگن کا نتیجہ ہے اب فرانسیسی ، سعودی دانشور بھی محصورین کی بحالی کیلئے آواز اٹھارہے ہیں ، جسکا اثر ایک روز تو ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کیمپوں میںموجود جن میںننھے بچے ، عورتیں ، بوڑھے ، جوان سب موجود ہیں انکی کو ئی مالی امداد کی جائے ، سعود ی عرب میں ہے ان محصورین کیلئے قائم ’ ویلفئر اینڈ ڈیولپمینٹ آرگنائیزئشن ‘(MW& DO) مالی طور پر مدد کیلئے کچھ اللہ ترس لوگوںکی مدد سے کام کررہی ہے جو انکے لئے رمضان المبار ک میں افطاری، عید الضحے پر قربانی کے گوشت، چھوٹے کاروبار، شادیاں ، گھر ، بیت الخلاء بنانے کیلے کام کررہی ہے ، بنگلہ دیش کے ان محصورین کا سب سے بڑا سہارہ اللہ تعالی کے بعد ادارہ نوائے وقت ہے، اللہ تعالی محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی عمر طویل کرے جو پاکستان میں نظریہ پاکستان ، کے سب سے بڑے محافظ ہیں اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے تحت انہوںنے اپنے آپ کو وقف کیا ہے کہ پاکستان کی نئی نسل کو نظریہ پاکستان سے آگاہ کیا جائے ، انکا دشمنوںکی تمام تر ریشہ دوانیوںکے بعد یہ ایمان ہے کہ ایک دن پاکستان قائد اعظم کا اصل پاکستان بنے گا، اسی حوالے سے جہاںوہ کشمیری حریت پسندوںکی مدد ، پاکستان میں آنے والی قدرتی آفات میں مدد کا بیڑہ اٹھاتے ہیں وہیں وہ بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے ان تین لاکھ پاکستان سے محبت کرنے محصورین کی مالی امداد کرتے ہیں اور دنیا بھر سے لوگ انکے شانہ بشانہ ’ نوائے وقت فنڈ‘ میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں جو نہائت شفاف طریقے سے محترم مجید نظامی ذمہ دار نگرانی میں محصورین تک پہنچاتے ہیںاللہ تعالی ادارہ نوائے وقت اور ڈاکٹر مجید نظامی کو اسکا صلہ دے گا چونکہ وہ نہ صرف تین لاکھ محصورین کی ہی نہیں بلکہ دوسری جانب نظریہ پاکستان کے محافظ کے طور پر اپنے رفقاءکے ہمراہ نئی نسل کو پہنچا رہے ہیں وہ ایک صدقہ جاریہ ہے جسکے لئے اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام ڈاکٹر مجید نظامی کیلئے دعا گو ہیںمجید نظامی صاحب کو شخصیت اسقدر ایمان دار اور شفاف ہے کہ دور دراز ے جب بھی ادارہ نوائے وقت نے پاکستانیوںسے کوئی مدد چاہئی دنیا بھر سے پاکستان مدد کرکے اس بات پر اس احساس کے ساتھ فخر کرتے ہیں کہ انکی رقم کارخیر میں صحیح جگہ استعمال ہوئی ہے ۔ مجھے جدہ کے ہوائی اڈے کا ایک واقع یاد ہے جسکا میں چشم دید ہوں۔ جب محترم مجید نظامی عمرہ کیلئے یہاں تشریف لائے ایک صاحب ان سے ملے اور مجید نظامی صاحب کی جیب میں کچھ نوٹ ڈال دئے یہ کہتے ہوئے کہ اسے کشمیر فنڈ میں کسی اور فلاحی جگہ خرچ کیجئے گا ان صاحب کانام پوچھا انہوں نے بتانے سے انکار کردیا ، وہ رقم کوئی دوہزارریال تھی شائد ۔ یہ ہے مجید نظامی پر لوگوںکا بھروسہ ورنہ لوگ تو رسید لیکر بھی شاکی ہی ہوتے ہیںکہ انکی رقم نہ جانے کہا خرچ ہوگی۔ اللہ تعالی مجید نظامی کو صحت اور زندگی سے نوازے