یورپی باشندوں کی امریکہ آمد نئے ارضیاتی دور کا آغاز تھا‘ سائنسدان

یورپی باشندوں کی امریکہ آمد نئے ارضیاتی دور کا آغاز تھا‘ سائنسدان

لندن (بی بی سی اردو) سائنس دانوں نے ایک نئے ارضیاتی دور کا تعین کیا ہے جو ایک تحقیق کے مطابق 1610 میں شروع ہوا۔ اس دور کو ’انسانی دور یا اینتھروپوسین کا نام دیا گیا ہے۔سائنس دانوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ براعظم امریکہ میں یورپی باشندوں کی آمد سے ایک نئے ارضیاتی دور کا آغاز ہو گیا۔ بعض دوسرے ماہرین کا خیال ہے یہ دور دراصل یورپ میں 18ویں صدی میں آنے والے صنعتی انقلاب سے شروع ہوا تھا۔ ماہرینِ ارضیات زمین کی تاریخ کو مختلف ادوار میں تقسیم کرتے ہیں جن کے دوران سیارے پر نمایاں تبدیلیاں ہوئیں۔ ان تبدیلیوں میں براعظموں کی حرکت، کسی شہابیے کا زمین سے ٹکراو¿ یا موسم میں بڑی تبدیلی شامل ہیں۔ ہم اب بھی رسمی طور پر ’ہیلوسین‘ نامی دور میں جی رہے ہیں جو 11500 سال قبل برفانی دور کے خاتمے کے بعد شروع ہوا تھا لیکن اب سائنس دان کہتے ہیں انسانوں نے بھی زمین کو ڈرامائی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ کولمبس کی براعظم امریکہ آمد کے ساتھ پودوں، جانوروں اور بیماریوں کا بین البراعظمی تبادلہ شروع ہو گیا ‘ براعظم امریکہ میں یورپی باشندوں کی آمد عالمی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔اس کے بعد بین الاقوامی تجارت شروع ہو گئی جس کے باعث جانوروں اور پودوں کی نسلیں دنیا بھر میں ادھر سے ادھر منتقل کرنا شروع ہو گئیں۔ ’وسطی امریکہ سے گندم آئی جو یورپ، افریقہ اور چین میں اگائی جانے لگی۔ جنوبی امریکہ کے آلو برطانیہ، یورپ اور چین میں اگنے لگے۔ اجناس دوسری طرف بھی گئیں‘جانداروں کی انواع نے براعظم پھلانگنا شروع کر دیے ہیں، یہ کام اس سے قبل کبھی نہیں ہوا تھا، سائنس دانوں کی ٹیم نے ایک اور اشاریہ ڈھونڈ نکالا اور وہ تھا ان بیماریوں کی شکل میں جو یورپ سے امریکہ گئیں۔ ڈاکٹر لیوس نے بی بی سی کو بتایا: ’براعظم امریکہ میں پانچ کروڑ کے قریب لوگ ہلاک ہوئے، جن کی اکثریت کسانوں پر مشتمل تھی۔کھیت دوبارہ جنگل بن گئے، اس سے عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں نمایاں کمی واقع ہو گئی یہ اس دور کی برفانی تہوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کم ترین مقدار ہے۔
نئے ارضیاتی دور کا آغاز