حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ اےک جائزہ

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک

سقوط ڈھاکہ کو 41سال ہو گئے ہیںلےکن یہ ایک ایسا زخم ہے جو چار دھائیاں گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک مندمل نہیں ہوا ۔جب بھی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن 16دسمبر آتا ہے تو یہ زخم ایک بار پھر تازہ ہو جاتا ہے سانحہ مشرقی پاکستان کی دجوہات کا تعین کرنے کے لئے اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس حمود الرحمن کی سربرہی میں ایک کمیشن قائم کیاہے جس کو سقوط ڈھاکہ کے فوجی عوامل کی تحقےقات کا محدود مےنڈےٹ دےا گےا پمےشن نے اپنی عبوری رپورٹ جولائی 1972جبکہ مکمل رپورٹ 23اکتوبر1974 کو پیش کی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ کمیشن نے 10سفارشات تےار کےں جن مےں اےک آدھ پر عمل کےا گےا کمےشن نے جنرل ٹکا خان ،راو¿ فرمان علی کو الزامات سے بری قرار دے دےا لیکن کئی سال تک کمیشن کی رپورٹ حکومت کے سرد خانے میں پڑی رہی ۔جس کو بالٓاخر جنرل (ر) پروےز مشرف کے دور مےں منظر عام پر لایا گیا ۔ چونکہ تحقیقاتی کمیشن کی تحقیقات کا دائرہ صرف فوجی عوامل تک محدود تھا اسے سیاسی عوامل پر تحقیقات کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا ۔جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور میں حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کے کچھ حصے بھارتی ہفت روزہ ”انڈیا ٹو ڈے “میں شائع ہوئے تو قومی حلقوں میں ہلچل مچ گئی کہ یہ رپورٹ بھارت مےں کس طرح پہنچ گئی جبکہ پاکستان کے عوام اس رپورٹ سے سرے سے لاعلم تھے جس کے بعد جنرل(ر) پرویز مشرف کی حکومت نے حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ شائع کر دی تاہم رپورٹ کے کچھ حساس حصوں کو خفیہ رکھا گیا۔حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں 6جرنیلوں کا کورٹ مارشل کرنے کی سفارش کی گئی ۔ان جرنیلوں میں جنرل یحیٰ خان ،جنرل عبدالحمید، لیفٹیننٹ جنرل ایس جی ایم ایم پیر زادہ ،میجر جنرل عمر ، لیفٹیننٹ جنرل گل حسن اور میجر جنرل مٹھا شامل ہیں ان جرنیلوں پر فیلڈ مارشل ایوب خان کے اقتدار پر شب خون مارنے کی سازش کرنے کا الزام تھا۔حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان فوجی افسروں کی مغربی و مشرقی پاکستان کے مختلف محاذوں پر دفاعی نوعیت کی ذمہ داریاں تھیں لیکن وہ اپنے فرائض منصبی میں ادائیگی میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے رپورٹ میں مزےد کہا گیا ہے کہ ان افسران کے خلاف کورٹ مارشل کیا جائے یا پھر باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے۔ سقوط ڈھاکہ کے وہ تمام فوجی کردار جن کا کورٹ مارشل کرنے کی سفارش کی گئی ہے وہ اب اس دنیا میں نہیں ۔کمیشن کی رپورٹ میں جنرل یحےیٰ خان ،جنرل عبدالحمیدخان،لیفٹیننٹ جنرل ایس جی ایم ایم پیرزادہ ،میجر جنرل عمر،لیفٹیننٹ جنرل گل حسن اور میجر جنرل مٹھا ‘ 25مارچ 1970کو فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت کا تختہ الٹنے میں ملوث پائے جانے پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کی سفارش کی گئی ہے اور کہا ہے کہ ان افسران نے اپنے مقاصد کے ح حصول کے لئے عام انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ‘اس مقصد کے لئے سیاسی جماعتوں کو دھمکیاں ،ترغیبات اور رشوت دی۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ان اعلیٰ فوجی افسران نے بعض سیاسی جماعتوں کو تین مئی 1971کو ڈھاکہ میں ہونے والے متحدہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے انکار کرنے پر آمادہ کیا ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے ڈھاکہ میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہ صرف شرکت سے انکار کر دیا تھا بلکہ مغربی پاکستان سے شرکت کرنےوالے ارکان قومی اسمبلی کی ٹانگیں توڑدےنے کی دھمکی دیاور ادھر ہم ادر تم کا نعرہ لگاےا۔ کمیشن کے مطابق ان افسران پر یہ بھی الزا م ہے کہ انہوں نے مشرقی پاکستان میں ایسے حالات پیدا کئے جن سے بالآخر عوامی لیگ کےلئے سول نافرمانی اور مسلح بغاوت کرنے کا جواز بن گئے ۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان دولخت ہو گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ کمیشن کی دوسری سفارش میں کہا گیا ہے کہ ان افسران نے 1971کی جنگ میں مغربی اور مشرقی پاکستان کے محاذ پر جنگ مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کےا ،لہٰذا ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔حمود الرحمن کمیشن نے مشرقی پاکستان میں فوج کی زیادتیوں کی تحقیقات کرنے کے لئے اعلیٰ اختیاراتی عدالت یا کمیشن قائم کرنے کی سفارش بھی کی تھی تاکہ ان لوگوں کو کڑی سزائیں دی جا سکیں جو بنگالیوں پر مظالم ڈھانے اور غیر اخلاقی حرکات کرتے پائے گئے ۔ اگر عدالت کے لئے ممکن نہ ہو تو بھی عالمی رائے عامہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے ۔کمیشن کی چوتھی سفار ش میں کہا گےا کہ اس وقت پاک فوج کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل رحیم خان کے برما فرار ہونے کے حالات کی تحقیقات کرائی جائے۔ کمیشن کی پانچویں سفار ش میں کھلنا نیول بیس پر احکامات ملنے سے قبل ہی پی این ایس ”تیتو میر“ کو چھوڑ دینے پر پاکستان نیوی کے کمانڈر گل زرین کے بارے میں تحقیقات کرنے کا کہا گےا ہے ۔تحقیقاتی کمیشن نے لیفٹیننٹ جنرل ارشاد احمد خان کمانڈر ون کور ، میجر جنرل زاہد جی او سی 15ڈویژن،میجر جنرل بی ایم مصطفیٰ جی او سی 18ڈویژن کے خلاف جنگ کے دوران فرائض میں غفلت برتنے کی تحقیقات کرنے کی سفارش کی ہے۔ان افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے فرائض میں غفلت برتی اور بزدلانہ اقدامات سے کام لیا۔کمیشن کی ساتویں سفارش میں میجر جنرل راو¿ فرمان علی ،لیفٹیننٹ جنرل نیازی اور بعض دوسرے افسران کے ساتھ جو اس وقت بھارت کے جنگی قیدی تھے کے خلاف بھی انکوائری کہا گےا ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ میجر جنرل فرمان علی نے پال مارک ہینری کے ذریعہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو سرنڈر کا پیغام بھجوایا۔ کمیشن کی رائے تھی کہ اس شخصیت کے بارے میں سراغ لگایا جائے جس نے انہیں اتنا اہم پیغام بھجوانے کا اختیار دیا۔کمیشن کی آٹھویں سفارش میں کہا گیا ہے کہ باب اول کے حصہ پنجم میں جن سینئر فوجی کمانڈروں کے خلاف غداری کے الزامات عائد کئے گئے ہیں اس کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کی ضرورت ہے ۔حمود الرحمن کمیشن نے اپنی نویں سفارش میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ کو محض ابتدائی نوعیت کی رپورٹ قرار دیا اور سفارش کی کہ بھارت میں بنائے جانے والے جنگی قےدی مشرقی کمان کے کمانڈر اور سینئر افسران کے رہاء ہونے کے بعد وطن واپسی پر ان سے اس بات کی تحقیقات کی جائے کہ وہ کون سے عوامل تھے جن کے باعث پاکستان دو لخت ہوا۔حمود الرحمن کمیشن نے مسلح افوج کے عہدوں کو چیف آف سٹاف میں بدل دینے کی 10وےں سفارش بھی کی ۔علاوہ ازیں کمیشن نے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے چارٹر میں اس بات کا اضافہ کیا کہ کابینہ ڈویژن کو کم ازکم تین ماہ میں ایک بار یا چارٹر میں متعین کردہ تاریخ پر صدر اور وزیر اعظم کی عدم موجودگی کے باوجوداجلاس بلانے اور سب سے سینئر وزیر سے صدارت کرانے کی سفارش کی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میںقائم کردہ حمود الرحمن تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کو سالہا سال تک مخفی رکھا گیا لیکن بعد ازاں عوامی دباو¿ کے پیش نظر عام لوگوں کی اس تک رسائی ممکن بنا دی گئی ۔جبکہ بعض سیاسی حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ ذوالفقارعیل بھٹو نے حمود الرحمن کمیشن محض فوج کو سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار قرار دینے کے لئے قائم کیا تھا ۔اس کے سیاسی عوامل کی تحقیقات نہیں کرائی گئی۔پاکستان کے دو لخت ہونے میں جہاں اس وقت کی فوجی قیادت ذمہ دار تھی وہاں سیاسی قیادت کو اس جرم سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔فوج کے جن سینئر افسران پر سقوط مشرقی پاکستان کی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے ان کا کہنا ہے کہ ایک سازش کے تحت تمام تر ذمہ داری فوج پر ڈال دی گئی۔سقوط ڈھاکہ کے دوران عام شہریوںاور فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں حقائق ابھی تک سامنے نہیں آئے۔تحقیقاتی کمیشن نے تیس لاکھ بنگالیوں کی ہلا کت کے بارے میں حکومت بنگلہ دیش کے الزام کو مسترد کر دیا ۔اسی طرح نو اور دس دسمبر 1971کی شب بنگالی دانشوروں کے قتل عام کے بارے میں بھی کمیشن کوکوئی ثبوت نہیں ملا۔عام تاثر یہ ہے کہ جنرل یحییٰ خان پاکستان کو متحد رکھنے کا نیا عمرانی معاہدہ کرنا چاہتے تھے لیکن مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ کوئی سیاسی معاہدہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھی جس کے نتیجہ میں پاکستان دو لخت ہوگیا۔23 مارچ 1971کو مشرقی پاکستان میں شروع ہونے والا فوجی آپریشن بالآخر 16دسمبر 1971کو سقوط ڈھاکہ پر منتج ہوا۔