رجسٹرار سپریم کورٹ کا پی اے سی کے سامنے پیش نہ ہونا غلط روایت ہے: قاضی

رجسٹرار سپریم کورٹ کا پی اے سی کے سامنے پیش نہ ہونا غلط روایت ہے: قاضی

صوابی (آن لائن) ملی یکجہتی کونسل کے صدر اور سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ عوام مئی 2013ءمیں ہونے والے انتخابات میں اہل اور ایماندار لوگوں کو ووٹ کے ذریعے اختیارات منتقل کر دیں، جو ملک میں عدل و انصاف کا قانون نافذ کرکے عوام کو انکو حقوق، انصاف، امن، خوشحالی اور ترقی دیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے موضع نارنجی ضلع صوابی میں سابق یو سی ناظم عصر خان کا 80 ساتھیوں اور خاندانوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کے موقع پر بڑے جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا۔ قاضی حسین احمد نے کہاکہ ججز تقرری کے بارے میں حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کا ہو گا اگر عوام نے جماعت اسلامی جیسی قیادت پر اعتماد کرکے انکو ووٹ کے ذریعے اختیارات منتقل کئے تو اقتدار میں آکر ملک میں کوئی بھی روزانہ 15ارب روپے کرپشن نہیں کرے گا۔ دریں اثناءچارسدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قاضی حسےن احمد نے کہا کہ رےاستی ادارے شدت پسندوں کی سرپرستی نہ کرےں تو شدت پسند رےاست کے سامنے رےت کی دےوار ثابت ہونگے ‘ سپرےم کورٹ بالا دست ادارہ ہے مگر پی اے سی کے سامنے پےش ہونے سے انکار کرکے غلط رواےت قائم کی۔ صدر زرداری اےن آر او کی زد مےں آ گئے تو اےن آر او سے مستفےد باقی 8 ہزار لوگ بھی پھنس جائےنگے ‘ امرےکہ سے جنگ مشکل ہے لےکن قوم کے ساتھ جنگ ناممکن ہے ‘ پاکستان پر جارحےت ہوئی تو پاکستان کا نےوکلےئر پروگرام آخر کس دن کام آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ امرےکہ افغانستان سے شکست خوردہ نکلنے والا ہے ۔ اب افغان عوام کی بنےادی ذمہ داری بنتی ہے کہ تمام قبےلے اور جنگجو گروپس آپس مےں مل بےٹھ کر مستحکم اسلامی اور شورائی افغانستان کےلئے لائحہ عمل طے کرےں۔ جماعت اسلامی اس حوالے سے طالبان اور حزب اسلامی سمےت دےگر گروپوں سے رابطہ کر رہی ہے ۔ قاضی حسےن احمد نے کہا کہ اےم اےم اے ابھی بحال نہےں ہوئی۔ کالا باغ ڈےم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ےہ صر ف پنجاب کا مسئلہ نہےں۔ کالا باغ ڈےم پانی کے کنٹرول کا مسئلہ ہے اس لئے تمام سٹےک ہولڈرز اور ماہرےن مل بےٹھ کر اس کا حل تلا ش کرےں۔