ٹیوب ویل کے متنازعہ بلوں نے ہزاروں کسانوں کا مستقبل دائو پر لگا دیا: بی بی سی

بہاولنگر (بی بی سی اردو ڈاٹ کام) پاکستان میں بجلی کے ٹیوب ویل کے متنازع بلوں نے ہزاروں کسانوں کی کاشتکاری کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔ حکومت کے مطابق، ملک بھر میں کسانوں کو ٹیوب ویل استعمال کرنے کی مد میں 135 ارب روپے کے بل ادا کرنے ہیں اور کسانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ان بِلوں کو ناجائز قرار دیتی ہیں۔ اس تنازع کے نتیجہ میں ہزارہا کسان واپڈا کی کتابوں میں نادہندگان بن گئے ہیں اور یہی کِسان پولیس کے مقدمات میں ڈکیتی اور امنِ عامہ میں خلل ڈالنے سمیت دہشتگردی جیسے سنگین مقدمات میں معلوم یا نامعلوم ملزمان بھی قرار دے دیے گئے ہیں۔ بہاولنگر کے قصبہ مروٹ کے چودھری آصف بجلی کے ٹیوب ویل کے پانی سے پانچ فصلیں بیج اور کاٹ چکے ہیں لیکن ٹیوب ویل کا بل مکمل ادا نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے محکمہ استعمال سے کئی گنا زیادہ بل بھیجتا ہے۔ اس ماہ میرا ٹیوب ویل دس گھنٹے چلا۔ بل 72 ہزار آیا جبکہ دس گھنٹوں کے 300 یونٹ بنتے ہیں اور تین ہزار بل بنتا ہے۔ دو سال سے جاری اِس کشمکش میں ان کا واجب الادا بِل 14 لاکھ سے تجاوز کر گیا ہے۔ انھوں نے کئی قسطیں ادا بھی کیں لیکن تاخیر اور آواز بلند کرنے کے نتیجے میں کئی مقدمات میں نامزد ملزم بن گئے۔ واپڈا کے ڈویڑنل سربراہ ایکس ای این محمد ثاقب کے مطابق صرف مروٹ ہی میں واجب الادا بِلوں کی رقم 20 کروڑ سے زائد ہو چکی ہے۔ نادہندہ کِسان سات چکوک کے ہیں۔ پانی و بجلی کے وزیرِ مملکت عابد شیر علی پنجاب میں ٹیوب ویل کے بِلوں کی واجب الادا رقم دس ارب روپے کے لگ بھگ قرار دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ واجب الاد بِل بلوچستان سے ہیں لیکن پنجاب میں یہ صورتحال صوبے میں مسلم لیگ ن کے گذشتہ دورِ حکومت کے آخری چند مہینوں میں پیدا ہونا شروع ہوئی۔ وفاقی حکومت نے ٹیوب ویل کے بِلوں پر کسانوں کو ملنے والی سبسِڈی ختم کرنا شروع کی تو ماہانہ بِل اْن کی اوسط آمدن سے کہیں زیادہ آنے لگے۔ پاکستان کسان اتحاد کے مطابق، ان کا اتحاد قائم ہونے کے بعد سے اب تک، کسانوں کے خلاف مقدمات میں نامزد یا نامعلوم ملزمان کی تعداد تقریباً 50 ہزار ہو چکی ہے۔