سوات: 120 سے زائد سکول عمارت پانی سمیت اہم بنیادی سہولتوں سے محروم بچے خوف کے سائے میں پڑھنے پر مجبور

سوات (بی بی سی) خیبر پی کے کے ضلع سوات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 120 سے زائد سکول عمارت سے محروم ہیں۔ سوات میں گورنمنٹ پرائمری سکول ٹانگئی میں 200 کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں، بچوں کے لیے صرف دو اساتذہ ہیں۔ عمارت کے علاوہ یہ سکول دیگر بنیادی ضروریات پینے کے پانی سے بھی محروم ہے۔ سکول کے استاد نثار احمد نے بتایا کہ ہمارا علاقہ شورش سے متاثرہ ہے اور ماضی میں اس علاقے میں تعلیم دشمن عناصر نے متعدد سکولوں کو نہ صرف بم دھماکوں سے اڑایا بلکہ نذز آتش بھی کر دیا۔ ان کے مطابق عمارت نہ ہونے کے باعث سکیورٹی کے حوالے سے خدشات تو موجود ہیں لیکن بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے وہ یہ خطرہ مول لینے پر مجبور ہیں۔ استاد محمد بشیر نے بتایا کہ یہاں بچے خوف کے سائے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی پولیس نے اس سکول کو ہائی ویلیو ٹارگٹ قرار دے کر بند کرنے کا کہا تھا تاہم ڈیپارٹمنٹ نے سکول کھلا رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سوات میں پرائمری لیول پر لڑکیوں کے 433 جبکہ لڑکوں کے 843 سکول ہیں اور ان میں 1,806 خواتین اور 3,188 مرد اساتذہ ہیں۔ تیسری جماعت کے طالب علم نعمت خان نے بتایا کہ انہیں سکول میں بہت ڈر لگتا ہے کیونکہ یہ بغیر عمارت کے ہے اور دہشت گرد کسی بھی وقت سکول پر حملہ کرسکتے ہیں۔