پشاور ہائیکورٹ: لاپتہ افراد کیس میں وفاقی، صوبائی حکومتوں کو رپورٹ جمع کرانے کیلئے 20روزکی مہلت

پشاور (آئی این پی ) پشاور ہائیکورٹ نے صوبے بھر سے لاپتہ افراد کیس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو رپورٹ جمع کرانے کے لئے 20روز کی مہلت دیدی جبکہ ایک لاپتہ کو بلیک اور دوسرے کو گرے قرار دینے کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس دائود خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قیصر علی شاہ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل منظور خلیل عدالت میں پیش ہوئے جبکہ دو افراد سے متعلق رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی جو کہ اس وقت کوہاٹ سنٹر میں قید ہیں رئیس خان نامی شہری سے متعلق عدالت کو بتایا گیا کہ اسے گرے قرار دیا گیا ہے جبکہ زاہد گل کو بلیک قرار دیا گیا ہے دیگر کیسوں میں پراگرس نہ ہونے پر چیف جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قیصر علی شاہ سے استفسار کیا کہ ان کیسوں میں پراگراس کیوں نہیں ہو رہی جنہوں نے عدالت سے مہلت مانگی جس پر چیف جسٹس نے بیس دن کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ بیس دن میں جواب دیا جائے، دیگر لاپتہ افرادکے کیسز ایڈیشنل رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کے پاس ریفر کر دئیے گئے جن میں سے تین کیسز سال 2014ء جبکہ چار نئے کیسز جو کہ سال 2015ء میں پشاور ہائیکورٹ میں رجسٹرڈ ہوئے۔