کاسترو سے ملاقات بامعنی ، ایکدوسرے کے ہاں سفارتخانے کھولیں گے: امریکی صدر

لندن ( بی بی سی اردو) ہفتہ کو امریکی براعظموں کے ممالک کی سربراہی کانفرنس کی سائیڈلائنز پر اوباما نے کاسترو کے ساتھ ملاقات کو ’صاف اور بامعنی‘ کہا  دونوں رہنمائوں کی ملاقات کی مزید تفصیلات کے مطابق راؤل کاسترو نے اوباما سے ملاقات میں امریکہ کی جانب سے 1959ء میں عائد کی جانیوالی تجارتی پابندیاں ختم کرنے کیلئے کہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق دونوں جانب سے کوئی یہ بتانے کیلئے تیار نہیں تھا کہ حقیقی اقدامات کب اٹھائے جائیں گے، مثلاً کیوبا کو کب دہشت گردی کی معاونت کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے نکالا جائیگا ، یا پھر یہ کہ دونوں ممالک کب ایک دوسرے کے دارلحکومتوں میں اپنے سفارتخانے کھولیں گے۔براک اوباما کا کہنا تھا ’یہ کچھ نیا کرنے کا وقت ہے اور امریکہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ کیوبا کی حکومت اور عوام کو براہ راست مشغول رکھے۔‘انہوں نے کہا  ’دو پرانے دشمنوں کے درمیان اختلافات رہیں گے لیکن دونوں باہمی مفادات کے تحت پیشرفت کر سکتے ہیں برازیل کی صدر دیلما روزیف نے امریکہ اور کیوبا کے درمیان ہونیوالی پیشرفت کی تعریف کی ۔ ہم دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ ہم ایک دوسرے کے جذبے کی قدر کرتے ہوئے شائستگی کے ساتھ اختلاف رکھ سکتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہ ممکن ہے کہ ہم ورق پلٹیں اور دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا رشتہ قائم کریں۔ اوباما نے کہا  دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو نارمل کرنے کیلئے ہوانا میں امریکی جبکہ واشنگٹن ڈی سی میں کیوبا کا سفارتخانہ فوری طور پر کھولا جائیگا۔اس موقع پر کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے کہا کہ دونوں ممالک ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے سے ’اختلاف رکھنے پر راضی ہیں۔‘ہم امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے راستے پر پیش رفت کے لیے آمادہ ہیں۔ ان  کے مطابق ’جب میں انقلاب کی بات کرتا ہوں تو میں صدر اوباما سے معاف کر دینے کی بات کرتا ہوں کیونکہ وہ ماضی میں ہونے والے واقعات کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ امریکہ کے جہاں کیوبا کے ساتھ رشتے استوار ہو رہے ہیں وہیں وینزویلا کے ساتھ رشتوں میں گذشتہ برسوں کے دوران تلخی آئی ہے۔ صدر اوباما نے سربراہی اجلاس میں نیکولا مدورو کے ساتھ مختصر ملاقات کی اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ وینزویلا کے ساتھ تعاون میں دلچسپی رکھتا ہے نہ کہ اسے دھمکانے میں۔