مظفر گڑھ: زیادتی کے ملزم رہا کرنے پر متاثرہ طالبہ نے تھانے کے سامنے خود کو آگ لگا لی

مظفر گڑھ: زیادتی کے ملزم رہا کرنے پر متاثرہ طالبہ نے تھانے کے سامنے خود کو آگ لگا لی

مظفرگڑھ + جتوئی (نامہ نگار+ آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ) مظفرگڑھ سے 70 کلومیٹر دور واقع تھانہ بیٹ میر ہزار خان کے سامنے زیادتی کے ملزم کو مبینہ طور پر رشوت لے کر رہا کرنے پر متاثرہ طالبہ آمنہ بی بی نے خود پر تیل چھڑک کر خودسوزی کی کوشش کی جسے شدید زخمی حالت میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جتوئی میں داخل کرا دیا جہاں سے اسے تشویشناک حالت میں نشتر ہسپتال ملتان منتقل کر دیا گیا۔ پولیس اطلاع کے باوجود اسے باز رکھنے میں ناکام رہی، طالبہ کے تیل چڑھ کر آگ لگانے کے فوراً بعد چیخ و پکار پر ایس ایچ او نے خود اور تھانے کے باہر موجود لوگوں نے آگ بجھائی۔ ایس ایچ او مدد کیلئے نفری کو پکارتا رہا مگر ماتحت سنی ان سنی کرتے رہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او مظفر گڑھ سے آج رپورٹ طلب کر لی ہے۔ شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ متاثرہ لڑکی کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔ نواحی علاقہ بھنڈی وال کی رہائشی 22 سالہ آمنہ بی بی کے والدین سے اس علاقے کے رہائشی نادر بھنڈ نے رشتہ مانگا‘ انکار پر وہ مشتعل ہوگیا اور اس نے دو ساتھیوں کے ہمراہ آمنہ بی بی کو زیادتی کا نشانہ بنایا جس کا مقدمہ تھانہ بیٹ میر ہزار خان میں درج کیا گیا۔ تفتیشی افسر کی رپورٹ پر ملزمان نے رہا ہو کر مٹھائی تقسیم کی تو طالبہ آمنہ نے تھانہ میر ہزار کے باہر خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا لی۔ متاثرہ لڑکی آمنہ بی بی نے میڈیا کو بتایا کہ تفتیشی آفیسر ایس آئی رانا ذوالفقار اور ایس ایچ او تھانہ رائے شاہد علی نے ملزموں سے بھاری رقم لے کر انہیں رہا کر دیا ہے۔ انصاف نہ ملنے پر اس نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق پولیس نے طالبہ سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو بے گناہ قرار دیکر رہا کر دیا تھا جس پر لڑکی نے تھانے کے سامنے خودسوزی کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق لڑکی کو 5 جنوری کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ سماجی کارکن مختاراں مائی نے اس حوالے سے بتایا کہ متاثرہ لڑکی تین سے چار دن پہلے ہمارے پاس آئی تھی، ڈی پی او مظفر گڑھ اور ایس ایچ او سے بات کی تو سب نے کہا کہ تفتیش کر رہے ہیں، عدالت میں کیس جانے سے پہلے ہی پولیس نے ملزمان کو بے گناہ قرار دیدیا۔ ڈی این اے رپورٹ میں جرم ثابت ہو گیا، تب بھی تفتیشی افسر نے ملزمان کو بے گناہ قرار دیدیا۔ لڑکی نے بتایا تفتیشی افسر نے زیادتی کرنے والے وڈیرے سے 70 ہزار روپے رشوت لی۔ ڈاکٹروں کے مطابق طاہر کا 80 فیصد جسم کا حصہ جل گیا اور اس کی حالت تشویشناک ہے اور اسکی جان بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ایس ایچ او سمیت تین اہلکار معطل کر دیئے گئے ہیں۔ پولیس نے طالبہ کیخلاف بھی خودسوزی کی کوشش پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ قبل ازیں نشتر روانگی سے قبل آمنہ مائی اس کی والدہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک تو میری بیٹی کو درندوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ دوسرا پولیس آفیسر رانا ذوالفقار نے ملزمان سے بھاری نذرانہ لیکر بے گناہ کر دیا اور ہمیں دھکے دیکر تھانہ سے نکال باہر کیا جس معاشرے میں مظلوم کو انصاف نہ ملے وہاں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔مظفر گڑھ میں لڑکی کے خودسوزی کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن خالد داد لک کو تحقیقاتی افسر مقرر کر دیا گیا تھا۔