ساٹھ فیصد نوجوانوں نے کبھی گولی نہیں چلائی تھی

غزالہ فصیح
16دسمبر 71ءکو سقوطِ ڈھاکہ سے پاکستان دولخت ہوگیا، پاکستانی قوم کے لئے یہ سانحہ ایک ناقابلِِِ تلافی نقصان کا باعث بنا ،خصوصاًوہ نسل جس نے دوقومی نظرئیے کا نعرہ لگاتے ہوئے قیام پاکستان کے لئے جدوجہد کی تھی پاکستان کے ٹوٹنے پر دل شکستہ ہوگئی یہی حال افواجِ پاکستان کے ان مجاہدوں کاتھا جو مادرِوطن کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں پر کھیلتے رہے۔65 ءکی جنگ کے ہیرو،فائٹر پائلٹ اسکواڈرن لیڈرایم ایم عالم جنہوں نے بھارت کے اکٹھے پانچ طیارے مارگراکے د±نیا کی فضائی تاریخ میں منفرد ریکارڈ قائم کیا ، 71ءکی جنگ میں اپنے جوہر دکھانے سے روک دئیے گئے ،ایم ایم عالم جن کا تعلق بنگال سے ہے قیام ِپاکستان کے وقت نئے وطن کی محبت میں نعرے لگاتےیہاں آئے تھے ،پاکستان دو لخت ہونے کے بعد بھی ا±نھوں نے بنگلہ دیش جانے کی بجائے” اپنے پاکستان “میں رہنے کو ہی ترجیح دی ۔یہ عظیم مجاہد ان دنوں صاحبِ فراش ہیں ،کچھ عرصہ قبل ہم نے ا±ن سے انٹرویو کیا جس میں سقوط ڈھاکہ کے متعلق ا±نھوں نے اظہار خیال کیا۔نزرِقارئین ہے۔
٭71ءکے حالات وواقعات کے متعلق کچھ بتا ئیے ؟
ج: کیا کہوں یہ پاکستا ن کی تاریخ کا سیاہ باب ہے میںان دنوں کراچی بیس میں اسٹاف کورس کررہا تھا جب جنگ ہوئی تو سر گودھا چلا گیا۔ اس زمانے میں معراج طیارہ کے پہلے اسکواڈرن کا کمانڈر تھا اپنے اسکواڈ کے ساتھ ہم نے اس میں حصہ تو لیا مگر لڑنے نہیںدیا گیا ،یہ جنگ تو مشرقی پاکستان کو کھونے کا ایک بہانہ تھا ہندوستان کو ایک گفٹ پیش کرنا تھا۔ 71ءکی جنگ میں شامل ہمارے 60فیصد فوجیوں نے پہلے کبھی گولی بھی نہیں چلائی تھی ،فوجیوں کو سر حد کو پار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہماری قیادت نہایت ناقص تھی یحیٰی خان جیسا آدمی لیڈر تھا اس ملک کا یہی حشر ہونا تھا۔ مجھے یاد ہے جب جنگ ہارگئے ‘ ملک دولخت ہوگیا سر گودھا میں ہمارے بیس پر ماتم کا عالم تھا تمام ائر مین زاروقطار ورہے تھے۔ کئی نے اپنے سردیوار پر مار لئے ۔ اس شکست میں سارا قصور ہماری قیادت کا تھا ۔ پاکستان کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا۔
٭آپ نے قیامِ پاکستان کے حالات دیکھے اس تناظر میں پاکستان کے دو ٹکڑے ہونے پر کیا کہیں گے؟
ج:جب میں ہوش سنبھال رہا تھا اسو قت پاکستان کی تحریک زور پکڑرہی تھی تو ہم ایک خاص ماحول میںبڑے ہوئے ہماری جنریشن پاکستان کی پہلی نوجوان نسل تھی اس طرح میر ابچپن اور لڑکپن کا دور پاکستان کیلئے نعرے سنتے گزرا۔ مادرِوطن کے لئے ایک خاص جوش وجذبہ ہم ہر وقت محسوس کرتے تھے ۔اسی وجہ سے میں فوج میں شامل ہوا، امید یں تھیں کہ پاکستان ایک بہت بڑا عظیم ،ملک ہوگا ہمارا ‘ آپ کو بتاو¿ں 14اگست کو ہم ٹرین کے ذریعے کلکتہ سے ڈھاکہ منتقل ہوئے توراستے میں لوگ ہر اسٹیشن پر یہ جان کرکہ ہماری زبان اردو ہے ٹرین پر پاکستان زندہ باد مسلم لیگ زندہ باد لکھتے ۔لوگوں میں آپس میں محبتیں تھیں ‘ مغربی اور مشرقی پاکستان دو بھائیوں کی طرح تھے ان محبتوں کو مین سمجھتا ہوں ۔ مغربی پاکستان کی قیادت نے نقرتوں مین بدل دیا ۔ کسی قوم کے اتفاق واتحاد کا باعث ایک زبان ‘ ایک کلچر بنتا ہے اور جب ہر شہر ی کو یہ احساس ہوکہ اسے انصاف مل سکتا ہے‘ مشرقی و مغربی پاکستان میں بدقسمتی سے اسی لئے اتحاد واتفاق نہ پیدا ہو سکا ۔ ایم ایم عالم صاحب کا لہجہ مشرقی پاکستان کے ذکر پربہت ہی افسر دہ ہورہاتھا۔
٭: آپ کیا سمجھتے ہیں 71ءکے بعد پاکستان ‘ بنگلہ دیش کے رابطے کیسے رہنے چاہئے تھے؟
ج: ہم نے 71ءکے بعد اس سانحے کو ہی بھلا دیا ۔ جبکہ آپس کی غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت تھی ‘ اب بھی یہ کہا جاسکتا ہے یہاں رائے عامہ ہموار کرنے والی جماعتیں ہوں ‘ اساتذہ ‘ صحافیوں ‘ ادیبوںاور دانشوروں کے وفودوہاں جائیں ‘ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر چہ ہم دوعلیحدہ ملک ہوچکے ہیں لیکن ہمارے بنیادی دفاعی مسائل ایک ہیں دونوں کو ہندوستان کے مذ موم عزائم کا سامنا ہے۔ جو یہاں اپنی بالا دستی قاتم کرنا چاہتا ہے‘ اب یہ بے معنی ہے کہ ہم اس پر بات کریں سقوط مشرقی پاکستان میں یحیٰی کا قصورتھا بھٹو کایا مجیب الرحمن کا جیسے بنگلہ دیش کی ایک جماعت علیحد گی چاہتی تھی اس طرح پاکستان میں بھی ایک چاہتی تھی اب دونوں ملکوں کو ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کی فکر کرنا چاہئے اور ہندوستان کا تسلط جوہم پر منڈلا رہاہے اس سے ملک کر نپٹیں ‘71ءکے بعد برصغیر میں اسٹر ٹیجک صور تحال بدل چکی ہے اب ہماری بقاءاسی میں ہے کہ پاکستان ‘ بنگلہ دیش اور افغانستان ایک ہوں ہندوستان کے مقابلے پر۔