دہشت گردی ختم کرنے کیلئے مذاکرات اولین ترجیح ہے‘ پولیو مہم کے مخالف انسانیت‘ مذہب کے خلاف کام کر رہے ہیں: ممنون حسین

دہشت گردی ختم کرنے کیلئے مذاکرات اولین ترجیح ہے‘ پولیو مہم کے مخالف انسانیت‘ مذہب کے خلاف کام کر رہے ہیں: ممنون حسین

پشاور (نوائے وقت نیوز+ اے این این+ این این آئی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں خصوصاً فاٹا میں پولیو کے کیسز کا پایا جانا ہم سب کیلئے باعث پریشانی ہے۔ انسداد پولیو مہم کے مخالفین مذہب اور انسانیت کیخلاف کام کر رہے ہیں۔ پولیو ویکسین پلانے کی مہم میں علماء اور مساجد کے خطباء کی خدمات حاصل کر کے موذی مرض پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ گورنر ہائوس پشاور میں قبائلی عمائدین کے گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار اب بھی گنتی کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں پولیو وائرس ہمارے مستقبل کے معماروں کو اپاہج بنا رہا ہے۔ ہر 85 میں 60 پولیو کیسز کا فاٹا کے علاقوں سے ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے جید مسلم علماء نے پولیو ویکسین کو حلال اور اسے پلانا جائز قرار دیا۔ ہم سب کو ملکر اس خطرناک مرض کیخلاف جدوجہد کرنی ہے۔ قبائلی جرگہ اس مرض کے خاتمے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ صدر نے قبائلی علاقوں کے شہداء کے ورثاء کیلئے 10 کروڑ اور بے گھر ہونیوالوں کیلئے بھی 10 کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا اور کہا کہ فاٹا کی تمام ایجنسیوں اور فرنٹیر ریجنز کے قبائل کو قدرتی گیس فراہم کرنے کیلئے جامع پروگرام مرتب کیا جائیگا۔ اسکے علاوہ فاٹا کے 10 طلباء کو وفاقی یونیورسٹیوں میں سکالرشپ ملے گا۔ بوائز کالج لنڈی کوتل اور جمرود ڈگری کالج کو پوسٹ گریجوایٹ کا درجہ دیا جائیگا۔ انہوں نے فاٹا میں ایک جنرل ہسپتال بھی قائم کیا جائیگا۔ قبل ازیں گورنر خیبر پی کے انجینئر شوکت اللہ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے حکومت ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ حکومت دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے مذاکرات سمیت ہر آپریشن استعمال کریگی۔ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے حکومت بات چیت کو اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ ملاقات میں فاٹا میں امن و امان کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔  ملاقات  میں صدر مملکت ممنون حسین نے گورنر  خیبر پی کے کو وفاق کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی۔ گورنر نے صدر کو بتایا کہ تمام قبائلی علاقوں میں قبائلی عمائدین کی مدد سے  حالات کی بہتری کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ صدر نے ان کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے حکومت  بات چیت کو اولین ترجیح سمجھتی ہے جو عناصر گمراہ ہوکر اپنے عمل سے ملک اور قوم کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہیں حکومت کی طرف سے مسئلہ کے حل کیلئے بات چیت کی پیشکش سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔