امریکہ کو شک تھا آئی ایس آئی اسامہ کی حفاظت کر رہی ہے: رابرٹ گیٹس

امریکہ کو شک تھا آئی ایس آئی اسامہ کی حفاظت کر رہی ہے: رابرٹ گیٹس

واشنگٹن (آئی این پی) سابق امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر چھاپہ مار کارروائی سے قبل پاکستان سے مشاورت کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا‘ امریکہ کو شک تھا کہ آئی ایس آئی اسامہ بن لادن کی حفاظت کر رہی ہے‘ امریکہ نے پہلے جب بھی پاکستانی فوج یا انٹیلی جنس سروسز کو قبل از وقت وارننگ فراہم کی تو ہدف کو خبردار کر کے فرار کروا دیا جاتا تھا‘ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر کامیاب امریکی کارروائی سے پاکستانی فوج کو سخت ندامت اٹھانا پڑی۔ 2009ء کے انتخابات میں امریکہ کی حامد کرزئی کو صدارتی انتخاب میں شکست کو پاکستان نے ناکام بنا دیا۔ پاکستان امریکہ تعلقات کے انتہائی اہم دورکے حوالے سے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’’ڈیوٹی: جنگ کے دوران ایک سیکرٹری کی یادداشتیں‘‘ میں مزید انکشافات کرتے ہوئے رابرٹ گیٹس نے کہا 2009ء کے انتخابات میں امریکہ نے افغان صدر حامد کرزئی کو شکست سے دوچار کرنے کی کوشش کی تھی۔رابرٹ گیٹس نے لکھا جب وہ مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں واقع اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر چھاپہ مار کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، اس وقت وہ فکرمند تھے کہ آئی ایس آئی کو القاعدہ کے سربراہ کے ٹھکانے کے بارے میں علم تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’میں فکرمند تھا کہ پاکستانی انٹر سروسز انٹیلی جنس نے اس کمپاؤنڈ کے اردگرد کوئی سکیورٹی کا اشارہ لگا رکھا ہو لیکن ہمیں اس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکا تھا، جب ہمیں معلوم ہو سکا، کم ازکم آئی ایس آئی نے اس کمپاؤنڈ پر نگرانی میں اضافہ کر دیا ہو۔ بدترین صورتحال یہ ہو سکتی تھی کہ جب پاکستانی اپنے فوجیوں کی بڑی تعداد تیزی کے ساتھ وہاں لے آتی اور ہماری ٹیم کو باہر نکلنے سے روک دیتی اور انہیں قیدی بنا لیا جاتا۔ آپریشن کے آفیسر انچارج وائس ایڈمرل ولیم میک راون نے انہیں بتایا اگر اس آپریشن کے دوران پاکستانی فوج سے سامنا ہو جائے تو امریکی کمانڈوز ہتھیار ڈال دیں گے اور ایک سفارتی نکاس کا انتظار کریں گے۔ ایڈمرل ولیم نے بتایا کہ امریکی فوجی کمپاؤنڈ کے اندر انتظار کریں گے اور کسی بھی پاکستانی کو گولی نہیں ماریں گے۔ رابرٹ گیٹس لکھتے ہیں ’’میں نے پوچھا کہ وہ اس وقت کیا کریں گے جب اگر پاکستانیوں نے دیواروں میں شگاف کر ڈالا تو کیا آپ گولی چلائیں گے، یا پھر ہتھیار ڈال دیں گے؟ میں نے کہا کہ ہماری ٹیم ہتھیار نہیں ڈال سکتی اگر پاکستانی فوج وہاں پہنچتی ہے، تو ہماری ٹیم کو چاہئے کہ وہ کسی بھی طرح سے فرار ہونے کی تیاری کرے۔ خاصی بحث کے بعد اس کے لئے وسیع معاہدہ کیا گیا اور نتیجے میں اضافی ایم ایچ-47 ہیلی کاپٹرز اور فورسز اس مشن کے لئے تفویض کی گئی۔