خواتین پر تشدد میں اضافے کے باوجود ”سب اچھا ہے“ کی حکومتی رپورٹ حقائق کے منافی ہے

لاہور (لیڈی رپورٹر) پاکستان سمیت دنیا کے 166ممالک خواتین کی جبری اور کم عمری کی شادی کے خلاف ہیں، حکومت کی طرف سے خواتین پر تشدد میں اضافے کے باوجود ”سب اچھا ہے“ کی رپورٹ حقائق کے منافی ہے، خواتین کے حوالے سے معاشرے کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کیا جائے تاکہ ملکی قوانین اور عالمی معاہدوں پر عملدرآمد کی صورتحال بہتر ہوسکے، ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال اور عالمی معاہدوں پر عملدرآمد کے حوالے سے اقوام متحدہ کو بھجوائی گئی چار سالہ یونیورسل رپورٹ میں غیرت کے نام پر خواتین کے قتل اور جرگہ پنچائت کے خاتمے کے ذکرکو نظر انداز کرناقابل مذمت ہے۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے آئی اے رحمن، شرکت گاہ کی فوزیہ وقار، عورت فاو¿نڈیشن کی نسرین زہرہ اور نبیلہ شاہین، سپارک کے سجاد چیمہ ، سیپ کے زبیر اور پیٹر جیکب نے ”یونیورسل پیریوڈک ریویو“کے حوالے سے مقامی ہوٹل میںپریس بریفنگ کے دوران کیا۔ انسانی وخواتین کے حقوق کے رہنماو¿ںنے کہا کہ حکومت انسانی حقوق کے بارے میں بالکل سنجیدہ نہیں، ملک میں خواتین اور انسانی حقوق کے حوالے سے حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کو بھیجی گئی رپورٹ میں حقیقی تصویر پیش نہیں کی گئی، بہتر ہوتا رپورٹ اقوام متحدہ کو بھیجنے سے پہلے ملکی میڈیا اور سول سوسائٹی کے سامنے پیش کی جاتی۔ اس موقع پرانہوںنے بچوں، انسانی حقوق اور خواتین کے حوالے سے عالمی معاہدوں کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔