مالا کنڈ ڈویژن سے فوج کا انخلا شروع ‘ سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کے حوالے

مالاکنڈ (اے پی اے) خیبر پی کے کے مالاکنڈ ڈویژن سے فوج کے انخلا کا اغاز ہو گیا ہے اور پہلے مرحلے میں ضلع شانگلا سے فوج کا انخلا مکمل ہو گیا ہے اور سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس فورس کے حوالے کر دی گئی ہے۔ 2007ءمیں جب مالاکنڈ ڈویژن میں طالبان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا اور طالبان نے ضلع سوات میں اپنی عملداری قائم کر لی تو اس کے بعد طالبان نے مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر اضلاع میں اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر پرتشدد کارروائیوں کا آغاز کیا جس کے بعد علاقے میں امن کی بحالی اور حکومتی عملداری کے قیام کے لئے مالاکنڈ ڈویژن کو فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ علاقے سے شدت پسندوں کی بے دخلی اور ان کے خلاف م¶ثر کارروائی کے لئے مالاکنڈ ڈویژن میں فوج تعینات کر دی گئی اور فوجی آپریشن کے نتیجے میں علاقے سے طالبان کے بے دخلی اور حکومتی رٹ کے قیام کے بعد اب امن و امان کی صورت حال پہلے کے نسبت کافی بہتر ہے۔ خیبر پی کے میں بننے والی نئی حکومت نے امن و امان کی بہتر صورت حال کے پیش نظر مالاکنڈ ڈویژن سے فوج کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں ضلع شانگلا سے فوجی دستوں کو واپس بلا لیا گیا ہے اور سکیورٹی کے تمام تر ذمہ داریاں پولیس فورس کے حوالے کر دی گئی ہے۔ شانگلا کے ضلعی پولیس افسر گلزار علی نے بتایا کہ پولیس فورس اب اس قابل ہو گئی ہے کہ علاقے میں امن کو برقرار رکھ سکے اور دہشت گردوں کا سامنا کر سکے کیونکہ حکومت کی طرف سے پولیس فورس کو جدید اسلحہ دیا گیا ہے اور پولیس کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کا پولیس فورس پر اعتماد ہے کہ سکیورٹی کی ذمہ داری فوج سے پولیس کو منتقل کر دی گئی۔ فوج کے انخلا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کئی اجلاسوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ پہلے مرحلے میں فوج کا انخلا ضلع شانگلا سے کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فوج کے انخلا کے بعد چیک پوسٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور تمام مصالحتی اور امن کمیٹیوں کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔ ضلع شانگلا سے فوج کے انخلا پر وہاں کے مقامی باشندوں کا مختلف قسم کا ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے چند لوگ فوج کے انخلا پر خوش جبکہ اکثریت فوج کے علاقے سے چلے جانے پر خوش نہیں ہیں۔