حکومت متاثرین کی واپسی کا فوری اعلان کرے ورنہ 10 لاکھ افراد آبائی علاقوں میں چلے جائینگے: ٖگرینڈ قبائلی جرگہ

پشاور (نیٹ نیوز / بی بی سی) شمالی وزیرستان کے عمائدین نے گرینڈ جرگے میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی واپسی کا فوری طور پر اعلان کیا جائے ورنہ وہ تمام متاثرین کے ساتھ خود اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہو جائیں گے۔ گرینڈ جرگے میں عمائدین نے اپنے مسائل بیان کیے۔ لوگوں کو درپیش مسائل اور ان کی وطن واپسی پر حکومت کی خاموشی کی وجہ سے اکثر قبائلی رہنما غصے میں تھے۔ قبائلی رہنماؤں نے کہا کہ متاثرین نقل مکانی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں دوسری جانب ان کے خیموں اور گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ قبائلی رہنما ملک خان مرجان وزیر نے بتایا کہ جرگے میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیر کو پشاور میں فاٹا سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا دیں گے اس کے بعد سیاسی رہنماؤں سے رابطے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی واپسی کا کوئی فیصلہ نہ کیا گیا تو قبائلی رہنما اپنی قوم کے ساتھ رابطے میں ہیں وہ پھر اپنی قوم اور عوام کے ساتھ ہوں گے، وہ جدھر انہیں لے چلیں، چاہے وزیرستان بھی لے جائیں، وہ ان کی بات مانیں گے۔ قبائلی رہنما ملک نثار علی خان نے بتایا کہ اگر حکومت نے ان کی واپسی کا اعلان نہ کیا تو وہ متاثرین کے ساتھ خود اپنے علاقے کی جانب چلے جائیں گے۔ ایک مرتبہ پھر حکومت کو موقع دیا ہے اگر اس بار بھی حکومت نے وعدہ خلافی کی اور ان کی واپسی کو یقینی نہ بنایا تو پھر دس لاکھ متاثرین وزیرستان کی جانب روانہ ہو جائیں گے۔ مہینے کے راشن میں آٹے کے دو تھیلے اور پانچ کلو گھی ملتا ہے، یہ 11 افراد کے لیے کیسے پورا ہو؟ اس لیے پھر اپنے پیسوں سے خریدتے ہیں۔ اب تو سب جمع پونجی ختم ہو چکی ہے گزارا مشکل ہوگیا ہے۔ حکومت نے متاثرین کی واپسی کے اعلانات کیے یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان کی واپسی کا عمل وسط مارچ سے شروع ہو گا لیکن اب تک اس پر عمل درآمد کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ حکومت نے جنوبی وزیرستان کے متاثرین کی کچھ دیہات میں واپسی کا اعلان کیا ہے جو 16 مارچ سے شروع ہو گی۔ فوج کے ترجمان کے مطابق آپریشن ضرب عضب میں شمالی وزیرستان کا اسی فیصد علاقہ شدت پسندوں سے پاک کیا جا چکا ہے۔ قبائلی رہنماؤں اور متاثرین کا کہنا ہے کہ جو علاقے شدت پسندوں سے صاف کیے جا چکے ہیں وہاں لوگوں کو واپس بھیج دیا جائے۔