خیبر پی کے: بڑے ہسپتالوں میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیوں میں بے قاعدگیوں کا انکشاف

پشاور (رضا پرنس) صوبہ خیبر پی کے کے چاروں بڑے ہسپتالوں میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیوں میںبڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں اور میرٹ کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے اور چاروں ہسپتالوں میں عہدوں کے نام تبدیل کرکے نئے ناموں سے پرانے طریقہ کار پر ہی اکتفا کرکے تعیناتیوںکے احکامات جاری کئے گئے ہیں جو کہ تحریک انصاف حکومت کے اعلانات اور نعروںکی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں گذشتہ 22 مہینوں سے محکمہ صحت خیبر پی کے میںجتنی بھی تعیناتیاں ہوئی ہیں وہ عارضی طورپرکی جاتی رہی ہیں جس کی وجہ سے محکمہ صحت اپنے اہداف حاصل کرنے میںکامیاب نہ ہو سکا۔ موجودہ حکومت نے محکمہ صحت کے دوسرے اعلیٰ عہدوں پر تبادلوں اور تعیناتیوں کا سلسلہ جاری رکھا وہاںصوبہ کے چاروں بڑے ہسپتالوں میں چیف ایگزیکٹوز اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کو بھی عارضی بنیادوں پر تعینات کئے رکھا۔ بعد میں یہ اعلان کیا گیاکہ چاروں بڑے ہسپتالوں میں میڈیکل ڈائریکٹر اور ہاسپیٹل ڈائریکٹر کے عہدوں پر پروفیشنل ڈاکٹروںسے ہٹ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ پرائیویٹ لوگوںکوبنیادی پے سکیل 20 میں تعینات کیا جائے جن کا ہسپتال میں پہلے سے ملازمت کوئی عمل دخل نہیںہوگا مگر موجودہ حکومت نے جہاں اپنے اعلانات سے ہٹ کر تعیناتیاںکیں وہاںمذکورہ اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی میرٹ سے ہٹ کرکی گئی ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق خیبرٹیچنگ ہسپتال پشاورمیںڈی ایم سٹورکے عہدے پرگریڈ18 میں تعینات ڈاکٹر فرمان کو گریڈ 20 کے عہدے پر ہاسپیٹل ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ اس طرح گریڈ 20 کی سینارٹی لسٹ میں چھٹے نمبر پر ہونے کے باوجود ڈاکٹر ندیم خاور کو خیبر ٹیچنگ ہسپتال میںمیڈیکل ڈائریکٹرکے عہدے پرتعینات کیا گیا ہے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں پہلے سے گریڈ 18میںتعینات ڈی ایم ایس کیجولٹی ڈاکٹرندیم تاج کوبھی گریڈ 20 کے عہدے پر ہاسپیٹل ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔