یقین کامعجزہ

اعجاز احمد
سات سالہ طاہرہ نے باہر ہمسایوں کے بچوں کو پانی میںکھیلتے دیکھا تو اس کا دل بھی مچلنے لگا۔ اس نے اپنے بارہ سالہ بھائی یاسر کو ساتھ لیا اور اپنی امی سے اجازت مانگی تو انہوں نے بچوں کو باہر پانی میں کھیلنے کی اجازت دے دی۔طاہرہ اور یاسر پانی میں کھیلنے لگے ان کی امی کلثوم اگرچہ گھر کے کام کاج میں مصروف ہو گئیں لیکن وہ وقفے وقفے سے کھڑکی سے باہر دیکھ کر ان کی نگرانی کرتی رہیں۔بچے کھیلتے کھیلتے آگے نکل گئے۔ سڑک کے ساتھ ایک کھائی سی بنی ہوئی تھی۔ ”آﺅ آگے گہرے پانی میں کھیلیں“ طاہرہ نے اپنے بڑے بھائی یاسر کو تجویز پیش کی یاسر اس کی تجویز مان گیا اوروہ کھائی میں جمع پانی میں اچھلنے کودنے لگے۔اسی وقت ان کی ایک ہمسائی خالہ نگہت اٹھ کر باہر دیکھنے لگیں کہ باہر سڑک پر کھڑے پانی کی سطح پر کچھ کم ہوئی یا نہیں ؟ان کی نظر طاہرہ اور یاسر پر پڑی انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھاکہ طاہرہ نظروں سے اوجھل ہوگئی ہے۔ پہلے تو انہوں نے سوچا کہ بچی نے پانی میں ڈبکی لگائی ہے اور وہ ابھی پانی کی سطح پر ابھر آئے گی لیکن جب کئی لمحے گزر گئے اور بچی کا جسم پانی سے نہ ابھرا تو وہ خوفزدہ ہو گئیں خالہ نگہت کے خاوند بٹ صاحب تیزی سے گھرسے نکل کر کھائی کی طرف بھاگے یاسر کھائی کے کنارے سہما کھڑا تھا۔”تمہاری بہن کدھر گئی؟ “بٹ صاحب نے یاسر سے پوچھا ۔”یہیں.... یہیں تھی پتہ نہیں کدھر گئی“ بھاگ کر گھر جاﺅ۔ اپنی امی کوبتاو ¿بٹ صاحب نے یاسر کو ہدایت دی اور خود کھائی میں چھلانگ لگا دی ادھر یاسر پریشانی کی حالت میں گھر پہنچا امی کو صورت حال سے آگاہ کیا اس کی امی کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ ’کلثوم بیگم بھاگ کر فون تک پہنچیں اور سیلاب سے بچاﺅ کے لئے قائم ہنگامی امداد کے مرکز اور مقامی پولیس اسٹیشن پر فون کر کے بتایا ۔انہوں نے ساری کھائی کھنگال ڈالی لیکن طاہرہ نہ ملی۔” میری کیسے زندہ رہ سکے گی؟ “طاہرہ کی امی سوچنے لگیں بٹ صاحب ‘ یاسر اور کلثوم بیگم کھائی کے کنارے کے ساتھ ساتھ چل پڑے تھوڑی دیر بعد امدادی ٹیم پہنچ گئی، دوسری طرف اچانک بہتے پانی میں طاہرہ کے ہاتھ دو پائپوں کے درمیان جوڑ میں اٹک کر پھنس گئے اور بہتی بہتی رک گئی پھر وہ کھڑی ہو گئی اس نے اپنی انگلیاں جوڑوں میں پھنسا لیں اور اپنا منہ پانی سے باہر نکال کر لمبے لمبے سانسیں لینے لگی۔ وہ کھڑی تو ہو گئی لیکن سخت خوفزدہ تھی اس کے چاروں طرف اندھیرا تھااور بہتے پانی کا شور تھا۔ وہ رونے اور چلانے لگی۔ امی ....امی .... بچاﺅ“ لیکن معصوم بچی کی آواز کوئی نہ سن سکا وہ صرف خود ہی اپنی آواز کی گونج سنتی رہی۔طاہرہ کی امی پریشان تھیں،یاسر کو ساتھ لے کر گھر لوٹ گئیں۔ انہوں نے گھر پہنچتے ہی وضو کیا‘ نماز پڑھنے کے بعد بچی کی زندگی اور سلامتی کی دعائیں مانگنے لگیں۔ادھر پائپ میں پھنسی طاہرہ سردی کی وجہ سے کانپ رہی تھی۔امدادی ٹیم نے سب سے پہلے وہ جگہیں دیکھیں جہاں سے پائپ لائن تھی مین ہول کے ڈھکنے اٹھا کر دیکھے جا چکے تھے۔ انہوں نے نقشہ دیکھ کر اندازہ لگایا کہ کچھ جگہیںایسی تھیں جہاں بچی کے موجود ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔انہوںنے اللہ کا نام لے کر ایک جگہ سے مین ہول کا ڈھکنا اُٹھایا ایک نوجوان نے فلش لائٹ کی مدد سے مین ہول میں جھانکا اسے کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا پائپ سے چمٹی ہوئی چیز میں حرکت سی ہوئی۔ اس نے زور سے آواز دی ”طاہرہ پیاری بچی کیا یہ تم ہو؟“ وہ واقعی طاہرہ تھی۔ وہ ساری رات پائپ کے جوڑ میں انگلیاں پھنسائے بہادری سے کھڑی رہی تھی۔ اللہ پر پختہ یقین نے اس بھوک‘سردی‘خوف اور تھکاوٹ کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ بخشا تھا۔”جی ہاں میں طاہرہ ہوں“رات کو بھوک‘پیاس اور ٹھنڈک نے طاہرہ کو کافی کمزورکر دیا تھا۔ اسے بے پناہ خوشی ہوئی کہ بالآخر انہوں نے بچی کو ڈھونڈ لیا ہے۔
ڈاکٹروں نے ننھی طاہرہ کا اچھی طرح معائنہ کیا لیکن وہ بالکل ٹھیک تھی اس کے جسم میں صرف چند معمولی خراشیں آئی تھیں۔طاہرہ نے کہا مجھے یقین تھا میرا اللہ میری مدد کرے گا۔