ذہنی و جسمانی نشوونما کے باعث ........ بچوں کے پسندیدہ کھیل

 مظہر حسین شیخ
کھیل کوئی بھی ہو گاوں سے شروع ہوتا ہے اور شہر میں رہنے والے بچوں میں مقبول ہو جاتا ہے کیونکہ گاو¿ں کی تازہ آب و ہوا اور میدانوں میں کھیلنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔دیہی اور شہری علاقوں کے ایسے کھیل جس میں جسمانی ورزش ہوتی تھی آہستہ آہستہ دم توڑ رہے ہیں۔مثال کے طور پر کبڈی، گلی ڈنڈا، پٹھو گرم، باندر کلہ،چھپن چھپائی اور دوسرے ایسے بہت سے کھیل ہیں جو نہ صرف دیہی بلکہ شہروں میں بھی مقبول تھے اور ہرروزفارغ اوقات میںکھیلے جاتے تھے آج کے دور میں بچوں کو کرکٹ کا شوق جنون کی حد تک ہے شہروں میں بچے کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں ۔ ویک اینڈ اور چھٹی کے روز تقریباً ہر گلی محلے اورگراونڈز میں کرکٹ کے شائقین نظر آتےہےں جبکہ ہفتے کی رات یہ کھیل تقریباً ساری رات جاری رہتا ہے۔ اتنا شور کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی گو کہ یہ کھیل دیہی علاقوں کے بچوں میں اب بہت مقبول ہے لیکن شہروں میں ہاکی، فٹ بال اور دیگر کھیلوں کے مقابلہ میں کرکٹ کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ دوسری طرف انٹرنیٹ اور کمپیوٹر پر بیٹھنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔خوش قسمت ہیں آج کے طالب علم جنہیں کمپیوٹر سے نہ صرف پڑھنے لکھنے کا مواد مل جاتا ہے بلکہ اس کی مدد سے پوری دنیا سے باخبر رہتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب دیہی علاقوں میں بجلی کا نام و نشان نہ تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گاو¿ں بھی روشن ہوگئے اب پاک وطن کے تقریباً ہر گاﺅں ہر شہرمیں بجلی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ لوڈشیڈنگ کے دوران بجلی چند گھنٹوں کی مہمان ہوتی ہے۔
آج کے جدید دور میںطالبات میں بھی کرکٹ کا رجحان پیدا ہورہا ہے شہر ہو یا دیہات، سکول اورکالجوں میں کرکٹ کھیلی جاتی ہے جس میں طالبات بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتی ہیں۔ پُرانے کھیل اب دیکھنے کو نہیں ملتے۔
 جب سے وزیر اعلیٰ پنجاب نے مفت تعلیم اور مفت کتابیں مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے ، بچوں میں پڑھنے لکھنے کا رجحان بھی پیدا ہورہاہے ورنہ دیہی اور شہری علاقوں میں اب بھی ایسے گھرانے ہیں جو بچوں کی پڑھائی کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔
دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہمارے بہن بھائیوں میں بھی ایسے شوق پروان چڑھ رہے ہیں جن کی وجہ سے وہ زیادہ پڑھ لکھ سکتے ہیں۔ ان کا شمار بھی ہونہار اور ذہین طلبہ و طالبات میں ہو چکا ہے۔وہ بھی اپنی ذہانت کا لوہا منوا چکے ہیں۔ انہیں بھی وہ سہولتیں میسر ہو رہی ہیں جو شہروں کے طالب علموں کو ہیں۔
جفا کش،محنتی اورملنسار
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہماری آبادی کا 70 فیصد دیہات پر مشتمل ہے۔ اسی لئے پاکستان کو زرعی ملک کہتے ہیں۔ ہماری معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے۔ بس میں سفر کریں یا ریل گاڑی میں آپ کو دونوں اطراف دور دور تک پھیلے ہوئے سرسبز اور لہلہاتے کھیت نظر آئیں گے۔ گندم‘ چاول‘ مکئی‘ گنا کپاس اور کئی خاص فصلیں ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک سر زمین سونا اگلتی ہے۔
ہماری سر زمین اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت زرخیز ہے۔ اسے سونا اگلنے والی زمین کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ساتھیو! آپ بھی کئی مرتبہ گاﺅں میں اپنے عزیز رشتہ داروں سے ملنے گئے ہوں گے بھر پور سردی اورموسم گرما کی چھٹیوں میں ایسے بچے اپنے گاو¿ں ضرورجاتے ہیں جن کے بڑوں کا تعلق دیہات سے ہوتا ہے۔ گاﺅں کی تازہ ہوا اور آلودگی سے پاک ماحول آپ کو کیسا لگتا ہے؟یقیناًآپ اس سے لطف اندوز ہوتے ہوں گے واپس شہر آنے کو جی ہی نہیں چاہتا ہوگا،لہلہاتے کھیتوں اور وسیع میدانوں میں گھومنے پھرنے کو جی چاہتا ہے موسم گر ما میں ٹیوب ویل یا راہٹ پر نہانے کا شوق پورا کیا جاتا ہے۔ دیہاتی بچے بھی شہری بچوں کی خوب خاطر مدارت کرتے ہیں اس موسم میں گنا،گاجر، مولی اور موسمی پھل دھوپ میں بیٹھ کر کھانے کا بہت مزا آتا ہے۔جبکہ موسم گرما ( آموں کے موسم) میں پکنک کا سماں ہوتا ہے۔ دیہات کی زندگی سادہ مگر پروقار ہوتی ہے۔ دیہات میں رہنے والے ہمارے بہن بھائی کشادہ دل محنتی ‘ مہمان نواز اور محبت کرنے والے اور ملنسارہیں۔
ساتھیو! دیہاتی بچے بھی آپ ہی کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننا چاہتے ہیں اوربنے بھی ہیں کیونکہ وہ شہری بچوں کی طرح سہل پسند نہیں بلکہ ہر دم چست تازہ دم رہتے ہیں۔ شہری بچوں کی طرح شرارتیں بھی کم ہی کرتے ہیں کھیل کود بھی کرتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں نصابی اورغیر نصابی سر گرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں لیکن سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ کھیتی باڑی میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں شہری بچے رات کو تاخیر سے سونے کی وجہ سے سکول جانے سے تھوڑی دیر پہلے بستر سے اٹھتے ہیں بعض اوقات امی ابو سے ڈانٹ بھی پڑ جاتی ہے کہ سکول سے دیر ہو رہی ہے۔ وقت پر تیاری کیا کرو۔ وغیرہ، لیکن دیہات میں عام طور پر ایسا نہیں ہوتا دیہاتی بچے الصبح اُٹھنے کے عادی ہیں اور یہ بھی نہیں کہ یہ بس یا وین میں سوار ہو کر سکول جاتے ہیں بلکہ ٹولیوں کی صورت میں پیدل سکول آتے جاتے ہیں اور یہ بھی نہیں کہ سکول واپسی پر گھر آ کر سو جاتے ہیں بلکہ والدین کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔اگر کھیتوں میں اپنے والد‘ چچا یا بھائی کو کھانا پہنچانا ہو یا مویشیوں کے لئے چارہ کاٹناہوتو یہ کام وہ سکول جانے سے قبل کر لیتے ہیں اکثر بچوں کو سکول کئی کئی میل پیدل جانا پڑتا ہے اور واپسی بھی پیدل ہی ہوتی ہے مگر یہ بچے نہ تو سکول جانے سے گبھراتے ہیں اور نہ ہی پڑھائی سے جی چراتے ہیں بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ پڑھائی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جائیں۔ اسی طرح یہ کھیتی باڑی کاکام بھی نہایت ذمہ داری اور آحسن طریقہ سے کرتے ہیں سکول سے آ کر مویشی چراتے ہیں اگر کھیتوں میں کوئی کام ہو رہا ہو تو اس میں ہاتھ بٹاتے ہیں فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے دنوں میں سب بچے مل کر اپنے والدین کی مددکرتے ہیں۔دیہات سے تعلق رکھنے والے ہمارے بہن بھائی بڑے محنتی جفا کش اور ملنسار ہوتے ہیں۔
دوستو! یہ بچے تعلیم کے میدان میں شہری بچوں سے کسی طرح بھی کم نہیں۔حساب‘ انگریزی اردو پر مضمون میں تاک ہوتے ہیں یہ اپنے تعلیمی نصاب پر خوب محنت کر کے اچھے نمبروں سے پاس ہونے کی کوش بھی کرتے ہیں دیہات کے رہنے والے بچے میٹرک اورایف اے میں پورے صوبے‘ شہریا بورڈ میں اول یا دوم پوزیشنیں حاصل کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ان بچوں کو زندگی کی تمام سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔ اسکے باوجود یہ بہترین طالب علم اور کھلاڑی ہوتے ہیںدیہات کی کھلی اور صاف آب و ہوا میں ان کا دماغ ترو تازہ رہتا ہے وقت پر سوتے اور جاگتے ہیں ان کی پڑھائی اور کھیل کا وقت بھی مقرر ہوتا ہے۔ شہری بچوںکی طرح نہ تاخیر سے سوتے اور جاگتے ہیںاور نہ ہی پڑھائی پر وڈیو گیم کوترجیح دیتے ہیں۔دیہاتی بچے اپنی اعلیٰ قابلیت کی وجہ سے زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں مقام حاصل کر چکے ہیں۔ بڑے بڑے جرنیل‘ انجینئر ‘ ڈاکٹر ‘ اور سائنسدان اپنے گاﺅں کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔
وطن کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دینا ہی ہماری زندگی کا نصب العین ہونا چاہئے۔ ہمیں اپنے شہر اور دیہات آباد و شاداب رکھنے میں اور وطن کو عظیم تر بنانے کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کارلانی ہوں گی۔ یہی ہر سچے پاکستانی کا نصب العین ہونا چاہئے۔