خیبر پی کے: بدعنوانی کیخلاف مہم، 6 ماہ میں 130 پولیس اہلکار فارغ

پشاور (بی بی سی) خیبر پی کے میں بدعنوان پولیس اہلکاروں کے خلاف شروع کی گئی مہم کے دوران 130 اہلکاروں کو نوکریوں سے فارغ کردیا گیا ہے جن میں ایس ایچ اوز اور انسپکٹر رینک کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پی کے کے ترجمان نے بتایا آئی جی ناصر خان درانی کی خصوصی ہدایت پر تقریباً چھ ماہ پہلے محکمہ پولیس میں کرپٹ اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس دوران تقریباً 200 کرپٹ پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائیاں مکمل کی گئی جن میں سے 130 اہلکاروں پر الزامات ثابت ہونے پر انھیں نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا۔ زیادہ تر اہلکاروں کے خلاف کاروائی عام لوگوں کی شکایت پر کی گئی ہے اور بغیر کسی سیاسی دباؤ یا امتیاز کے اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ خیبر پی کے میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اتنے کم وقت میں اتنے بڑے پیمانے پر پولیس فورس میں کرپٹ اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی گئی۔ ترجمان کا کہنا تھا فارغ کئے گئے اہلکاروں کا تعلق ڈیرہ اسمٰعیل خان، پشاور، مردان، ہزارہ اور ملاکنڈ ریجز سے ہے۔ آئی جی ناصر خان درانی نے گذشتہ سال ستمبر کے مہینے میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا جس کے بعد سے پولیس فورس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ احتساب کی غرض سے تمام افسران کو اپنے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات ظاہر کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ پولیس فورس کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے تقریباً پینتیس اصلاحات کی گئی ہیں جن میں آن لائن ایف آئی آر کا اجرائ، تھانوں میں خواتین ڈیسک کا قیام اور واقعات کے جائزے کے لئے ٹیموں کی تشکیل وغیرہ شامل ہیں تاہم اس مہم میں اب تک ایس ایچ او رینک سے اوپر کے کسی بھی افسر کو نوکری سے برخاست یا معطل نہیں کیا گیا ہے۔