افسوس حراستی مراکز کیلئے بنائے گئے قانون پر عملدرآمد نہیں ہورہا: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

پشاور (بیورو رپورٹ) پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دئیے ہیں کہ افسوس کی بات ہے کہ حراستی مراکز میں رکھے گئے شہریوں کیلئے بنائے گئے قانون پر عملدرآمد نہیں ہورہا، مانتے ہیں ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے تاہم جو لوگ بے گناہ ہیں انہیں تو رہا کیا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جن لوگوں کو رہا کیا جاتا ہے، انہیں اتنا ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کہ وہ عدالت کے سامنے بھی نہیں آتے لیکن جو لوگ غیرقانونی کام کررہے ہیں انکے خلاف بہت جلد قانونی کارروائی کی جائیگی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ لاپتہ افراد کے کیسزایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل پشاور ہائیکورٹ کے پاس بھیج رہے ہیںجہاں سے تین چانسز محکموں کو دئیے جائینگے۔ اگر پھر بھی لاپتہ افراد کا پتہ نہیں چلا تو پھر کیسز کی سماعت عدالت میں ہوگی جبکہ حراستی مراکز میں قید شہریوں کے کیسز پشاور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہونگے۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے یہ ریمارکس لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر دئیے عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اور جسٹس اکرام اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 27 لاپتہ افراد کیس کی سماعت کی دو رکنی بنچ نے کیس میں سیکرٹری دفاع اور داخلہ کو آخری نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر لاپتہ افراد سے متعلق مکمل رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔ دوران سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل وقار احمد، ڈپٹی اٹارنی جنرل منظور خلیل عدالت میں پیش ہوئے مختلف کیسز میں عدالت کو بتایا گیا کہ ابھی تک ان کیسز میں وزارت داخلہ اور دفاع کا جواب نہیں آیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ افسوس کی بات ہے کہ حراستی مراکز میں رکھے گئے شہریوں کیلئے بنائے گئے قانون پر عملدآرمد نہیں ہورہا چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ مانتے ہیں کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے تاہم جو لوگ بے گناہ ہیں اور زندہ ہیں انہیں تو رہا کیا جائے اور جو لوگ مر چکے ہیں انکے بارے میں بھی بتایا جائے تاکہ ان کے لواحقین کو پتہ تو چل سکے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جن لوگوں کو رہا کیا جاتا ہے، انہیں اتنا ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کہ وہ عدالت کے سامنے بھی نہیں آتے لاپتہ افراد کیس میں پیش ہونیوالے وکیل فدا گل ایڈووکیٹ نے عدالت کوبتایا کہ لاپتہ افراد کی نعشیں مل رہی ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ انہیں ہر چیز کا پتہ ہے جو لوگ غیر قانونی کام کررہے ہیں ان کیخلاف بہت جلد قانونی کارروائی کی جائیگی عدالت عالیہ پشاور نے لاپتہ افراد کیس میں سیکرٹری دفاع اورداخلہ کو آخری نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر مکمل رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔