بقر عید پر کشمیری کھانے

جی این بھٹ
عید پر کشمیری کھانوں کی خاص سوغات عیدالفطر یا عید قربان کشمیری عورت کے لئے دونوں کی تیاری خاصا صبر آزما اور طویل تھکا دینے والا عمل ہوتا ہے۔ اب تو خیر جدید سہولتوں کی وجہ سے گوشت کو کوٹنے کے عمل سے نجات مل گئی ہے مگر اس کے باوجود عید کی رات کا بیشتر حصہ خواتین کا باورچی خانے میں گزرتا ہے۔ قربانی کوئی کرے یا نہ کرے کھانے کا بھرپور انتظام ضروری ہے۔ اس میں امیر غریب کی کوئی قید نہیں۔ کم از 3سالن ضروری ہوتے ہیں۔ دسترخواں پر کیونکہ کشمیری کھانے گوشت ہی سے پکتے ہیں اس لئے ان تینوں میں گوشت ہی ہوتا ہے۔ یختی سے مراد دہی میں پکے ہوا بکرے کے دستی یا ران کے گوشت کا سالن جس میں سرخ مرچ استعمال نہیں ہوتی گرم مصالحے سے ہی لذت پیدا کی جاتی ہے۔ ہرا پودینہ اور الائچی کی خوشبو اسے دو آتشہ بنا دیتی ہے۔ رستے یا ”رستہ‘ سے مراد بنا چربی کے بکرے کے گوشت کو اچھی طرح کوٹ کر اس میں گردے کی معمولی مقدار میں چربی شامل کی جاتی ہے تاکہ نرم رہیں اور ٹوٹیں نہ۔ کالی مرچ ڈال کر کوفتے بنائے جاتے ہیں۔ انہیں چاہے سادہ سالن میں روغن جوش کی طرح پکایا جائے یا بادام ڈال کر پکایا جائے اور پالک گوشت یعنی کشمیری انداز میں پالک کو نہایت مہارت سے بھون کر پکایا جاتا ہے۔ جب وہ تیل کی تری کے ساتھ گرین رنگ چھوڑے تو اس میں ابلا ہوا گوشت جو پٹھ کا ہوتا ہے تھوڑی سی چربی والا وہ شامل کیا جاتا ہے۔ یہ تینوں سالن اپنے ذائقے اور لذت میں بے مثال ہوتے ہیں۔ اگر دل چاہے تو ان کے علاوہ ”ثامن“ جیسی لذیذ ڈش بھی جو تلی ہوئی پنیر سے بنتی ہے چاہے ٹماٹر پیاز کے ساتھ سادہ بنایا جاتے یا پالک یا پھر مٹر کے ساتھ پکائی جائے بھی لذت کام و دہن کے لئے موجود ہوتی ہے اور روائتی طور پر یہ سب سادہ چاول کے ساتھ ہی کھائے جتے ہیں۔ عید کے دن کشمیری بھی صبح قبرستانوں میں جا کر پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کرتے ہیں پھر نہا دھو کر عید گاہ نماز عید کے بعد بچوں کو عیدی ملتی اور قربانی ہوتی ہے۔ سب سے پہلے دل اور کلیجی نکال کر اسے کوئلوں پر بھون کر یا تیل میں بھون کر کھانا عام ہے۔ اس کے بعد گوشت تقسیم ہوتا ہے۔ ایک چیز جو عام روٹین سے ہٹ کر ہے وہ عید کے دن کشمیری گھروں میں صبح ناشتے میں کشمیری سبز قہوہ میں دودھ ڈال کر میٹھی جائے بھی بناتے ہیں جسے ”دود چائے“ کہتے ہیں۔ ہم بھی بچپن سے لے کر آج تک اسی طرح اس میں عید اپنے اہل و عیال کے باقر خانی ڈال کر پیتے ہیں۔ باقی سارا دن کشمیری گلابی چائے نمک والی ہی چلتی ہے۔ مہمان آئے تو زعفرانی سبزہ قہوہ چھوٹی الائچی اور دار چینی ڈال کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ قہوہ پلانے کی رسم مہمانداری کی روایات میں شامل ہے جو آج بھی قائم ہے۔ اگرچہ کوک اور جوس نے بھی جگہ بنالی ہے مگر روایات پسند گھرانوں میں آج بھی
”بہا ڈبل لا گئے قہوہ پیالس“
یعنی ”بارہ روپے خرچ ہوتے ہیں اس قہوے کے پیالے پر“
قربانی کے گوشت کو نمک لگا کر تل کر کھانا بھی کشمیریوں میں مرغوب ہے۔ یا پھر اس کو ”طبق ماز“ بنا کر تلی ہوئی۔ کشمیری ڈش کی شکل میں بھی مہمانوں کو پیش کیا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر اور راولپنڈی تک تو کشمیری کرم کا گوگجی (سبز شلجم والا) ساگ مل جاتا ہے۔ پنجاب میں بھی پایا جاتا ہے مگر یہاں اس کا استعمال کم ہے۔ کشمیری بے چارے تلاش کر کے لاتے ہیں جبکہ جہاں یہ پائے جاتے ہیں وہاں ہر کشمیری گرمی میں ساگ کا سالن گوشت کے ساتھ ہو یا خالی کرارا مصالحے دار تیار کیا جاتا ہے۔ اور لذیذ سے لذیذ کھانا ہو دسترخوانوں پر اس ظالم ”ہاک رس“ یعنی ”ذرا سا ساگ“ کی فرمائش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ کشمیر کی عظیم صوفی شاعرہ ”للہ دید“ نے بھی ایک ایک ”واکھ“ شاعری کے قطعہ میں زندگی کو ساگ کے کھیت پگڈنڈی قرار دیتے ہوئے کہا خوب کہا کہ یہ ”حیات مستعار تو ساگ کے کھیتوں سے گزرنے والی پگڈنڈی ہے“ شہر ہوں یا دیہات، عید میلے بچوں کے لئے دلچسپی کا باعث بنے ہوتے ہیں اور پھر کشمیر کے شاہی باغات مغل باغات سیر گاہیں تفریحی مقامات نشاط باغ شالار باغ، نسیم باغ، نگین باغ، ٹیولپ گارڈن، ہارون گارڈنز، زبرون پارک، چشم شاہی، پری محل اور ڈل جھیل کے کناروں پر بنے باغات میں لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ دیہات میں رات گئے تک نوجوانوں کی ٹولیاں کھیل کود میں مصروف رہتی ہیں اور عید کی رات کشمیری لڑکیاں روائتی کشمیری نغمے مل بیٹھ کر گاتی ہے۔ آج کا پہلے سا جوش و خروش تو نہیں رہا۔ بھارتی مظالم اور شہریوں کی قربانیوں نے روائتی ہنسی خوشی کا انداز بدل دیا مگر روایات نہیں بدلیں۔ یہ عید قربان بھی کشمیریوں کے جذبہ قربانی میں مزید تحریک پیدا کرے گی اور بقول شاعر
ہر ایک زخم پہ اک اور زخم کی ہے طلب
عجیب نشہ ہے قربانیوں کے موسم کا