نئے آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر

                                                                                                                                                       چوہدری فرحان شوکت ہنجرا
اسلامی جمہوریہ پاکستان عطیہ خدا وندی ہے تو اس ملک کا محل و قوع آب وہوا ،موسم ،صحرا،قدرتی چراگائیں ،معدنیات ،پانی ،پہاڑ ،کوہسار،زرخیز زمینیں ،سورج کی روشنی ،ساحل سمند ،قدرتی دریا ،جھلیں ،زرعی اجناس ،پھل،سبزیاں ،خشک میوہ جات نجانے کون کون سی نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے اس ملک کے عوام کو عطا نہ کی ہوںلیکن ہم نے آج اللہ تعالیٰ کی نا شکری کر کے لسانیت ،عصبیت گرو ہیت کو اپنا کر تنگ دستی ،بدحالی کی طرف گامزن ہیں جس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔صوبوں کی جانب سے دریاوں کے پانی کی تقسیم کے 1991 کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کے انکشاف سے ملک کو معیشت کو سالانہ22 ارب ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے ارسا نے حکومت کو تجویز کر دیا ہے کہ 2025 تک اگر نئے آبی ذخائر تعمیر نہ کیے گئے تو ملک میں پانی کی قلت بحرانی کیفیت اختیار کر جائے گی ۔جبکہ ماہرین کا بر ملا کہنا ہے کہ پانی کی قلت سے بچنے کے لیے دیا میر بھاشا ،کالا باغ ،اکھوڑی ،مہمند،کرم تنگی،بونجی،منڈاداسو ڈیم فوری تعمیر کرنا ہوں گے۔ارسا کے ذمہ دار زرائع کا کہنا ہے کہ پانی کے تقسیم کے معاہدے پر 1991 میں چارو ں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے دستخط کیے یہی نہیں بلکہ کالا باغ ڈیم سمیت نئے آبی ذخائر کو تعمیر کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔جبکہ مشترکہ مفادات کونسل نے اس کی توثیق کی مگر 22 سال میں اس معاہدے کی ایک شق پر بھی عمل نہیںہوا آبی ماہرین کہ کہنا ہے کہ نئے آبی ذخائر فوری تعمیر کرنا ہوں گے کیو نکہ تربیلا ڈیم کی زندگی بھی صرف 30 برس رہ گئی ہے۔ملک میں زیر زمین پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے اور سطح زمین کے اوپر نئے آبی ذخائر کے نہ ہونے کی بدولت پانی کا ضیاع ہو رہا ہے اور سیلاب کی صورت میں ہر سال جہاں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے وہاں دوسری جانب دریاوں کے کٹائو سے زرعی زمینیں دریا برد اور زرعی فصلیں تباو برباد ہو رہی ہیں ۔کاشت کار طبقہ چاہے صوبہ پنجاب ،خیبر پختو نخواہ ،سندھ یا بلوچستان کا ہو سبھی محب وطن ہیں۔لیکن کالا باغ ڈیم جو پاکستا ن اور اس کے عوام کے لیے ایک ڈرونا خواب بن چکا ہے ۔اس کی تعمیر کے ایشو کے حوالے سے صوبہ سندھ اور خیبر پختو نخواہ سے اس قدر شدید ردعمل دیکھنے میں آتا ہے کہ ملک کی بعض قومی سیاسی جماعتیں اور قوم پرست جماتیں اس ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے ملک کے ٹوٹنے تک کی باتیں کہہ ڈالتی ہیں جو کہ قابل مذمت ہیں ۔قومی و نجی ٹی وی چینلز پر اگر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے سیاسی رہنمائوں و قوم پرست رہنمائوں کی گفتگو میںسب کا یہی موقف ہوتا ہے کہ ہم کوئی ٹیکنیکل ماہر تو نہیں لیکن کالا باغ ڈیم منصوبہ ہمیں قبول نہیں یہ ان کی کوئی دلیل نہیں بلکہ اس سے تاثر سامنے آتا ہے کہ خواہ مخواکی مخالفت ہے ۔ اگر اعتراضات کرنے والوں کا موقف درست  ہے تو انہیں چاہیئے کہ وہ زبانی جمع خرچ اور پروپیگنڈے کی بجائے مشترکہ مفادات کونسل ارسا کے پاس اپنے اعتراضات جمع کروائیں تا کہ ان کے موقف کو سنا جائے اور ابہام کو ختم کیا جا سکے ۔سابق چئیرمین وپڈا شمس الملک جو کالا باغ ڈیم کے پرو جیکٹ ڈائیریکٹر بھی رہ چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ میرا خود تعلق صوبہ خیبر پختو انخوا کے ضلع نوشہرہ سے ہے اور اس ڈیم کی تعمیر کرنے کے بارے جو خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ ڈوب جائے گا صریحا غلط ہے ان کا مزید کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے صوبے میں زرعی طور پر خوشحالی اور غیر آباد زمینیں آباد ہوں گی۔ان کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کے حوالے سے صوبہ سندھ میں جو سیاسی جماعتیں اعتراضات کر رہی ہیں کہ اس سے سندھ بنجر ہو جائے گا یہ قطعی طور پر غلط ہے بلکہ اس ڈیم کی تعمیر سے سندھ کو اضافی پانی ملے گا ۔تیسرا ہر سال ملک میں مون سیزن میں سیلابی پانی اس ڈیم میں جمع ہو گا جس سے سیلاب کی ناگفتہ بہ صورتحال سے ہم بچ جائیں گے ۔شمس الملک کا کہنا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کے عوام کو 2 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت پر مہیا ہو گی اب بتائیں کہ کیا پاکستان کے عوام کو 16 روپے فی یونٹ بجلی مہیا کرنا ان سے محبت کرنا ہے یا 2 روپے ،انہوں نے تجویز کیا ہے کہ پھر بھی حکومت اس ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے جن سٹیک ہولڈرز کو اعتراضات ،خدشات ہیں اس حوالے سے ایک قومی کمیشن تشکیل دے ہم سب مل کر اس بارے ایک دوسرے سے باہمی گفت شنید اور پیپر ورک ہوم ورک کی بنیاد پر اس کا اتفاق رائے سے حل نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔لہذا مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام صوبوں کی حکومتی اپوزیشن جماعتوں ،سیاسی و قوم پرست جماعتوں کی قیادتوں آئینی و قانونی ماہرین مشترکہ مفادات کونسل ،ارسا ،پاکستان انجیرنگ کونسل کے ذمہ داران پر مشتمل قومی کمیشن تشکیل دے۔
    دوسری جانب سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کے چیئرمین محمد سلیمان خان نے کہا ہے کہ مخصوص لابی ہمسایہ ممالک سے کیے گئے معاہدوں پر عمل نہیں ہونے دینا چاہتی کالا باغ ڈیم کے بغیر جتنے بھی ڈیم قائم ہو جائیں کالا باغ ڈیم کا نعم البدل نہیں ہو سکتا اس ڈیم کی تعمیر سے 3600 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی اے این پی کالا باغ ڈیم کی مخالف چھوڑ کر محب وطنی کا ثبوت دے انہوں نے مزید کہا کہ مخصوص لابی نہ صرف کالا باغ ڈیم کی مخالف ہے بلکہ ملک چین سے ہم نے کچھ معاہدے کیے ہیں مگر پاکستان مخالف لابی ان معاہدوں پر عمل نہیں ہونے دے رہی ان معاہدوں پر عمل سے پاکستان کا فائدہ ہے اگر ان معاہدوں پر عملدر آمد نہ ہوا تو پھر دنیا میں ہمارا وقار مجروع ہو گا کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے 12 ملین ایکٹر اضافی پانی دستیاب ہو گا اور اس کی تعمیر سے معاشی سرگرمیاں عروج پر پہنچ جائیں گی بلکہ ان معاشی سرگرمیاں سے سندھ میں بہت زیادہ ترقی ہوگی اور بجلی کی بھی بچت ہو گی ۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والے حقائق سے لا علم ہیں اس ڈیم سے نکالی جانے والی ایک نہر سے صوبہ خیبر پختو ہ نخوا کے ڈیرہ اسماعیل خان سمیت 5 اضلاع کو بہت فاہدہ ہوگا اور صوبہ خیبر پختو ہ نخواکو 14 فی صد اضافی پانی ملے گا اس لیے یہاں کی جماعتوں کو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت چھوڑ دینی چاہیے اور وفاقی حکومت کو اس ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عوام کو علم ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے بے شمار فائدہ ہو گا جبکہ پاکستان کے صنعتکار وں ،سرمایہ کاروں نے ملک بھر میں جو سرمایہ کاری کر رکھی ہے ان طبقات کو اس ڈیم میں شئیر ہولڈرز بنایا جائے۔
    لاہورچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کالا باغ ڈیم کو ملک کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوے کہا ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر سے10 لاکھ افراد کو براہ راست روز گار جبکہ سالانہ 300 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ڈھائی کروڑ ایکٹر زمین سیراب ہو گی۔زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے اور روپے کی قدر بھی مستحکم ہوگی اس حوالے سے یہی تجویز ہے کہ ملک کی چیمبر آف کامرس کے زمہ داران پورے ملک میں آگاہی مہم چلائیں سیاستدانوں ،قوم پرست جماعتوں کے قائدین کو مدعو کریں ۔میڈیا میں یہ رپورٹس شائع ہوئی ہیں کہ بھارت کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں سالانہ 17 ارب روپے پاکستان میں خرچ کر رہا ہے مجھے تو سمجھ نہیں آتی بھارت برائے راست پاکستان کے حصے میں آنے والے پانی کو روک رہا ہے اس پر تو کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے بھارتی آبی جارحیت پر آخر کیوں خاموشی اختیار کیے ہوے ہیں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دال میں کچھ نہیں بہت کچھ کالا ہے اگر ابھی بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو ہماری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔
    وزارت پانی و بجلی نے دعویٰ کیا ہے کہ واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا)نے کالا باغ دیم منصوبے کا انجئیرنگ ڈیزائن مکمل کر لیا ہے ڈیم سے سستی اور وافر بجلی پیدا ہو گی ۔3600 میگا واٹ بجلی پیدا ہونے سے سالانہ 4 ارب ڈالر کی بچت ہوگی جبکہ دیا میر بھاشا ڈیم بھی ملک کی اقتصادی صورتحال کے لیے زندگی کی حیثیت رکھتا ہے۔قومی سیاسی دینی،سول سو سائٹی ،وکلا،طلبہ،ڈاکٹرز،کسان تنظیمیں،کسان بورڈ پاکستان ایگری فورم پاکستان ،چیمبر آف کامرس ،تاجر آگنائزیشن نئے قومی آبی ذخائر کی تعمیر کے حوالے سے قومی سطح پر مہم کا آغاز کریں ۔  حکمران معیشت بہتر بنانے ،ڈیمز بنانے ،قومی عزت و غیرت کی پاسداری کے وعدوں کے منشور کے نام پر اقتدار میں آتے ہیں لیکن حکومت میں آنے کے بعد اپنی ہی منشور کی نفی اور وعدوں کو ہوا میں اڑا دیتے ہیں کس قدر افسوس کی بات ہے آج بر سر اقتدار جماعت مسلم لیگ ن کے قائد اور وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف صاحب قوم سے فرما رہے ہیں کہ قوم نے انہیں مینڈیٹ بھارت سے دوستی کرنے کے لیے دیا ہے ،حالانکہ بھارت سے تجارت پاکستان اورملکی معیشت کے لیے کڑوی نہیں زہریلی گولی ہے۔